کرشماتی سپہ سالار کا ظہور

05 اگست 2015

احباب کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے تمہیں کوڑے مارے اور اب تم جنرل راحیل شریف کے گن گانے لگے ہو۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ جو دھرتی سے پیار کرتا ہو وہ متعصب نہیں ہوسکتا۔ تجزیہ میرٹ اور حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیئے۔ قدرت کو اسلامی جمہوریہ پاکستان پر شاید رحم آگیا ہے۔ ایک مدت کے بعد پاکستانی قوم کو کرشماتی سپہ سالار میسر آیا ہے۔ فلاسفروں نے لکھا ہے کہ کرشماتی لیڈر محب الوطن، وژنری، حساس، نڈر، خود اعتماد، انسپائر کرنیوالا، روایت شکن اور خطرات مول لینے والا ہوتا ہے۔ قدرت نے جنرل راحیل شریف کو یہ سب اوصاف عطاء کررکھے ہیں جن کا وہ عملی مظاہرہ کرچکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جو سپہ سالار آئین توڑ کرسیاست میں ملوث ہوئے وہ ملک کو درست ٹریک پر نہ ڈال سکے اور ان کو عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل ایوب خان دس سال اقتدار میں رہے مگر ٹھوس اور مستحکم سیاسی و معاشی نظام نہ دے سکے۔ پاکستان کے ہر شہر اور ہر گائوں میں ان کیخلاف مظاہرے ہوئے ۔انہیں رسوا ہوکر اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔ جنرل یحییٰ خان کے خلاف فوج کے اندر بغاوت ہوئی۔ عوام نے ان کا گھر نذر آتش کردیا۔ جنرل ضیاء الحق نے وہ زہریلے بیج بوئے جن کی فصل آج فوج اور قوم مل کر کاٹ رہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق عبرت کا نشان بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف دس سال اقتدار میں رہے ۔انہوں نے پاکستان کو ’’خونستان‘‘ بنا دیا۔ اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ عدالتیں ان کو ’’اشتہاری مجرم‘‘ قراردے رہی ہیں۔ جس سپہ سالار نے آئین توڑا رسوائی اس کا مقدر ٹھہری۔ سیاسی و جمہوری سیاستدان بھی پاکستان کے عوام کو گڈ گورنینس اور عدل و انصاف کا معیاری اور مثالی نظام دینے سے قاصر رہے ۔ 68 سال کے بعد پاکستان آج بھی دنیا کا پسماندہ، غریب اور مقروض ملک ہے۔ دہشت گردی پاکستان کا قومی نشان بن چکی تھی جسے کرشماتی سپہ سالار نے سیاستدانوں کے اندیشوں کے برعکس جرأت اور بے باکی سے چیلنج کیا۔ کرشماتی سپہ سالار کے ظہور سے پہلے پاکستانی عوام دہشت گردی کے خوف تلے زندگی گزار رہے تھے اور آج دہشت گرد خوف سے بھاگ رہے ہیں اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
جنرل راحیل شریف افواج پاکستان کے پندرھویں سپہ سالار ہیں۔ ان سے پہلے صرف چار سپہ سالاروں کے بارے میں مستند شہادتیں موجود ہیں کہ وہ کرپٹ نہیں تھے۔ نیک نام سپہ سالاروں میں جنرل گل حسن، جنرل ٹکا خان، جنرل آصف نواز، جنرل عبدالوحید کاکڑ شامل ہیں تاحال جنرل راحیل شریف بھی نہ بکنے والے اور نہ جھکنے والے سپہ سالار ثابت ہوئے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور جنرل پرویز کیانی کی منافقانہ اور بزدلی پر مبنی پالیسی نے پاکستان کا وقار عالمی سطح پر مجروح کردیا تھا۔ کرشماتی سپہ سالار نے روایت سے ہٹ کر حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرکے دنیا کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان کا وقار بحال ہوا ہے۔ انہوں نے دنیا کے اہم ملکوں امریکہ، چین، برطانیہ، روس، اٹلی، سعودی عرب، سری لنکا، افغانستان اور سائوتھ افریقہ کے بامعنی بامقصد اور کامیاب دورے کیے ہیں۔ انکو ریاست کے سربراہ کے برابر پروٹوکول دیا گیا۔ سپہ سالار عالمی لیڈروں سے بڑے اعتماد کے ساتھ بات کرتے ہیں ۔ان کو یہ اعتماد ڈاکٹر قدیر خان نے دیا ہے جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں جنرل راحیل شریف نے وہ کام کردکھایا ہے جو سیاسی حکمران پانچ سال میں نہ کرسکے۔ سیاسی حکمران بیرونی دوروں پر جہاز بھر کر لے جاتے ہیں اور قومی خزانے کا سرمایہ بے دردی سے خرچ کرتے ہیں جبکہ سپہ سالار نے غیر ملکی دورے پی آئی اے کی عام فلائیٹ پر کیے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق جنرل راحیل شریف کے جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد حکومت نے ایک سیاسی تنظیم کے ان کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے جو کراچی آکر ٹارگٹ کلنگ کرکے جنوبی افریقہ واپس چلے جاتے تھے۔ الطاف حسین کی بوکھلاہٹ بے سبب نہیں ہے۔ چاروں اطراف انکاگھیرا تنگ ہورہا ہے۔ پہلے انہوں نے کراچی میں پاک فوج کو دعوت دی اور اب وہ اقوام متحدہ، نیٹو اور بھارت کی افواج کو پاکستان میں مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں مگر فوج کی قیادت گیدڑ بھبکیوں سے خوف زدہ ہونیوالی نہیں ہے۔ پاک فوج پاکستانی فوج کے تعاون سے ضرب عضب آپریشن کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچائے گی۔
حکمران اشرافیہ ائیر کنڈیشن گھروں اور دفتروں میں بیٹھی ہوئی ہے۔ کرشماتی سپہ سالار سخت گرمی میں فاٹا کے اگلے مورچوں ، بے گھر ہونیوالے افراد کے کیمپوں اور سیلاب متاثرین کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ وطن سے قابل رشک محبت اسے ایک پل بیٹھنے نہیں دیتی وہ کبھی کراچی کبھی کوئٹہ میں نظر آتا ہے اور کبھی گوادر میں اقتصادی راہداری کی کلیدی سڑکوں کی تعمیر کا معائنہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سپہ سالار نے پوری فوج کو متحرک کردیا ہے جو پورے جذبے اور عزم کے ساتھ سیلاب کے متاثرین کے ریلیف اور بحالی کیلئے قابل ستائش خدمات انجام دے رہی ہے جبکہ عوام کے منتخب نمائندے روایتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ پاک فوج نے ایک دن کا راشن سیلاب متاثرین کو دے کر اسلامی اخوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ افواج پاکستان نے تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے مارشل لاء نہ لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جمہوریت کا تسلسل جاری رہے گا البتہ جمہوریت کو بے لگام اور کرپٹ نہیں ہونے دیا جائیگا۔ پاکستان کے ریاستی اداروں بشمول نیب اور ایف آئی اے کی حوصلہ افزائی کی جائیگی کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق آزادی کے ساتھ بلاخوف اپنا کردار ادا کریں گویا فوج نے پس پردہ رہتے ہوئے ریاستی اداروں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکمرانوں کیلئے اب میگا کرپشن ممکن نہیں رہے گی۔ گزشتہ ہفتے عصر حاضر کے ممتاز سکالر جاوید احمد غامدی سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے کہ قومیں ارتقائی مراحل سے گزرتی ہیں۔ سول ملٹری اشتراک کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ اشتراک کچھ عرصہ جاری رہنا چاہیئے۔
پاکستان کو ایک نہیں کئی کرشماتی لیڈروں کی ضرورت ہے جو سوہنی دھرتی کیلئے تن من دھن قربان کرنے پر تیار ہوں۔ کیا ڈیڑھ سال کے بعد کرشماتی سپہ سالار کو منظر سے ہٹا دیا جائیگا اور عوام کی اُمیدیں ایک بار پھر ٹوٹ جائیں گی یا جنرل پرویز کیانی کی طرح جنرل راحیل شریف کو بھی تین سال کی توسیع دے دی جائیگی تاکہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل کرسکیں اور ضرب عضب کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں۔ کرپٹ سیاستدان کرشماتی سپہ سالار سے جان چھڑانے کے منتظر ہیں اور جنرل راحیل شریف خود بھی توسیع لینا پسند نہیں کرینگے البتہ امریکہ، برطانیہ اور چین توسیع کیلئے ضرور دبائو ڈالیں گے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر چار سال کردی جائے۔ عوام کی خواہش یہ ہوگی کہ کرشماتی سپہ سالار کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جائے اور وہ اس وقت تک منظر پر موجود رہیں جب تک پاکستان کی سیاست سے کرپشن اور جرائم کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
دفاعی تجزیہ نگار شجاع نواز نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے آرمی چیف جنرل آصف نواز کو مری میں ملاقات کیلئے بلایا۔ ’’جنرل آصف نواز کے مطابق جب وہ ملاقات کے بعد رخصت ہونے لگے تو وزیراعظم اپنے رفقاء کے گھیرے میں ان کو کار تک چھوڑنے آئے۔ آپ کون سی کار استعمال کررہے ہیں وزیراعظم نے پوچھا۔ ٹیوٹا کرائون جنرل آصف نے اپنی پرانی کار کی جانب اشارہ کرکے جواب دیا۔ یہ کار آپ کو زیب نہیں دیتی نواز شریف نے پنجابی میں کہا۔ انہوں نے ایک ڈرائیور کو اشارہ کیا جو نئی بی ایم ڈبلیو سیڈان کار لے آیا۔ نواز شریف نے کار کی چابی جنرل آصف نواز کو دی اور کہا آپ اس کار کے مستحق ہیں۔ آصف نواز یاد کرتے ہیں کہ وہ اس دلیرانہ اقدام سے تھوڑی دیر کیلئے دہشت زدہ ہوگیا۔ فوری طور پر اس نے چابی وزیراعظم کے ہاتھ میں واپس کرتے ہوئے کہا سر آپ کا شکریہ میرے پاس جو کار ہے اسی سے خوش ہوں میں نے سلیوٹ کیا اور واپس آگیا‘‘۔
(شجاع نوازCrossed Swordsصفحہ نمبر 338)