افغانستان میں ملا عمر کی غائبانہ نماز جنازہ پر پابندی عائد کر دی گئی

05 اگست 2015

کابل (این این آئی) افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے طالبان رہنما ملا عمر کے حوالے سے تمام سوگ کی تقریبات پر پابندی عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسا کرنے والے افغان فورسز کے ہدف بن سکتے ہیں۔ یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب رپورٹس کے مطابق افغان فورسز نے غزنی میں ملا عمر کی غائبانہ نماز جنازہ کو نشانہ بنایا جس کے دوران کئی عسکریت پسند مارے گئے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے ترجمان حسیب صدیقی نے کہا کہ ملا عمر جنگ اور افغانستان کی حالیہ تاریخ میں پسماندگی کی وجہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہزاروں افغانوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں اور ان کے سوگ میں منائی جانے والی کوئی بھی تقریب اس قوم کے ہزاروں شہیدوں کی توہین ہے۔ انہوںنے کہاکہ افغان حکومت نے تمام سکیورٹی اور دفاعی فورسز کو حکم دیا ہے کہ ان کی حمایت میں نکالی جانے والی کوئی بھی ریلی فوج کے اہداف کا حصہ ہیں۔ غزنی کے ڈپٹی گورنر محمد علی احمدی نے بتایا کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت میں ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ طالبان لوگوں کو زبردستی اس تقریب میں شرکت پر مجبور کررہے تھے جس کے بعد حکومت نے ایک کارروائی کرتے ہوئے پانچ طالبان کو ہلاک کردیا اور تقریب کو روک دیا۔