اور پاکستان دشمنی کیا ہوگی؟

05 اگست 2015

اکثر تجزیوں تبصروں اور بیانات میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے ہفتے کے روز خطاب کو ان کیخلاف قتل‘ منی لانڈرنگ‘ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو پر چھاپوں‘ یہاں سے گرفتار ملزمان کے اعترافی بیانات سے متحدہ کی قاتل‘ ٹارگٹ کلر اور بھتہ خور کی بننے والی تصویر کے باعث ڈپریشن کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے اگر فرض کرلیا جائے کہ واقعی شدید ذہنی دبائو ہی پاکستان دشمن بیان کا سبب بنا ہے تو ماضی میں جب ایسی صورتحال نہیں تھی متحدہ حکومت کا حصہ تھی اس پر فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی مہربانیوں کی برسات ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل نہیں ہوئے تھے الطاف کیخلاف برطانیہ میں منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش بھی نہیں ہو رہی تھی تب پاکستان مخالف بیانات کس ڈپریشن کا نتیجہ تھے۔ 2006ء میں نئی دہلی میں منعقدہ ایک سیمینار میں الطاف حسین نے قیام پاکستان اور تقسیم برصغیر کو تاریخی غلطی قرار دیا تھا۔ قائداعظمؒ کیخلاف توہین آمیز بیانات تو ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ 1998ء میں ایم کیو ایم کے لوگوں بالخصوص کارکنوں کو لیکچرز کے ذریعہ پاکستان کی فوج کیخلاف ورغلانے کی مذموم کوشش کی ان لیکچروں کو بعد ازاں ’’اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا جسکے ٹائیٹل پر ایک فوجی بوٹ کو متحدہ کے پرچم کو روندتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کتاب میں پنجابانائزیشن کو فوج کی حکمت عملی بتایا گیا ہے کہ ’’اسٹیبلشمنٹ نے قیام پاکستان کے بعد سے ہی کراچی کیخلاف سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا کراچی کی بین الاقوامی حیثیت ختم کرنے کیلئے 1950ء کی دہائی میں ملک کا دارالحکومت کراچی سے پنجاب منتقل کر دیا گیا۔ جب اسٹیبلشمنٹ نے یہ دیکھا کہ دارالحکومت پنجاب منتقل کرنے کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری کراچی میں ہی ہو رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ شہر کے حالات خراب کرائے۔ ان حالات کو بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے پیش کیا تاکہ سرمایہ کاروں کو ڈرا کر پنجاب کی جانب دھکیلا جائے لیکن جب اس میں کامیابی نہ ہوئی تو اسٹیبلشمنٹ نے ’’پنجابانائزیشن ‘‘ پالیسی کے تحت بالآخر فیصلہ کیا کہ کراچی پر قبضہ کر کے اسے پنجاب کا حصہ بنا لیا جائے چنانچہ پولیس پنجاب سے لا کر بٹھائی گئی جبکہ کراچی کے لوگوں کو پولیس اور انتظامیہ میں نہیں لیا جاتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی ملک کسی علاقہ کو فتح کرلیتا ہے اس کیلئے اس علاقے میں تمام کا تمام کاروبار حکومت چلانا مشکل ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں سے چند لوگوں کو خریدا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ جائزہ لیں تو اس وقت چیف آف دی آرمی سٹاف مہاجر، چیف جسٹس سپریم کورٹ مہاجر کور کمانڈر کراچی مہاجر گورنر سندھ مہاجر اب دنیا کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے یا دیا جائیگا کہ صاحب مہاجروں کیخلاف کچھ نہیں ہو رہا کیونکہ دیکھئے کتنی بڑی بڑی پوسٹوں پر مہاجر فائز ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے انکی موجودگی میں مہاجروں پر ریاستی ظلم ہو، چند اعلیٰ عہدوں پر مہاجروں کا فائز ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مہاجروں کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی کیونکہ اسی طرح کے خان، سردار اور نواب تو اس وقت بھی دستیاب تھے جب برطانیہ نے برصغیر پر قبضہ کیا تھا۔ آگے چل کر کہتے ہیں ’’ پنجابانائزیشن ‘‘ کی پالیسی کے تحت اسٹیبلشمنٹ کراچی پر جو قبضہ کرنا چاہتی ہے اس منصوبے کی راہ میں ایم کیو ایم سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لئے اسٹیبلشمنٹ بھر پور ریاستی طاقت کے ذریعہ ایم کیو ایم کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہے تا کہ وہ کراچی پر قبضہ کر کے اسے علانیہ پنجاب کا حصہ بنا سکے‘‘
مندرجہ بالا لیکچر کا ایک ایک لفظ پاکستانی فوج کے خلاف کراچی کے اردو سپیکنگ لوگوں بالخصوص نوجوانوں کے اذہان کو پنجاب کیخلاف نفرت سے زہر آلود کرنے کی کوشش ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے جنرل پرویز مشرف مہاجر چیف آف آرمی سٹاف تھا جو کراچی کے مہاجروں پر اسٹیبلشمنٹ کے جورو ستم پر بقول الطاف حسین پردہ بنا ہوا ایک خریدا ہوا شخص تھا اس ’’ حقیقت‘‘ سے آگاہی کے باوجود ایم کیو ایم اسکے اقتدار میں شریک ہو کر کراچی پر پنجاب کے قبضہ کے منصوبے کا حصہ کیوں بن گئی اور ایم کیو ایم کا مہاجر گورنر بنوا کر اس منصوبے کو مزید تقویت پہنچانے کا ذریعہ کیوں بن گئی۔ پیپلز پارٹی کے سابق رہنماء ذوالفقار مرزا نے قرآن سر پر اٹھا کر دعویٰ کیا تھا کہ ’’ الطاف حسین ملک دشمن ہے‘‘ مگر اس سنگین الزام کے باوجود ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار رہی۔ 2001ء میں الطاف حسین نے ایجنسیوں پر فرقہ واریت کی پشت پناہی کرنے کے الزامات عائد کئے یہ بھی در اصل فوج کو بد نام کرنے کی سازش کاحصہ تھے۔
الطاف حسین فوج کیخلاف کیوں ہیں وہ ایسے حالات کیوں پیدا کرتے ہیں کہ فوج کو سیکورٹی کے معاملات سنبھالنے پڑ جائیں اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ الطاف حسین اس طرح فوج کو بدنام اور کمزور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ فوج ہی پاکستان کی بقا اور سلامتی کی مضبوط ضمانت ہے اور ایسا کام پاکستان دشمن غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار ہی کر سکتا ہے۔ الطاف حسین نے لندن سے امریکی شہر ڈیلاس میں جو ٹیلی فونک خطاب کیا اس میں جو کچھ کہا وہ ازخود پاکستان دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ پاکستان اور پاکستانی فوج کیخلاف انتہائی ’’نفرت انگیز‘‘ تقریر ہے جس کے دوران آزادی آزادی کے نعرے لگتے رہے۔ تقریر کے دوران وہ ذہنی طور پراگندگی، مایوسی اور جنونیت کی کیفیات کا شکار لگ رہے تھے۔ کھلے بندوں بھارتی مدد کیلئے پکارتے ہوئے کہا ہم ان ہی کی سر زمین (بھارت) سے ہیں۔ بھارتی لیڈروں میں ذرا غیرت ہوتی تو مہاجروں کا خون نہ بہنے دیتے اب ہندو طعنہ دیتے ہیں اور لگائو بٹوارے کے نعرے بٹ کے رہے گا ہندوستان ،بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے اور اب خود بھگتو کراچی میں تم لوگوں کے بھائی مر رہے ہیں چاہو تو دیت کے دس لاکھ وصول کر لو مگر میں قصاص کا حامی ہوں ہال میں خاموشی رہی۔ جس پر الطاف حسین نے کہا کہ ’’ یار تم سمجھ نہیں رہے ہو اس لئے خاموش ہو، جس پر تالیاں بجنے لگیں اور نعرے گونجنے لگے۔ ڈیلاس کے کنونشن میں ایم کیو ایم کی ایم این اے خوش بخت شجاعت، سندھ اسمبلی کی ممبر ارم عظیم فاروقی ،عدنان احمد‘ بابر غوری، ندیم نصرت اور واسع جمیل نے تالیاں بجائیں اور بھنگڑا ڈالتے رہے۔ الطاف حسین نے کارکنوں کو ترغیب دی اقوام متحدہ اور نیٹو جا کر مطالبہ کرو کہ کراچی آئو ہمارے خلاف آپریشن کرنیوالوں کو پکڑو ان کیخلاف مقدمہ چلائو اب نہیں رہنا‘ مہاجر صوبہ بنائو، اگر مہاجر صوبہ نہیں بناتے تو ہم آزادی لے کر رہیں گے جس پر موجود لوگوں نے آزادی، آزادی کے نعرے لگائے، بابر غوری اور واسع جمیل نے دیر تک بھنگڑا ڈالا، الطاف حسین نے کہا میرے خلاف ڈیڑھ سو مقدمات بنائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ لگا لو کہ فوج الطاف حسین سے ڈرتی ہے یا الطاف حسین فوج سے ڈرتا ہے یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قبل ازیں بھی وہ عالمی فورموں پر پاکستان توڑنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ اپنے ایک خطاب میں الطاف حسین ایم کیو ایم کی ’’جدوجہد‘‘ کو نیلسن منڈیلا کی قیادت میں جنوبی افریقہ کے عوام کی جدوجہد کے ہم پلہ قرار دیا۔