تحریک انصاف کیلئے ہائوس کے اندر اور باہر مشکلات

05 اگست 2015

پی ٹی آئی کیخلاف قومی اسمبلی میں تحاریک پر رائے شماری ملتوی، سپیکر نے مفاہمت کیلئے دو یوم کی مہلت دے دی، مسلم لیگ (ن)، پی پی پی، جماعت اسلامی اور فاٹا ارکان تحاریک کی مخالفت کرینگے، پی ٹی آئی کے ارکان کا اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ، تحاریک کے فیصلے تک اسمبلی میں نہ آنے کا اعلان۔
حکومت کو اپنی حلیف جماعت جے یو آئی سے تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی قرارداد واپس لینے کی درخواست پر مثبت جواب نہیں ملا جس پر گزشتہ روز جے یو آئی اور ایم کیوایم کی طرف سے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے منظور کرنے کی قرارداد پر قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا تو شاہ محمود قریشی کی گرما گرم تقریر کے باوجود حکومتی پالیسیوں کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے تمام جماعتوں کو مفاہمت کیلئے مزید 2یوم کی مہلت دے دی ۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت ان دو دنوں میں تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ ہونے سے بچانے کیلئے اپنی حلیف جے یو آئی کو کس طرح مناتی ہے کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے، حکومت کو اس کوشش میں جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی اور فاٹا کے ارکان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے اجلاس میں واک آئوٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ قرارداد پر فیصلہ ہونے تک ایوان سے باہر رہیں گے۔ تحریک انصاف اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ پارٹی کے اندر بھی پارٹی کی پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ ان حالات میں اسکے ارکان اسمبلی اگر قومی اسمبلی سے باہر ہوتے ہیں تو استعفوں کے جذباتی فیصلے کے منفی اثرات سے پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل مزید تیز ہو جائیگا۔ اب دیکھنا ہے عمران خان ان حالات سے سبق حاصل کر کے جذباتی سیاست کے بجائے کر سنجیدہ سیاست کی راہ اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ اس سے تحریک انصاف کے مستقبل کا اندازہ ہو جائے گا۔