فاٹا میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکا، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے: قائمہ کمیٹی

05 اگست 2015

اسلام آباد (آئی این پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستوں و سرحدی علاقہ جات کے چیئرمین سینیٹر ہلا ل الرحمن نے کہا ہے کہ فاٹا میں انسانی حقوق پامالی کو روکا اور آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے، فاٹا کے عوام کی ترقی کیلئے کمیٹی اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لائیگی اور فاٹا کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ کمیٹی عدالتی معاملات میںکسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کرنا چاہتی تاہم کمیٹی نے فاٹا کے پولیٹکل ایجنٹس کی انتظامی اور ایگزیکٹو اختیارات پر تفصیلی بحث کی اور کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال روکا جائے۔ منگل کو اجلاس قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ہلال الرحمن کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاذ شنواری کے مسئلے کا مناسب حل نکالا جائے۔ کمیٹی نے نوید خان نامی ایک شخص کی جانب سے جمع کرائی گئی پبلک پٹیشن کا جائزہ بھی لیا جس پرپولیٹکل ایجنٹ اور فاٹا سیکرٹریٹ کے حکام نے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ معاذ شنواری کا مسئلہ پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا اس مسئلے پر مزید بحث سے گریز کیا جائے۔ کمیٹی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے مفاہمانہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہدایات دیں کہ کمیٹی کو اس سلسلے میں رپورٹ بھجوائی جائے ۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ہلال الرحمن نے سینیٹر ہدایت اللہ کی سربراہی میں دو رکنی سب کمیٹی بھی تشکیل دی جس کے ممبران سینیٹر تاج محمد آفریدی اور سینیٹر مومن خان آفریدی ہونگے۔ کمیٹی نے ڈاکٹر عاصم جان کی جانب سے جمع کی گئی عوامی عرضداشت پر بھی تفصیلی غور کیا جو کہ افغان مہاجرین کے وطن واپسی کو یقینی بنانے کے حوالے سے تھی۔