’’ڈوری والی سرکار‘‘۔۔۔!

05 اگست 2015

آرمی چیف راحیل شریف کی رگوں میں شہیدوں کا خون ہے، تین سالوں میں ملک کو نئی زندگی دینے پر کمر بستہ ہیں۔ کراچی کی روشنیاں لوٹ رہی ہیں۔ ضرب عضب کے مثبت نتائج کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وزیر داخلہ نثار چوھدری کا بیان ہے کہ ’’جنرل راحیل کو قوم،حکومت اور فوج کا اعتماد حاصل ہے‘‘۔جبکہ بیان یہ ہونا چاہئے تھا کہ ’’ قوم،حکومت اور فوج کو جنرل راحیل شریف کا اعتماد حاصل ہے۔حکومت اور قوم ’’ڈنڈے‘‘ کی زبان سمجھتی ہیں۔شہباز شریف نے بیان دیا کہ ’’الطاف حسین دشمن کے لیئے کام کر رہے ہیں‘‘ جبکہ دھرنا سازش بے نقاب کرنے پر بھی سیاست کھیلی جا رہی ہے۔شیخ رشید اور سپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق کے درمیان ایک دلچسپ مکالمہ ہوا۔ شیخ رشید نے کہا کہ انہوں نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسمبلی سے استعفیٰ نہیں دیا تھا، اگر وہ ایسا کرتے تو سپیکر ان کا استعفیٰ قبول کر لیتے۔ ایاز صادق نے کہا کہ آپ نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی، اگر ایسا کرتے توجو سلوک ارکان تحریک انصاف کے ساتھ کیا تھا، ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا۔شیخ رشید مسکرا دیئے۔ ’’ڈوری والی سرکار‘‘ کا ٹائوٹ اپنی سیاسی بصیرت کو خود ہی تھپکیاں دیتا رہتا ہے۔ عمران خان کے خلاف سب سے بڑی سازش شیخ رشید ہے ،یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جن لوگوں سے شیخ رشید کا تعلق ہے، ان کا اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ عمران خان کی ’’یو ٹرن‘‘ پالیسیاں اور ’’کانوں کے کچّے‘‘ ہونے کی شہرت ان کے غلط فیصلوں کا سبب بنیں۔ ’’کپتان‘‘ کی محبت میں مشیروں کو مورد الزام ٹھہرا کر غصہ ٹھنڈا کر لیا جاتا ہے ورنہ جو شخص غیر مستقل مزاجی کا شکار ہو ، ملک اس کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان دوسرے سیاستدانوں کی طرح کرپٹ نہیں ،یہی ایک صفت اس کے چاہنے والوں کو اس کا گرویدہ بنائے ہوئے ہے مگر ایک خوبی کے ساتھ کمزوریاں بھی منسلک ہیں جو وزیر اعظم بننے کی راہ میں حائل ہیں۔ بیرون ملک مقیم طبقہ خان کا ووٹر ہے لیکن اندرون ملک عمران خان کی ایماندارانہ شہرت کے باوجود سیاسی کلچر میں انقلاب نہیں آسکا ۔ بار بار پرانے چہروں کا انتخاب محبت ہے یا مجبوری ؟ اگلے تین سال میں سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں ۔فوج کا تعاون جاری رہا تو میاں نواز شریف سکون سے تین سال نکالیں گے ۔ روحانیت سے منحرف طبقہ اس نقطہ کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ نواز شریف کے رمضان کے آخری ایام حرمین شریفین گزارنے کے بعد ان کی حکومت کو در پیش خطرات ٹل جاتے ہیں۔ بعداز دھرنا تحریک انصاف اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ خان میں سیاسی بصیرت ہوتی تو کھوٹے سکے استعمال کرنے کی غلطی نہ کرتے۔ عمران خان مردم شناس نہیں اور ’’زنانی شناس‘‘ ّبھی نہیں۔ شیخ رشید نے تحریک انصاف سے استعفے دلوا دیئے مگر اپنی سیٹ کو جپھا مارے رکھا۔ پُتلی تماشوں کے پیچھے ڈور کا اہم کردار ہے۔ ایم کیو ایم کو بنانے والے دنیا سے رخصت ہو چکے، اب ’’مُکانے‘‘ والے آگئے ہیں۔ دھاندلی عمران خان کا مضبوط کارڈ تھا، وہ بھی استعمال ہو گیا، اب ٹوکری میں کیا بچا ہے؟ بجلی، مہنگائی، بیروزگاری، دہشت گردی ،روٹی کپڑا مکان کی طرح گھسے پٹے نعرے ہیں، لوگ ان نعروں اور کھوکھلے وعدوں سے بیزار ہیں البتہ دھاندلی کا ’’پتا‘‘ مزید تین سال لٹکایا جا سکتا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں زبردست کام ہو رہاہے۔ کراچی میں سکون لوٹ رہا ہے۔ ضرب عضب اور کراچی آپریشن نے قوم کو ذہنی تحفظ مہیا کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت بھی بہتر ہو رہی ہے۔ دو سال میں کئی منصوبوں پر کام ہو چکا ہے اور مزید تین سالوں میں مزید تبدیلی کی امید ہے۔میاں نواز شریف سیاست میں اپنی آخری اننگ کھیل رہے ہیں ، بیٹے سیاست سے باہر ہیں ،مریم نواز ’’اِن‘‘ ہیں ،اصل میچ میاں شہبازشریف کھیلتے ہیں ۔خواجہ آصف اور شہباز شریف کی سوچ اور رویے مختلف ہیں ، آئیندہ الیکشن میں کامیابی اورشہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کی صورت میں خواجہ آصف کو اپنی حیثیت کا ادراک ہو جائے گا۔ سیاست میںحالات کبھی بھی پلٹا کھا سکتے ہیں مگر آج کی صورتحال کے تناظر میں اگلے الیکشن بھی مسلم لیگ نون کی تقدیر دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت کو بھی ’’ڈنڈا‘‘ چلا رہا ہے۔ دھرنا ایک سنگین فیصلہ تھا ، ’’ڈور والی سرکار‘‘ کی نذر ہو گیا۔ ’’ٹائوٹ‘‘ کا ماضی یاد رکھتے تو اس کو جاوید ہاشمی پر کبھی فوقیت نہ دی جاتی۔ ’’ڈوری والی سرکار‘‘ کو شاہ محمود قریشی بھی عزیز ہے۔ ’’ڈوری والی سرکار ‘‘ کو ہمیشہ داغدار سیاستدان عزیز رہے ہیں تاکہ ان کی کمزوریوں کو کیش کرایا جا سکے۔ تحریک انصاف کے داغدار افراد آج خان کے مشیران خاص ہیں لیکن کل وہاں ہوں گے جہاں عمران خان انہیں دیکھنا نہیں چاہیں گے۔