’’طوطیا من موتیا تُوں اوس گلی نہ جا‘‘

05 اگست 2015

عرصہ ہوا میں نے ’’گوشے میں قفس کے‘‘ والے آرام کی عادت اپنالی ہے۔ ایک صحافی کے لئے مگر یہ ’’آرام‘‘ تقریباََ ناممکن ہے۔ سوشل میڈیاکے فروغ کے بعد اب ایسی تنہائی کابلکہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس میڈیا کی بدولت تقریباََ ہر روز مجھے اپنی ذات اور کردار کے بارے میں قطعی ناآشنالوگوں کی تحقیق وجستجو کی بدولت کافی چونکا دینے والی معلومات بھی مل رہی ہیں۔
دُنیا کے سامنے خود کو پارسا بناکر پیش کرنے کی بیماری مجھے جوانی کے ان دنوں میں بھی لاحق نہیں رہی جب ’’کریکٹر سرٹیفکیٹ‘‘ نوکری اور رشتے ڈھونڈنے کے لئے تقریباََ لازمی سمجھے جاتے تھے۔ اب تو ہاتھ کو جنبش ہی نہیں بلکہ آنکھوں میں بھی دم باقی نہیں رہا۔ تقریباََ ریٹائرمنٹ کے ان ایام میں دُکھ ہوتا ہے تو صرف ان ’’لفافوں‘‘ کا جو ابھی تک میرا گھر نہیں ڈھونڈ پائے اور ملک ریاض کی مبینہ فیاضی کی بدولت ملا وہ پلاٹ جو نہ جانے پاکستان کے کونسے شہر کے کس سیکٹر میں گم ہوگیا ہے۔ اس کا کچھ اتہ پتہ ملے تو متعلقہ پٹواری کو ڈھونڈ کر اس کی ’’فرد‘‘ حاصل کرنے کو بے قرار ہوں تاکہ مرنے کے بعد میری بیٹیوں کو یقین آجائے کہ ان کا باپ محض بستر پر لیٹ کر کتابیں پڑھتا نہیں مرگیا۔ ان کے مستقبل کے تحفظ کا کچھ بندوبست بھی کرگیا ہے۔
اپنے قطعی ناآشنا مہربانوں کے علاوہ چند بھائیوں جیسے دوست بھی ہیں جو بڑے خلوص کے ساتھ مجھے گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ حامد میر کا شمار بھی ایسے ہی دوستوں میں ہوتا ہے ۔ ’’جیو‘‘ کے ’’خبرناک‘‘ میں مہمان ہوا تو انکشاف کر ڈالا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر صاحب نے ہم دونوں کو ملاعمر سے ملاقات کا بندوبست کردیا تھا۔ وہ خود تو ملاعمر کو ملنے قندھار چلا گیا لیکن میں نے انکار کردیا۔ اس کی بڑی نوازش کہ اس نے لفظ ’’انکار‘‘ پر بات ختم کردی۔ حقیقت جبکہ یہ ہے کہ میں اپنی فطری بزدلی کی وجہ سے پنجابی محاورے والا ’’بکری‘‘ بن گیا تھا۔ ملاعمر سے ملاقات کے امکان پر گفتگو سے قبل ایک قطعی دوسرے معاملے پر وضاحت صحافیانہ دیانت کے حوالے سے البتہ بہت ضروری ہے۔ پہلے اس سے فارغ ہولیا جائے۔
مئی 2013ء کے انتخابات میں ہوئی ’’منظم دھاندلی‘‘ کے الزامات کا جائزہ لینے کے لئے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن نے جب اپنی حتمی رائے کا اظہار کردیا تو خواجہ آصف نے تذکرہ فرمادیا دو ریٹائرڈ جرنیلوں کا۔ پھر ارشد شریف کے ایک شو میں گفتگو فرمائی محمد زبیر نے۔ یہ انکشاف کرنے کے لئے کہ آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ 2011ء میں تحریک انصاف کی مالی معاونت کے لئے چند کامیاب ونامور کاروباری لوگوں سے رابطے کیا کرتے تھے۔ میں ان دونوں کے ’’سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے توکیا ہوا‘‘ مارکہ انکشافات کو شاید اتنی اہمیت نہ دیتا مگر ایک بیان آگیا شہباز شریف کا جس میں انہوں نے مطالبہ کردیا کہ پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے سرکردہ لوگوں پر مشتمل ایک کمیشن بنایا جائے جو دھرنے کے ’’اصل سرپرستوں‘‘ کی نشان دہی کرے۔
شہباز صاحب کے اس بیان نے مجھے ایک پورا کالم لکھ کر ان سے یہ استدعا کرنے پر مجبور کردیا کہ جس گائوں جانا ممکن نہ ہو اس تک پہنچنے کے راستے نہیں ڈھونڈا کرتے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ فی الوقت لمبے بوٹ پہنیںاور سیلاب کی زد میں آئے علاقوں میں جاکر چٹکیاں بجاتے سرکاری ملازموں کی سرزنش کرتے ہوئے گڈ گورننس کے جلوے دکھائیں۔
میرے جیسے دو ٹکے کے صحافیوں کی رائے اور مشوروں کو طاقتور لوگ اہمیت نہیں دیتے۔ اب تو ویسے بھی پاکستان کے بارے میںاصل فیصلے شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ’’آزاد‘‘ ٹیلی وژن چینلز کی سکرینوں پر براجمان اینکر حضرات کیا کرتے ہیں۔ ان میں سے چند بضد ہیں کہ جنرل پاشا اور ظہیر السلام پر لگائے جانے والے الزامات کے ضمن میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی والا رویہ اپنایا جائے۔ ان کے مطالبے کی شدت نے مجھے ’’طوطیا من موتیا توں اوس گلی نہ جا‘‘ والی سوچ پر مشتمل ایک اور کالم لکھنے پر مجبور کردیا۔
میرے جیسے دو ٹکے کے صحافی محض یادداشت اور جلدی میں اپنے کالم لکھتے ہیں۔ باقی دنیا کے صحافی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ مگر ان کے اداروں میں ہوتے ہیں Fact-Checkingکے قطعی الگ شعبے اور ساتھ ہی ساتھ ایک پورا ڈیسک ذمہ دار ہوتا ہے زبان وبیان کے حوالے سے سرزد ہوئی غلطیوں کو درست کرنے کے لئے۔ پاکستان ایسے غریب ملک کے صحافتی ادارے ایسے شعبوں سے محروم ہیں۔
بہرحال روانی میں مجھ سے خطا ہوگئی کہ میں نے جنرل ظہیر السلام کو ’’عباسی‘‘ لکھ ڈالا۔ وہ کالم شائع ہوا تو میرے بیدار ہونے سے قبل ہی میرے محترم محمد صالح ظافر کی Missed Callsہوچکی تھیں۔ ساتھ میں ان کا پیغام بھی تھا کہ ظہیر اسلام ’’عباسی‘‘ نہیں ’’راجہ‘‘ ہوتے ہیں۔
آج صبح بھائی مظہر برلاس نے تفصیلی وضاحت بھی کردی ہے۔ جنرل ظہیر السلام کے دادا کا نام ہے راجہ کرم خان جنجوعہ۔ والد کا نام بریگیڈئر غلام محمد جنجوعہ تھا۔ ان کے تین بڑے بھائی بھی فوج میں رہے ہیں۔ نام ہیں ان کے اظہر السلام جنجوعہ، میجر فخر السلام جنجوعہ اور کرنل مظہر السلام جنجوعہ۔ آبائی گائوں ان کا مٹور ہے۔
اپنی خطا کی اس تفصیلی وضاحت کے بعد لوٹ آتے ہیں مرحوم نصیر اللہ بابر کی طرف۔ مرحوم کے شجرہ نسب سے میری تھوڑی بہت آگاہی ہے۔ مگر اسے بیان کروں تو کوئی میری معلومات سے مرعوب نہیں ہوگا۔
موصوف اپنی دھن کے پکے اور کافی ضدی انسان تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان پر اندھا اعتماد تھا۔ صحافی ان کی درشت نظر آنے والی شخصیت سے ذرا بچ کررہتے تھے۔ میں ان کی زد میں اس لئے بھی زیادہ رہتا کہ محترمہ ان دنوں میرے انگریزی میں لکھے کالموں کو باقاعدگی سے پڑھ کر اکثر میرے پھکڑ پن سے ناراض اور میری ’’جاہلیت‘‘ سے خفا رہتی تھیں۔ بابر صاحب محترمہ کو تسلی دینے کے لئے میری تصحیح کا وعدہ کرتے اور میں ان کی دسترس میں اس لئے بھی آجاتا کہ وہ The Nationمیں میرے ساتھ کام کرنے والی ’’چیتا رپورٹر‘‘ مریانہ بابر کے فرسٹ کزن بھی تھے۔ حامد میر بھی مجھ سے کہیں زیادہ ’’تخریب کار‘‘ رپورٹر ہونے کی وجہ سے بابر صاحب کے چنگل سے آزاد نہ ہوپاتا۔
ہوا بس یہ تھا کہ ایک سفارتی تقریب میں مجھے ایک یورپی سفارت کار نے بڑی پریشانی سے بتایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ارجنٹائن کی کسی کمپنی کے ساتھ مل کر افغانستان میں ایک ’’خطرناک کھیل‘‘ رچانے والی ہے۔ جس یورپی سفارت کار نے میرے ساتھ اپنی ’’پریشانی‘‘ کا اظہار کیا تھا اس کا تعلق ایک ایسے ملک سے تھا جو احمد شاہ مسعود کے گروپ کا بہت طاقت ور حامی مانا جاتا تھا۔ میں نے سفارت کار کی بات کو اہمیت اس لئے نہ دی کہ میری دانست میں ارجنٹائن بھی پاکستان جیسا ایک ترقی پذیر ملک تھا۔ لاطینی امریکہ ویسے بھی افغانستان سے بہت دور ہے۔ میرے بھیجے میں یہ بات سما نہ سکی کہ افغانستان ایسا ملک جہاں امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ایران اور سعودی عرب جیسے طاقتور یا ہمسایہ ممالک اپنا اپنا کھیل رچانے میں ناکام ہورہے تھے، وہاں لاطینی امریکہ کا ایک نسبتاََ کمزور دکھتا ملک کیا لینے آئے گا۔ چند ہی روز بعد مگر ایک اور سفارتی تقریب میں ایک امریکی سفارت کار نے بڑے طنزیہ انداز میں یہ ’’خبر‘‘ فراہم کی کہ ان دنوں ارجنٹائن کے پاکستان میں مقیم سفیر’’ پولو کے دلدادہ‘‘ آصف علی زرداری کے لئے اپنے ملک سے بڑے ’’قیمتی گھوڑے‘‘ منگوارہے ہیں۔
میں یہ سب باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے کے بجائے ذہن کے کسی کونے میں ڈالتا رہا تو ملاقات ہوگئی میری ’’حساس ادارے‘‘ کے ایک اہم افسر سے جو اس بات پر بہت چراغ پا تھے کہ نصیر اللہ بابر افغانستان کے حوالے سے کوئی ایسی ’’گیم‘‘ لگارہے ہیں جو ہمارے ان دنوں بہت ہی پیارے افغان مجاہد گل بدین حکمت یار کو پاکستان سے برگشتہ کررہی ہے۔
پوری دُنیا اور ہمارے اپنے صحافیوں کی اکثریت کا ایمان کی حد تک یقین ہے کہ طالبان کے اصل سرپرست ہمارے ’’حساس ادارے‘‘ تھے۔ اپنی ذاتی معلومات کی بدولت اصرار میرا یہ ہے کہ طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کے امکانات کو سب سے پہلے نصیر اللہ بابر نے دریافت کیا اور اپنی وزیر اعظم کو ان کی کسی طور حمایت(سرپرستی نہیں) پر مجبورکیا۔ وزیر اعظم کے دفتر میں طالبان کے حوالے سے سب سے زیادہ ان دنوں ٹی وی سکرینوں پر خارجہ امور کے ماہر اور کرپشن کے خلاف ڈٹے مجاہد بنے ظفر ہلالی کی طرف سے بات ہورہی تھی۔ وہ سمجھ ہی نہیں پارہے تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی ’’لبرل اور روشن خیال‘‘ وزیر اعظم طالبان کے لئے کوئی نرم گوشہ کیسے رکھ سکتی ہے۔ میں بھی ذاتی طورپر اسی ’’لبرل‘‘ تعصب کا شکار ہوکر طالبان کے بارے میں ’’منفی‘‘ کہانیاں لکھتے ہوئے محترمہ اور بابر صاحب کو پریشان کرتا رہا۔ حامد میر کا رویہ اگرچہ قطعی برعکس تھا۔
تو یہ تھا وہ تناظر جس میں بابر صاحب نے ہم دونوں کو ملاعمر سے ملوانے کا بندوبست کیا حامد جی دار تھا۔ بازی لے گیا۔ میں طاقتور ملکوں کے سفارت کاروں کی باتوں سے جان چکا تھا کہ محترمہ کو طالبان کی کامرانی سے قبل ہی ’’فارغ‘‘ کردیا جائیگا۔ اسی لئے ’’بکری‘‘ ہوگیا اور 2015ء میں اپنے اس حوالے سے ’’بکری‘‘ بن جانے پر اتنا شرمندہ بھی نہیں۔