خورشید شاہ کی بھی کالا باغ ڈیم کی مخالفت

05 اگست 2015

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی پاکستان میں ڈیمز بنانے کیخلاف نہیں ہے لیکن کالاباغ ڈیم متنازع ڈیم ہے اسکی حمایت نہیں کر سکتے۔ کالا باغ ڈیم کی بجائے ملک میں متبادل اور مناسب جگہیں موجود ہیں جہاں ڈیموں کی تعمیر کے ذریعے توانائی کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ڈیمز کیلئے سائٹس کی کمی نہیں۔ انکی تعمیر سے بجلی کی کمی پوری ہو سکتی ہے اور پانی بھی دخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر سب ڈیم مل کر کالا باغ ڈیم کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ بارشوں‘ سیلابوں اور بھارت کی طرف سے چھوڑے جانیوالے پانی کا ایک تہائی کالا باغ ڈیم میں سما سکتا ہے جس سے 36 سو میگاواٹ بجلی تو پیدا ہو گی ہی پانی بھی ضرورت کے مطابق استعمال ہو سکتا ہے۔ محض ایک ڈیم کی تعمیر سے ہم سیلاب سے نجات حاصل کر سکتے ہیں جو ہر سال انسانوں کو ڈبوتا اور فصلیں برباد کرتا ہے ساتھ ہی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ سے بھی نجات حاصل ہو گی۔ پیپلز پارٹی کا کبھی یہ موقف تھا کہ کالا باغ ڈیم کیلئے اتفاق رائے ضروری ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے اسے مردہ گھوڑا قرار دیا اب خورشید شاہ جیسے سنجیدہ لیڈر بھی اسکی حمایت سے انکار کر رہے ہیں۔ 18ویں ترمیم کی منظوری پر اسفند یار ولی خوشی سے جھومتے ہوئے کہہ رہے تھے ’’کالا باغ ڈیم کی فائل کو دریائے سندھ میں ڈبو دیا ہے۔‘‘ خیبر پی کے میں اے این پی اور سندھ میں قومیت پرست لیڈروں کی طرف سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت ہوتی رہی ہے اب پیپلز پارٹی بھی محض سیاسی حمایت کیلئے انکے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی قیادت کالا باغ ڈیم کی حمایت ضرور کرتی ہے مگر دونوں پارٹیاں بھی تعمیر کیلئے کمٹڈ نہیں ہیں۔ ان کو بھی اتفاق رائے کے ’’دورے‘‘ پڑتے ہیں۔ ادھر دشمن کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیلئے ہر سال باقاعدہ 6 ارب روپے مختص کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی ایسے لوگوں میں اپنا شمار نہ کرائے جن پر پیسے لے کر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کا الزام ہے۔ مسلم لیگ ن زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے پیدا کرکے بلاتاخیر کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کر دے یہی ملک و قوم کے مفاد کا تقاضا ہے۔