پی ٹی آئی کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک ایسا پہاڑ ہے جسے کھودنے سے چوہا ہی نکلے گا: سراج الحق

05 اگست 2015

لاہور (آن لائن+ سپیشل رپورٹر) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ ایک ایسا پہاڑ ہے جسے کھودنے سے صرف چوہا ہی نکل سکتا ہے۔ وزیراعظم مولانا فضل الرحمان کو تحریک واپس لینے کیلئے قائل کریں۔ منصورہ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی تربیتی نشست سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ پی ٹی آئی ممبران کو ڈی سیٹ کروانے کی تحریک واپس کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے چاہئیں کیونکہ حکومت پہلے جاتی ہے تو عوام کا خون چوسنے والے سیاستدان شہید بن جاتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے حکومتی وزراء کو مشورہ دیا کہ وہ خود اپنی حکومت کو بحران میں مبتلا نہ کریں۔ وزراء سابق جرنیلوں پر دھرنا کروانے کے دعوے کو ثابت کریں۔ الطاف حسین کے بارے میں بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد کا معاملہ سیاسی کی بجائے آئینی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں خود الطاف حسین نے کراچی میں آپریشن کا مطالبہ کیا تھا اور اب مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تو دوٹوک اعلان کرے کہ وہ الطاف حسین کی شر انگیزیوں کی ذمہ دار نہیں، اسے الطاف حسین کے بیانات سے لاتعلقی کا واضح اظہار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا اب جبکہ مجرموں کے کھرے ایم کیو ایم کی طرف جاتے ہیں اور رینجرز نے ایم کیو ایم کے دفاتر سے مجرموں اور اسلحہ کو پکڑنا شروع کیا ہے تو وہ فوج اور ریاست پر برس رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کو ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی بجائے اپنی صفوں میں چھپے مجرموں کو باہر نکالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہئے، چوکوں اور چوراہوں میں سزائیں سنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو آئین پر عمل درآمد مشکل ہو جائے گا۔ اس کیلئے حکومت کو عدالت اور پارلیمنٹ سے رہنمائی لینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کالاباغ ڈیم متنازع ہے تو بھاشا اور دوسرے ڈیم بنانے چاہئیں تھے مگر حکمرانوں نے 68 سال ضائع کر دیئے۔ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر فضائی نظاروں سے سیلاب زدگان کی کوئی خدمت نہیں ہوتی، حکمرانوں کو چاہئے کہ نیچے اتریں اور ڈوبے ہوئوں کو پانی سے باہر نکالنے کا بندوبست کریں۔ انہوں نے سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری پر بھارت کی بلااشتعال گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت پاگل پن کا شکار اور خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے پر تلی ہے۔ مودی کو پاکستان پر حملہ کرنے کا خیال دل سے نکال کر اپنے کروڑوںغریب عوام کا خیال کرنا چاہئے جو دووقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں اور فٹ پاتھوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عرصہ دراز سے بارڈر قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ عالمی اداروں کو بھارتی اشتعال انگیزیوں کا نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بھارت سے دوستی کی باتیں چھوڑ کر اس کی اشتعال انگیزیوں کا منہ توڑ جواب دیں۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...