تحریک انصاف نے دبائو سے نکلنے کے لئے حکومت کو آنکھیں دکھانے کا حربہ اختیار کر لیا

05 اگست 2015

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے 28ارکان کو ’’ڈی سیٹ‘‘ کرنے کے لئے جمعیت علما ء اسلام (ف) اور ایم کیو ایم کی تحاریک کا معاملہ ایک بار پھر دو روز کے ملتوی ہو گیا قوی اسمبلی کا پورا اجلاس اس معاملہ کی گتھیاں سلجھانے کی نذر ہو گیا قومی اسمبلی کے اجلاس کا 88فیصد ایجنڈا زیر بحث ہی نہیں لایا جاسکا بظاہر حکومت پاکستان تحریک انصاف کو’’ 40روزہ غیر حاضری ‘‘پر معافی دلوانے کے لئے کوشاں نظر آتی ہے لیکن تحریک انصاف حکومتی رویہ کے بارے میں شاکی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کے ایما پر اس کو دبائو میں رکھنے کے لئے ’’ چوہے بلی‘‘ کا کھیل شروع کر رکھا ہے اس کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے جیسے حکومت ان کو قومی اسمبلی کی رکنیت بھیک کی صورت میں دینا چاہتی ہے۔ منگل کو پارلیمنٹ میں جب سپیکر اسمبلی ایاز صادق کوئی فیصلہ نہ کر سکے ۔سپیکر نے اس معاملہ کو دو روز تک موخر کر کے دونوں جماعتوں کو جمعرات تک کی مہلت دے دی ہے اب تو تحریک انصاف نے بھی حکومت کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں اور اس وقت تک ایوان میں واپس نہ آنے کا اعلان کر دیا جب تک ان کے خلاف تحاریک اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتیں یہ سمجھتی ہے ایک طے شدہ پروگرام کے تحت اسے پارلیمنٹ کو’’ جعلی‘‘ کہنے کی سزا دی جا رہی ہے ۔جمعرات کو ہر صورت میں رائے شماری ہو گی دونوں جماعتوں کو حکومتی حتمی موقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے مشاورتی اجلاس کا پاکستان تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا۔ایوان بالا کی شان ہی کچھ اور ہے چیئرمین میاں رضا ربانی نے بروقت اجلاس منعقد کرنے کی روایت ہی قائم نہیں کی بلکہ اہم ایشوز پر تاریخی رولنگ دے کر اقتدار کے ایوانوں کھلبلی مچا رکھی ہے منگل کو ایوان بالا میں اتفاق رائے دیکھنے میں آیا ایوان بالا نے حفاظتی اقدامات آرڈیننس 2002کے بل( حفاظتی اقدامات) ترمیمی بل 2015کائونٹرویلنگ آرڈیننس ، 2001کی اصلاح اور منسوخی کے بل( کائونٹر ویلنگ بل 2015اینٹی ڈمیپنگ ڈیوٹیز آرڈیننس 2000میں اصلاح اور منسوخی کے بل اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز 2015نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 1990میں اصلاح اور منسوحی کے بل )نیشنل ٹیرف کمیشن بل 2015کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...