پی ٹی آئی ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس نہ لینے کا حتمی فیصلہ

05 اگست 2015

اسلام آباد (محمد نواز رضا‘ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے جمعیت علماء اسلام (ف) اور متحدہ قومی موومنٹ نے تحریک انصاف کے 28 ارکان کو ’’ڈی سیٹ‘‘ کرنے کیلئے 2 تحاریک واپس نہ لینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے مولانا فضل الرحمن اور الطاف حسین کے خلاف معاندانہ طرز عمل اختیار کرنے پر ’’ڈی سیٹ‘‘ کرانے پر دونوں جماعتیں ہر قیمت پر ووٹنگ کرانے پر اصرار کریں گی۔ مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو ’’ڈی سیٹ‘‘ کرنے کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس سے مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے درمیان اتحاد میں دراڑیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن حکومتی طرز عمل سے نالاں جبکہ تحریک انصاف شاکی نظر آتی ہے جے یو آئی کے ایک لیڈر نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہم تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرانے کی تحریک پر ووٹنگ کراکر سرخرو ہوں گے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جے یو آئی کے وفد نے ایم کیو ایم رہنمائوں سے ملاقات کی اور تحریک انصاف کے خلاف تحاریک کے معاملے پر مشاورت کی گئی۔ جے یو آئی اور ایم کیو ایم نے پی ٹی آئی کے خلاف تحاریک واپس نہ لینے پر اتفاق کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ ہوا اور دونوں رہنمائوں نے تحریک انصاف کے خلاف تحاریک پر تبادلہ خیال کیا۔