مکان سیلاب کی زد میں آگیا، زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، چترالی مزاحیہ فنکار منور شاہ کی دہائی

05 اگست 2015

چترال (بی بی سی) ’’میرا کام لوگوں کو ہنسانا ہے لیکن اب جب میں خون کے آنسو رو رہا ہوں تو میرے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہے‘‘۔ یہ الفاظ ہیں چترال کے مزاحیہ فنکار منور شاہ کے جو سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ منور شاہ کا کہنا ہے میرا مکان سیلاب کی زد میں آیا ہے، مکان میں چھتوں تک مٹی بھر گئی ہے، دیواروں کو نقصان پہنچا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیا اور دیگر تمام چیزیں سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔ سیلاب کے بعد سے اب تک بچ جانے والے رشتہ داروں کے پاس ہوں۔ کیا کروں، ایسی حالت میں حکومت کا منتظر ہوں کہ وہ میری مدد کرے۔ منور شاہ نے کہا کہ اب وہ اپنا فن مزید جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ منور شاہ کا مکان چترال شہر کے علاقے زرگران میں ہے جو انتظامیہ کے دفاتر اور انکی رہائشگاہوں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ منور شاہ نے کہا کہ انکی مثال چراغ تلے اندھیرے والی ہے۔ وہ کرکٹ میچ کی انگریزی زبان میں کمنٹری کی پیروڈی اور چترال میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں کو مزاحیہ انداز میں پیش کرچکے ہیں۔ منور شاہ کے بقول وہ صرف چترال میں نہیں بلکہ کراچی اور پشاور کے سٹیج پر پرفارم کر چکے ہیں اسکے علاوہ انہوں نے خلیجی ممالک میں بھی فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ منور شاہ کی طرح دیگر ایسے بڑی تعداد میں لوگ ہیں جو ان دنوں مشکلات کا شکار ہیں۔