طوطی ہند امیر خسرو

05 اگست 2015

مولانا شبلی نعمانی
ترکوں کا ایک قبیلہ لاچین کے لقب سے مشہور ہے۔ حضرت امیر خسرو اسی قبیلے کے ہیں۔ ان کے والد کا نام سیف الدین محمود ہے۔ ترکستان میں ایک شہر کش ہے۔ وہاں کے رہنے والے اور اپنے قبیلے کے رئیس تھے۔ فرشتہ اور دولت شاہ نے لکھا کہ بلخ کے امرا میں سے تھے چنگیزخان کا فتنہ جب اٹھا تو سیف الدین ہجرت کر کے ہندوستان میں آئے اور سلطان محمد تغلق کے دربار میں ایک بڑے عہدہ پر مامور ہوئے محمد تغلق ان کی نہایت قدرو منزلت کرتا تھا۔ ایک مہم میں کفار سے لڑکر شہید ہوئے۔
لیکن صاحب بہارستان سخن، تاریخی استدالال سے اس واقعہ کا نا ممکن ہونا ثابت کرتے ہیں۔
بہر حال سیف الدین کے تین بیٹے تھے۔ اعزالدین، حسام الدین، اور امیر خسرو، سیف الدین کے انتقال کے وقت امیر صاحب کی عمر 7 برس کی تھی۔ امیر صاحب کی والدہ عماد الملک کی بیٹی تھیں جو مشہور امرائے شاہی میں تھے اوردس ہزار فوج کے افسر تھے۔ امیر صاحب 605ھ میں بمقام پٹیالی پیدا ہوئے۔ قدیم خوش اعقادی نے یہ روایت پیدا کی کہ جب وہ پیدا ہوئے تو امیر سیف الدین ایک خرقہ میں لپیٹ کر ایک مجذوب کے پاس لے گئے۔ مجذوب نے دور ہی سے دیکھ کر کہا کہ وہ شخص آتا ہے جو خاقانی سے بھی دو قدم آگے جائے گا۔ جب انہوں نے ہوش سنبھالا تو ان کے والد نے ان کو مکتب میں بٹھایا اور خوشنویسی کی مشق کے لئے مولانا سعید الدین خطاط کو مقرر کیا۔ لیکن امیر صاحب کو پڑھنے لکھنے کے بجائے شعر گوئی کی دھن رہتی تھی۔ جو کچھ موزوں ناموزوں کہہ سکتے تھے کہتے تھے اور وصیلوں پر اسی کی مشق کرتے تھے۔ خواجہ اصیل کو توال کے نائب تھے۔ وہ کبھی کبھی سعدالدین خطاط کو خطوط وغیرہ لکھوانے کو بلالیا کرتے تھے۔ ایک دن بلایا تو امیر بھی ساتھ گئے۔ خواجہ اصیل کے مکان پر خواجہ عزیز الدین بھی تشریف رکھتے تھے۔ سعیدالدین نے خواجہ صاحب سے کہا کہ یہ لڑکا ابھی سے کچھ غوں غاں کرتا ہے۔ معلوم نہیں کہ موزوں بھی کہتا ہے کہ نہیں؟ آپ ذرا اس کے کلام کو سن لیجئے۔ خواجہ عزیز کے ہاتھ میں اشعار کی بیاض تھی۔ امیر صاحب کو دی کہ کوئی شعر پڑھو۔ امیر صاحب نے نہایت خوش الحانی سے پڑھا۔ چونکہ آواز میں قدرتی تاثیر تھی، لوگوں پر اثر ہوا۔ سب کی آنکھیں بھر آئیں۔ اور سب نے بے اختیار تحسین کی۔ ان کے استاد نے کہا۔ شعر گوئی میں امتحان لیجئے۔ خواجہ عزیزالدین نے چار بے جوڑ چیزوں کا نام لیا کہ ان کو ملا کر شعر کہو۔ مو، بیضہ، تیر، خرپزہ، امیر صاحب نے برجستہ کہا۔
ہر موئے کہ دردوزلف آن صنم است
صد بیضئہ عنبریں برآن موے صنم است
چوں تیر مداں راست دش راز یرا
چوں خرپزہ دندانش درون شکم است
خواجہ عزیز الدین کو سخت حیرت ہوئی۔ پوچھا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا خسرو، باپ کا نام پوچھا انہوں نے اصل نام کے بجائے قبیلہ کا نام بتایا یعنی لاچین۔ خواجہ صاحب نے ظرافت سے کہا لاچین یعنی ’’چین نہیں‘‘ پھر کہا ’’ترک خطاست‘‘ یعنی ان کو ترک کہنا خطا ہے؟ انہوں نے اسی لفظ کو الٹ کر کہا ’’بے خطاترک است‘‘ یعنی قطعاً وہ ترک ہے۔ خواجہ صاحب نے کہا چونکہ تم کو دربار سلطانی سے تعلق ہے اس لئے تم کو سلطانی تخلص رکھنا چاہئے۔
چنانچہ تحفتہ الصغر کی اکثر غزلوں میں یہی تخلص ہے۔
امیر کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی کی تحصیل تمام تھی۔ لیکن تذکرہ نویسیوں نے اس کے متعلق کچھ تفصیل نہیں لکھی۔ تاہم یہ قطعی ہے کہ 15 یا 20 برس کی عمر میں یہ تمام درسی علوم و فنون سے فارغ ہوچکے تھے۔
جامعیت کمالات
ہندوستان میں چھ سو برس سے آج تک اس درجہ کا جامع کمالات نہیں پیدا ہوا۔ اور سچ پوچھو تو اس قدر مختلف اور گونا گوں اوصاف کے جامع، ایران ور وم کی خاک نے بھی ہزاروں برس کی مدت میں دوہی چار پیدا کئے ہوں گے۔ صر ف ایک شاعری کو لو تو ان کی جامعیت پر حیرت ہوتی ہے، فردوسی، سعدی، انوری، عرفی، نظیر بے شبہ اقلیم سخن کے بادشاہ ہیں۔ لیکن ان کی حدود حکومت ایک اقلیم سے آگے نہیں بڑھتی، فردوسی مثنوی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سعدی قصیدہ کو ہاتھ نہیں لگاسکتے۔ لیکن امیر صاحب کی جہانگیری میں غزل، مثنوی، قصیدہ، رباعی، سب کچھ دا خل ہے اور چھوٹے چھوٹے خطہ ہائے سخن یعنی نظمیں، مستزاد اور ضائع و بدائع کا تو شمار نہیں۔ تعداد کے لحاظ سے دیکھو تو اس خصوصیت میں کسی کو ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں ہوسکتا ہے۔ فردوسی کے اشعار کی تعداد کم و بیش ستر ہزار ہے۔ صائب نے ایک لاکھ شعر سے زیادہ کہے ہیں۔ لیکن امیر صاحب کا کلام کئی لاکھ سے کم نہیں۔ اکثر تذکروں میں خود امیر صاحب کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ان کا کلام تین لاکھ سے کم ہے لیکن اس میں غالباً ایک غلط فہمی ہے۔ امیر صاحب نے ابیات کا لفظ لکھا ہے اور قدما کے محاورہ میں بیت ایک سطر کو کہتے ہیں۔ چنانچہ نثر کی کتابوں کے متعلق یہ تصر یحیں جابجا نظر آتی ہیں کہ اس میں اس قدر بیتیں ہیں۔
ان سب پر مستزادیہ کہ اوحدی نے تذکرہ عرفات میں لکھا ہے کہ امیر صاحب کا کلام جس قدر فارسی میں ہے۔ اسی قدر برج بھاشا میں ہے۔ کسی قدر افسوس ہے کہ اس مجموعہ کا آج نام و نشان بھی نہیں۔
مختلف زبانوں کی زبان دانی کا یہ حال ہے کہ ترکی اور فارسی اصلی زبان ہے عربی میں ادبائے عرب کے ہمسر ہیں۔ سنسکرت کے ماہر ہیں۔ چنانچہ مثنوی نہ سپہر میں تواضع کے لہجہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔
من قدرے برسر ایں کارشدم
شاعری کے بعد نثاری کا نمبر ہے۔ اس وقت تک کسی نے نثر لکھنے کے اصولی اور قاعدے نہیں مرتب کئے تھے۔ انہوں نے ایک مستقل کتاب اعجاز خسروی تین جلدوں میں لکھی، اور اگرچہ افسوس ہے کہ زیادہ تر زور ضائع و بدائع پر بے کار کیا۔ لیکن ان کی طباعی ذہانت سے کون انکار کرسکتا ہے۔
موسیقی میں یہ کمال پیدا کیا کہ نایک کا خطاب ان کے بعد آج تک پھر کوئی شخص حاصل نہ کرسکا۔ چنانچہ اس کی تفصیل مستقل عنوان میں آتی ہے۔
ان مختلف الحیثیات مشغلوں ے ساتھ فقرو تصوف کا یہ رنگ ہے کہ گویا عالم قدس سوا دنیائے فانی کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔
ان سب باتوں کے ساتھ جب اس پر نظر کی جاتی ہے کہ ان کاموں ں مشغول ہونے کے لئے وقت کس قدر ملتا تھا، تو سخت حیرت ہوتی ہے۔ وہ ابتدا سے ملازمت پیشہ تھے اور درباروں میں تمام دن حاضری دینی پڑتی تھی۔ کام جو سپرد تھا۔ وہ شاعرینہ تھی بلکہ اور اشغال تھے۔