قوم‘ حکومت اور فوج کا اعتماد حاصل ہونے کا عندیہ

05 اگست 2015

چودھری نثارعلی خان کا کسی مبینہ سازش کیخلاف آرمی چیف کو


وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ پاک فوج کیخلاف ’’ان ہائوس‘‘ سازشوں کی خبریں بے بنیاد ہیں‘ یہ ممکن ہی نہیں کہ دوچار افسر مل کر آرمی چیف کو ہٹا دیں۔ پاک فوج واحد فوج ہے جس نے گوریلا جنگ جیتی ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ’’نادرا‘‘ کے آن لائن درخواست فارم سسٹم کی افتتاحی تقریب اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو فوج‘ حکومت اور پوری قوم کا اعتماد حاصل ہے‘ ہم حالت جنگ میں ہیں‘ ہمیں فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے گزشتہ سال تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران بعض فوجی افسروں کی جانب سے مبینہ طور پر فوجی قیادت کو تبدیل کرنے کی کوشش کے حوالے سے خبروں کی تردید کی اور کہا کہ آرمی چیف نے فوج کے اندر اور پاکستان کے طول و عرض میں عزت کمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ایک ڈسپلنڈ اور پروفیشنل فوج ہے‘ ایسی فوج اس قسم کی ان ہائوس سازشوں کا نہ پہلے نشانہ بنی نہ کبھی بنے گی۔ جس نے بھی یہ خبر پھیلائی اسے اندازہ نہیں کہ فوج کے بارے میں اس قسم کی بات کرنا نہ صرف فوج بلکہ ملک کیلئے بھی برا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آرمی چیف پروفیشنل سپاہی ہیں‘ انہوں نے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں انتھک محنت کی وجہ سے فوج کے اندر اور ملک کے طول و عرض میں عزت کمائی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے نام پیغام میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور اہم کامیابیاں مل رہی ہیں‘ ایسی خبروں کی تشہیر نہیں کی جانی چاہیے‘ ایسی باتیں کرنے کے بجائے ہمیں فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔
بے شک افواج پاکستان ہی وہ واحد آئینی ادارہ ہے جس کی حربی صلاحیت و استعداد بھی مثالی ہے اور ڈسپلن پر بھی کوئی انگلی نہیں اٹھ سکتی بلکہ افواج پاکستان کا ڈسپلن ہی قومی اتحاد و یکجہتی کی بنیاد بنتا ہے۔ اس کا ہر جوان اپنے سپہ سالار کے اشارے پر دفاع وطن کیلئے جان تک نچھاور کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ خدانخواستہ اسکے ڈسپلن میں کہیں ڈھیل یا کمزوری پیدا ہو جائے تو اس سے ملک کا دفاعی حصار کمزور پڑ سکتا ہے اس لئے افواج پاکستان کا ڈسپلن ہی اس کا خاصہ ہے اور یہ ڈسپلن فوجی قیادت کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس کی جھلک کورکمانڈرز کے اجلاسوں میں بھی نظر آتی ہے جس میں تمام کورکمانڈر اپنے سپہ سالار کے کسی بھی فیصلہ کے ساتھ یکجہت ہوتے ہیں اس لئے ایسی ڈسپلنڈ آرمی کی صفوں کے اندر قیادت کے ساتھ کسی قسم کی بغاوت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ماضی میں کسی نے ایسی سازش کی تو وہ کورٹ مارشل کے ذریعے اپنے انجام کو پہنچا۔ افواج پاکستان کے ڈسپلن کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ 12 اکتوبر 1999ء کو اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا اور انکی جگہ نئے آرمی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کے تقرر کے احکام بھی جاری کر دیئے مگر ڈسپلنڈ فوج نے اپنی قیادت کیخلاف اس حکومتی کارروائی کو قبول نہ کیا اور کورکمانڈروں نے اسی وقت ہم مشورہ ہو کر منتخب وزیراعظم ہی کو اقتدار سے نکال پھینکا اور انکے ہاتھوں قانونی طور پر برطرف ہونیوالے آرمی چیف کو انکے اس منصب کے ساتھ تحت اقتدار پر بھی بٹھا دیا۔
جنرل مشرف تو کئی حوالوں سے بطور آرمی چیف بھی متنازعہ تھے جنہیں سنیارٹی کے تقاضوں کے برعکس اس منصب پر فائز کیا گیا تھا جبکہ انکی کارگل والی مہم جوئی بھی انکے گلے پڑی ہوئی تھی۔ اسکے باوجود فوج کی صفوں کے اندر انہیں ہٹانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکی تو موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی پوزیشن تو ان سے قطعی مختلف ہے جنہیں اپنے ادارے کے اندر ہی نہیں‘ قومی سیاسی قیادتوں اور قوم کا بھی مکمل اعتماد حاصل ہے۔ اس وقت اپریشن ضرب عضب میں افواج پاکستان کو جو کامرانیاں حاصل ہو رہی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ہمارے مکار دشمن بھارت کو سرحدوں پر اسکی چھیڑ چھاڑ کا جو دندان شکن جواب مل رہا ہے اس کا سہرا بلاشک و شبہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے سر ہی جاتا ہے اور یہ انکی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے اس لئے عین اس موقع پر جب قوم اپریشن ضرب عضب کے ذریعے کامرانیوں کی منزل سے ہمکنار ہونے کے قریب ہے‘ فوجی قیادت کو متنازعہ بنانے کی کوئی سازش ملک دشمنی سے ہی تعبیر ہو گی۔
بلاشبہ آئین میں فوج کے سیاسی کردار کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور گڑبڑ اسی وقت ہوتی ہے جب کسی طالع آزماء جرنیل کے ذہن میں ماورائے آئین اقدام کے تحت ملک کے منتخب جمہوری نظام پر شب خون مارنے کی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ملک و قوم نے طالع آزمائی کے اسی خناس کے تابع چار جرنیلی آمریتیں بھگتی ہوئی ہیں اس لئے کسی ایسی ہی مہم جوئی کی بھنک جمہوریت کے استحکام کیلئے فکرمند حلقوں کو مضطرب کردیتی ہے۔ گزشتہ سال عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے حکومت مخالف لانگ مارچ اور دھرنوں کے دوران سیاست کا جو انداز اختیار کیا گیا اس سے بادی النظر میں انہیں مقتدر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہونے کا تاثر پیدا ہوا جبکہ عمران خان اور طاہرالقادری خود بھی اپنے فیصلوں‘ اعلانات اور اقدامات سے اس تاثر کو پختہ کرتے رہے اور منتخب حکومت کیلئے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والی منظر کشی کرتے اپنے اقتدار کی نوید سناتے رہے۔ اگر انہیں فی الواقع مقتدر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہوتی تو اس وقت مقتدر قوتوں کو اشتہاء دلانے والی سیاسی مہم جوئی کے علاوہ عوام کے پیچیدہ ہونیوالے روٹی روزگار کے مسائل اور توانائی کے سنگین بحران سے عوام کی جانب سے سامنے آنیوالے ردعمل کے باعث بھی میاں نوازشریف کی حکومت انتہائی کمزور پچ پر کھڑی تھی جس کیخلاف ماضی جیسا ماورائے آئین اقدام ہوتا تو قوم ایسے کسی اقدام کا خیرمقدم کرنے کیلئے بھی تیار بیٹھی تھی جبکہ عمران خان اور طاہرالقادری نے بھی ایسی ہی کسی خوش فہمی کی بنیاد پر اپنی دھرنا تحریک کے دوران امپائر کی انگلی اٹھنے کے اشارے دیئے اور پھر عمران خان نے اپنی تحریک کے اے‘ بی‘ سی اور ڈی پلان کے اعلانات کرکے بھی اس تحریک کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کے کارفرما ہونے کے اشارے دیئے۔ اگر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ماضی والے طالع آزمائوں جیسے مقاصد ہوتے تو ان کیلئے کیا امر مانع تھا مگر عمران اور قادری کے حکومت مخالف اس سارے دبائو کے باوجود آرمی چیف نے ایک پیشہ ور جرنیل کا کردار ادا کیا اور خود کو سیاست سے الگ تھلگ رکھا جبکہ دھرنا تحریک کا دبائو کم کرنے کیلئے بھی بالآخر آرمی چیف نے ہی کردار ادا کیا اور پھر حکومتی اور اپوزیشن قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے سیاسی تنازعات باہم مل بیٹھ کر طے کرلیں۔ اس تناظر میں تو پارلیمنٹ کو بچانے کا کریڈٹ بھی جنرل راحیل شریف کو جاتا ہے۔ چنانچہ اس فضا میں آرمی چیف کو ہٹانا کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر ایسی کسی سازش کا فوج کے ادارے کے اندر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اس وقت حکومت اور عسکری قیادتوں کے مابین ملکی اور قومی ایشوز پر جتنی انڈرسٹینڈنگ ہے جس کے تحت کراچی اپریشن سے اپریشن ضرب عضب تک تمام معاملات باہمی مشاورت اور رضامندی سے طے ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ قومی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں میں بھی عسکری قیادتوں کی مشاورت کا عمل دخل ہے تو یہ باہمی تعاون و مشاورت کے ساتھ گورننس کی مثالی صورتحال ہے۔ اس حوالے سے فوجی قیادتوں کو بھی اپنے سپہ سالار پر مکمل اعتماد ہے اور سیاسی قیادتیں بالخصوص حکمران بھی افواج پاکستان کے کردار سے مطمئن نظر آتے ہیں اس لئے اس موقع پر آرمی چیف کیخلاف فوج کے اندر سے کسی سازش کی نشاندہی سفاکانہ شرارت کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتی۔ چودھری نثارعلی خان نے گزشتہ روز اپنی پریس ٹاک میں کسی ایک آدھ ٹی وی چینل کے ٹاک شو کے حوالے سے اس مبینہ سازش کا تذکرہ کیا تو اس مبینہ سازش کے ڈھنڈورے ملکی ہی نہیں عالمی میڈیا پر بھی ہونے لگے۔ اس سے بادی النظر میں یہی تاثر پیدا ہوتا ہے جیسے چار دانگ عالم میں یہ ڈھنڈورا پٹوانے کیلئے ہی آرمی چیف کیخلاف ایسی کسی سازش کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔اگر کسی ٹی وی چینل پر ایسی کسی سازش کا تذکرہ ہوا تو چودھری نثار علی خان نے میڈیا ٹاک میں چاہے نیک نیتی سے ہی سہی‘ خود بھی اس کا تذکرہ کرکے بات کا بتنگڑ بنانے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے میڈیا کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ایسی خبروں کی تشہیر نہ کی جائے مگر کیا انہوں نے خود بھی اس معاملہ کی تشہیر کا ہی ’’کارنامہ‘‘ سرانجام نہیں دیا ۔ آرمی چیف کیخلاف تو یقیناً ایسی کوئی سازش ہے نہ کامیاب ہو سکتی ہے مگر کسی سیاست دان کے دل میں اب بھی آرمی چیف کو ہٹانے کی ماضی جیسی کوئی خواہش مچل رہی ہے تو اسے ماضی کے تجربات سے اب یہ سبق ضرور حاصل کرلینا چاہیے کہ ماورائے آئین اقدامات کیلئے اپنے مفادات کے تحت جرنیلی آمروں کو کندھا بھی سیاست دان خود ہی فراہم کرتے رہے ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...