سُخن کا طلسم خانہ

05 اگست 2015

امیر خسروؔ نے جن کی طبیعت اختراع میں اعلیٰ درجہ صنع و ایجاد کا رکھتی تھی ۔ ملک سخن میں برج بھاشا کی ترکیب سے ایک طلسم خانہ انشاء پردازی کا کھولا خالق باری جس کا اختصار آج تک بچوں کا وظیفہ ہے کئی بڑی بڑی جلدوں میں بھی۔ اس میں فارسی کی بحروں نے اوّل اثر کیا اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کون کون سے الفاظ مستعمل تھے جو اب متروک ہیں اس کے علاوہ بہت سی پہیلیاں عجیب و غریب لطافتوں سے ادا کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فارسی کے نمک نے ہندی کے ذائقہ میں کیا لطف پیدا کیا ہے۔ مکرنی ، انمل، دو سخنے وغیرہ خاص ان کے آئینہ کا جوہر ہے۔
بنولی کی پہیلی
تِردر سے ایک تریا اتری اس نے بہت رجھایا
باپ کا اس کے نام جو پوچھا آدھا نام بتایا
آدھا نام پتا پر پیارا بوجھ پہیلی موری
امیر خسرو یوں کہیں اپنے نام بنولی
آئینہ کی پہیلی
فارسی بولی آئینہ
ترکی سوچی پائی نا
ہندی بولتے آر سی آئے
منہ دیکھو جو اسے بتائے
ناخن کی پہیلی
بیسیوں کا سر کاٹ لیا
نا مارا نا خون کیا
بڑی بڑی عورتوں کے گانے کیلئے تو ویسے گیت تھے چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو پیار اور سوامی کی یاد میں اس طرح گانا مناسب نہ تھا لیکن دل میں امنگ تو وہ بھی رکھتی تھیں انہیں بھی فصل کی بہار منانی تھی۔ ان کے لیے اور گیت رکھے تھے چنانچہ ایک لڑکی گویا سسرال میں ہے برسات کی رت آئی وہ جھولتی ہے اور ماں کی یاد میں گاتی ہے۔
اماں میرے باوا کو بھیجو، کہ ساون آیا…
یعنی مجھے آ کر لے جائے
بیٹی تیرا باوا تو بڈھاری، کہ ساون آیا…
یعنی وہ کیونکر آ سکتا ہے
اماں میرے بھائی کو بھیجو، جی کہ ساون آیا…
بیٹی تیرا بھائی تو بالا ری، کہ ساون آیا…
یعنی اس کے لیے تو وہ دونوں عذر نہیں
بیٹی تیرا ماموں تو بانکاری، کہ ساون آیا…
بھلا وہ میری کب سنے گا
ایک کنویں پر چار پنہاریاں پانی بھر رہی تھیں۔ امیر خسروکو رستہ چلتے چلتے پیاس لگی۔ کنویں پر جا کر ایک سے پانی مانگا ان میں سے ایک انہیں پہچانتی تھی اس نے اوروں سے کہا کہ دیکھو کھسروؔ یہی ہے انہوں نے پوچھا کیا تو خسرو ہے جس کے سب گیت گاتے ہیں اور پہیلیاں اور مکرنیاں انمل سنتے ہیں انہوں نے کہا ہاں… اس پر ان میں سے بولی کہ مجھے کھیر کی بات کہہ دے۔ دوسری نے چرخہ کا نام لیا۔ تیسری نے ڈھول، چوتھی نے کتے کا، انہوں نے کہا کہ مارے پیاس کے دم نکلا جاتا ہے پہلے پانی تو پلا دو۔ وہ بولیں جب تک ہماری بات نہ کہہ دے گا نہ پلائیں گی۔ انہوں نے جھٹ کہا:
انمل:
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا، آیا کتا کھا گیا، تو بیٹھی ڈھول بجا، لا پانی پلا۔
محلہ کے سرے پر ایک بڑھیا ساقن کی دکان تھی۔چمو اس کا نام تھا۔ شہر کے بیہودہ لوگ وہاں بھنگ چرس پیا کرتے تھے جب یہ دربار سے پھر کر آتے یا تفریحاً گھر سے نکلتے تو وہ بھی سلام کرتی کبھی کبھی حقہ بھر کر سامنے لے کھڑی ہوتی یہ بھی اس کی دل شکنی کا خیال کرکے دو گھونٹ لے لیا کرتے۔ ایک دن اس نے کہا کہ بلالوں، ہزاروں غزلیں، گیت، راگ، راگنی بناتے ہو، کتابیں لکھتے ہو، کوئی چیز لونڈی کے نام پر بھی بنا دو۔ انہیں نے کہا: بی چمو بہت اچھا۔ کئی دن کے بعد اس نے پھر کہا کہ بھٹیاری کے لڑکے کے لیے خالق باری لاکھ دی۔ ذرا لونڈی کے نام پر بھی کچھ لکھ دو گے تو کیا ہو گا۔ آپ کے صدقے سے ہمارا نام بھی رہ جائے گا اس کے بار بار کہنے سے ایک دن خیال آ گیا۔ کہا لو بی چمو سنو:
اوروں کی چوپہری باجے چمو کی اٹھ پہری
باہر کا کوئی آئے نا ہیں آئیں سارے شہری
صاف صوف کر آگے راکھے جس میں ناہیں تو سل
اوروں کے جہاں سینک سمادے چمو کے وہاں موسل
ترجمہ:۔
یعنی یہ بادشاہوں سے بھی بڑی ہیں
جنگلی گنواروں کا کام نہیں سفید پوش آتے ہیں
پیالہ بنگ صاف مصفی حاضری کرتی ہے جس میں تس تنکا نہ ہو
بھنگڑ فخر یہ کہا کرتے کہ ہیں کہ وہ ایسی بھنگ
پیتا ہے کہ جس میں گاڑھے پن کے سبب سے سینک کھڑی رہے۔ آپ مبالغہ کرتے کہ یہ ایسی بھنگ بناتی ہے کہ جس میں موسل کھڑا رہے خیر۔ ان کی بدولت چمو کا بھی نام رہ گیا۔اس طرح کبھی کبھی ڈھکو سلا کہا کرتے تھے کہ وہ بھی انہی کی ایجاد ہے۔
ڈھکو سلا: بھادو پکی پیپلی، چوچو پڑی کپاس، بی مہترانی دال پکائو گی یا ننگا ہی سو رہوں۔
دو سخنے
گوشت کیوں نہ کھایا
ڈوم کیوں نہ گایا، گلا نہ تھا
جوتا کیوں نہ پہنا
سنبوسہ کیوں نہ کھایا، تلا نہ تھا
انار کیوں نہ چکھا
وزیر کیوں نہ رکھا، دانا نہ تھا
دو سخنے فارسی اردو
سوداگر راچہ می باید
بوچے کو کیا چاہیے: دوکان
تشنہ راچہ می باید
ملا کو کیا چاہیے: چاہ
شکار بچہ می باید کرد
قوت مغز کو کیا چاہیے: بادام
موسیقی میں ان کی طبیعت ایک بین تھی کہ بن بجائے پڑی بجتی تھی۔ اس لیے دھر پت کی جگہ قول و قلبانہ بنا کر بہت سے راگ ایجاد کیے کہ ان میں سے اکثر گیت ان کے آج تک ہندوستان کے زن و مرد کی زبان پر ہیں۔ بہار راگ اور بسنت کے میلہ نے انہی کی طبیعت سے رنگ پکڑا ہے بین کو مختصر کرکے ستار بھی انہیں نے نکالا ہے۔
لطیفہ:۔
سلطان جی صاحب کے یہاں ایک سیاح فقیر مہمان آئے۔ رات کو دستر خوان پر بیٹھے، کھانے کے بعد باتیں شروع ہوئیں، سیاح نے ایسے دفتر کھولے کہ بہت رات گئی ختم ہی نہ ہوں۔ سلطان جی صاحب نے کچھ انگڑائیاں کچھ جمائیاں بھی لیں، وہ سادہ لوح کسی طرح نہ سمجھے، سلطان جی صاحب مہمان کی دل شکنی سمجھ کر کچھ نہ کہہ سکے۔ مجبور بیٹھے رہے۔ امیر خسرو بھی موجود تھے مگر بول نہ سکتے تھے کہ آدھی رات کی نوبت بجی۔ اس وقت سلطان جی نے کہا کہ خسرو یہ کیا بجا؟ عرض کی۔ آدھی رات کی نوبت ہے۔ پوچھا: اس میں کیا آواز آتی ہے؟ انہوں نے کہا سمجھ میں تو ایسا آتا ہے۔
نان کہ خوردی خانہ برو، نان کہ خوردی خانہ برو، خانہ برو، خانہ برو، نان کہ خوردی خانہ برو، نہ کہ بدست تو کردم خانہ گرد، خانہ برو خانہ برو۔یعنی کھانا کھالیا اب گھر جائوایک دن کسی کوچہ میں سے گزرہوا ، دُھنیا ایک دکان میں روئی دُھنک رہا تھا۔ کسی نے کہا کہ جس دُھنیے کو دیکھو ایک ہی انداز پر روئی دُھنکتا ہے سب ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں کوئی بولا کہ قدرتی استاد نے سب کو ایک ہی انداز پر سکھایا ہے۔ آپ نے کہا کہ سکھایا ہے اور ایک حرکت میں بھی تال کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔