’’خدا کرے بھارت میں کوئی عورت پیدا نہ ہو‘‘---- جنسی ہراساں کئے جانے سے تنگ خاتون افسر کی شکایت پر انسانی حقوق کمشن کا سربراہ برطرف

05 اگست 2015

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے انسانی حقوق کمیشن کا آوارہ منش سربراہ سنتوش چوبے بھارتی سول سروس کی خاتون افسر کو فیس بک پر اخلاق سے گرے میسجز اور پوسٹس بھیج کر جنسی ہراساں کرتا رہا۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کی خاتون افسر 25 سالہ ریجو یافینا جو ابھی زیرتربیت ہے فیس بک پر اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ میں خدا سے دعا کرتی ہوں کہ کوئی عورت اس ملک (بھارت) میں جنم نہ لے کیوں یہاں ہر قدم پر اسے تنگ کرنے والے احمق اور درندے کھڑے ہیں۔ ریجو بافینا کی شکایت پر پولیس نے سنتوش چوبے کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردیں جبکہ اسے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہی سے حکومت نے برطرف کردیا۔ خاتون آفیسر کے مطابق عدالت میں چوبے کے وکیل نے اس کے ساتھ خاصی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔