آفتاب

05 اگست 2015

وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے
دل ہے،خرد ہے،روحِ رواں ہے ، شعور ہے
اے آفتاب! ہم کو ضیائے شعور دے
چشمِ خرد کو اپنی تجلّی سے نور دے
بانگِ درا

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...