مقبوضہ کشمیر: حزب المجاہدین کے کمانڈر کی نعش برآمد کرنے کا بھارتی دعویٰ ، حریت قیادت متحد ہو جائے: شبیر شاہ

05 اگست 2015

سری نگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر کے علاقے بانڈی پورہ میں بھارتی فوج کا حزب المجاہدین کے سینئر کمانڈر کی نعش برآمد کرنے کا دعویٰ،مذکورہ کمانڈر میرگنڈ میں پولیس کی گشتی پارٹی پر حملے کے بعد دریائے جہلم میں کود گیا تھا۔ نماز جنازہ کے بعد ہزاروں افراد کا احتجاجی مظاہرہ، اسلام اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے، کمانڈر طارق میر کو آڈورہ میں سپردخاک کردیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت فوج نے نائید کھئے بانڈی پورہ میں نالے سے حزب المجاہدین کے ایک سینئر اور مطلوب ترین مجاہد کمانڈر کی نعش اسلحہ سمیت برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے مذکورہ کمانڈر سوپور میں ہونے والی ہلاکتوں، موبائل تنصیبات پر حملوں اور میر گنڈ پٹن میں پولیس پر فائرنگ میں ملوث تھا اور سکیورٹی فورسز سے بچنے کیلئے اپنے ایک اور ساتھی عبدالقیوم نجارسمیت دریائے جہلم میں کود گیا تھا۔ دوسری جانب نیشنل فرنٹ کے چیئر مین نعیم احمد خان نے وادی کشمیر سے نوجوانوں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے غیر جمہوری طرز عمل سے سنگین نتائج بر آمد ہونے کا خدشہ ہے اس لئے اس کو فی الفور روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر سے نئی دلی تک حکومتیں اس بات پر مصر دکھائی دے رہی ہیں کہ کشمیری نوجوانوں کو سکیورٹی کے نام پر ٹارگٹ کیا جائے تاہم اس ظالمانہ عمل کا واحد مقصد یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کے جذبہ آزادی کو کچلا جائے۔ حریت قیادت کے درمیان اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے کہاہے کہ ریاستی عوام نے قیادت سے امیدیں وابستہ کررکھی ہیں اور اتحاد و فکر و عمل کے بغیر کوئی بھی تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اپنی رہائش گاہ پر نظر بندی کے دوران ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست کی جغرافیائی سالمیت ،آبادیاتی تشخص اور مزاحمتی قیادت کے خلاف منظم سازشیں ہو رہی ہیں اور وقت کا تقاضاہے کہ ہم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ان سازشوں کا مقابلہ اور آنے والی نسل کے قومی مفادات کا تحفظ کریں۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع پونچھ کے علاقے سیلن سرنکوٹ میں17برس قبل بھارتی فوجیوں کے ہاتھوںشہید کئے گئے 19افراد کی برسی کے موقعے پر انکے لواحقین نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی دھرنا دیا ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 3اگست 1998ء کو سرنکوٹ کے گائوں سیلن بھارتی فوجیوںنے 11بچوں سمیت19افراد کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا جبکہ دھرنے میں 29جون 1999ء کو موہرا باچھی سرنکوٹ میں فوجیوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے 15افراد کے ورثاء بھی شامل تھے۔