بیانات کی دوڑ میں سب سے آگے!

05 اگست 2015

پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ‘ ون ڈے اور20‘ 20 میچوں کی سیریز جیتنے میں کامیاب رہی۔ حقیقی معنوں میں یہ ایک اچھی‘ قابل ذکر اور حوصلہ افزا کارکردگی ہے۔ اس کا کریڈٹ سب سے پہلے کھلاڑیوں‘ پھر کوچنگ سٹاف‘ سلیکشن کمیٹی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹاپ آفیشلز کو بھی دیا جانا چاہئے کیونکہ کسی بھی جگہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر سب سے پہلے اور سب سے زیادہ تنقید کا سامنا بھی انہی کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ قومی ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت سے فیلڈنگ کا معیار بہتر ہوا ہے۔ وقار یونس کی اس بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ ٹیم کی سوچ تبدیل ہو گئی ہے‘ لیکن یہ حقیقت ہے کہ تبدیلی کا عمل اور یہ کٹھن سفر شروع ضرور ہو چکا ہے۔ وقاریونس کے اس بیان پر بھی ان سے محبت کرنے والے تنقید کا سامنا کئے بیٹھے ہیں۔ اسی طرح وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کے ٹونٹی ٹونٹی ٹیم سے ڈراپ کئے جانے یا آرام دینے کے معاملے پر ایک پرانی بحث پرانے انداز میں شروع ہو گئی ہے۔ سرفراز کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ پاکستان کا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔ ایک باصلاحیت کھلاڑی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ نائب کپتان ہے۔ اسے کپتانی کرنا پڑ گئی تو وہ کیسے کھلاڑیوں میں عزت بنائے گا۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ وقار یونس بن رہے ہیں۔ کوئی شاہد آفریدی سے کیوں نہیں پوچھتا کہ بھئی تم اتنے ’’پھنے خان‘‘ کپتان ہو‘ تمہاری موجودگی میں تمہارے نائب کے ساتھ بُرا سلوک کیا جا رہا ہے۔ کرکٹ میں حتمی گیارہ کھلاڑیوں کا سب سے بڑا ذمہ دار کپتان خود ہوتا ہے۔ یہاں یہ سوال جائز ہے کہ نائب کپتان کو باہر کیوں بٹھایا گیا‘ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی معیار میں پورا اترتا ہے کہ کیا واقعی کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو نائب کپتان مخصوص علاقے کے مخصوص افراد کی تنقید سے بچنے اور انہیں خوش کرنے کیلئے بنایا تھا۔ اس پر تو بات نہیں کی جاتی‘ رہا سوال سرفراز کی عدم موجودگی کا تو کیا کل سے کامران اکمل کے جس علاقے سے تعلق رکھتا ہے وہاں کے لوگ بھی احتجاج شروع کر دیں۔ کیا محمد رضوان کے شہر کے لوگ بھی ان کی ہر فارمیٹ میں شمولیت کیلئے ’’تماشا‘‘ لگا دیں۔کیا اعزاز چیمہ کے جاننے والے بھی کرکٹ بورڈ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگا دیں۔ کیا معین خان کو عہدے سے ہٹائے جانے پر ان کے پرستار بھی مظاہرے شروع کر دیں۔ عجب تماشا ہے بدقسمتی ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں کو بھی متنازعہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ سابق چیف سلیکٹر محمد الیاس سری لنکا میںحاصل ہونے والی کامیابیوں کو مافیا کی مرہون منت قرار دیتے ہیں تو کرکٹ برادری کے لوگوں نے سرفراز احمد کے مسئلے پر طوفان کھڑا کر دیاہے۔ کیا سرفراز احمد کو باہر بٹھانے سے ٹیم کا توازن خراب ہوا۔ کیا ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر پڑا۔ کیا ٹیم کی فتوحات کا سلسلہ رکا؟ اگر نہیں تو پھر خوشی منائیں کہ ہمارے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے‘ لیکن شاید ہر کوئی بیانات کی دوڑ میں آگے نکلنے اور دوسروں کو بُرا بھلا کہہ کر خود کو سب سے بڑا مفکر‘ محب وطن اور درد دل رکھنے والا اور ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ایسے معاملات کو ہوا خود کرکٹ بورڈ کے ٹاپ آفیشلز دیتے ہیں اور کوئی پوچھے سابق نگران وزیراعلیٰ‘ سینئر تجزیہ کار‘ کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور موجودہ ایگزیکٹو کمیٹی کے قائد مسٹر نجم سیٹھی کو اس معاملے میں کودنے کی کیا ضرورت ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ یہ عوام کا سوال ہے‘ اس پر ضرور بات ہونی چاہئے اور چیئرمین کرکٹ بورڈ کو بھی اس مسئلے پر ضرور استفسار کرنا چاہئے۔ عالی مقام اگر سرفراز احمد کا ٹیم سے ’’آئوٹ‘‘ ہونا عوام کا سوال ہے تو پھر عوام یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ آپ کس طرح بورڈ میں ’’ان‘‘ ہو گے ہیں۔ 

اسی طرح کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہر معاملے میں بیانات کے شوقین ہیں۔ بورڈ کے ٹاپ آفیشلز کسی ایک مسئلے پر بیان بازی کرکے ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیتے ہیں۔ کیا ٹیم کی کارکردگی پر بیان بازی کرکے ابہام پیدا کرنے سے بہتر نہیں کہ انتظامی معاملات میں بہتری کیلئے توانائیاں صرف کی جائی۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اچھی چیزوں کو تلاش کرکے ان پر بات کریں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اپنی فتوحات کا تذکرہ کرتے ہوئے مثبت پہلوئوں کو اجاگر کریں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ خود اپنے حصے کا کام کریں اور دوسروں کے کاموں میں مداخلت سے دور رہیں؟ لیکن ان سب معاملات میںمثال کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار ہی قائم کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ کی تمام اچھائیوں اور بُرائیوں کا گڑھ کرکٹ بورڈ ہی ہے۔ وہیں سے معیار مقرر کئے جا سکتے ہیں۔