قومی اداروں کی تباہی ملک کی بنیادیں ہلاسکتی ہے

05 اگست 2015

پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی یا پھر تباہی و بربادی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، کارکردگی بہتر ہوگی تو یہ معاشی استحکام و ترقی و خوشحالی کا سبب بنیں گے اور اگر یہ کرپٹ اور نااہل انتظامیہ کی بدولت نقصان دہ ادارے بن جائیں گے تو معیشت کو بھی لے ڈوبیں گے جیسا کہ اس وقت ہمارے ہاں ہورہا ہے۔ بجائے اسکے کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز قومی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کریں، پاکستان سٹیل ملز، پیپکو اور پی آئی اے سمیت دیگر پبلک سیکٹر انٹرپرائزز پر اس وقت سالانہ 600ارب روپے کی انتہائی بھاری رقم خرچ ہورہی ہے جو قومی وسائل کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ان قومی اداروں پر ہونے والے ان بھاری اخراجات نے بجٹ کو غیرمستحکم کیا ہے جبکہ ان ہی سفید ہاتھیوں کو پالنے کے لیے ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں ۔ پاکستان جیسا غریب ملک کسی بھی صورت ان اداروں کو برقرار رکھنے کے لیے اتنی خطیر رقم کے ضیاع کا ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا۔
اپنے ابتدائی دور میں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز نے سرمائے کی تشکیل، روزگار کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری، سرمایہ کاری میں اضافے اور حکومتی محاصل کی بہتری کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی میں بہت موثر کردار ادا کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارے نااہلی اور بدانتظامی کی وجہ سے بے حد زیادہ نقصان دہ اور ساری قوم پر بوجھ بن گئے۔ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی انتظامیہ کے ذہنوں میں اس خیال نے جڑ پکڑ لی کہ وہ کبھی بھی دیوالیہ نہیں ہونگے کیونکہ ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا حکومت قرضے لیکر یا پھر ٹیکس دہندگان کا خون نچوڑ کر انہیں پالتی رہے گی۔
انتہائی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان اداروں کے سربراہان کا تقرر زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر ہوتا رہا جس کی وجہ سے تباہی میں رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی لیکن اگر معاملات کی درستی کے لیے اگر آج اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ لاپرواہی مستقبل میں ملک کی بنیادیں ہلاسکتی ہے کیونکہ ان اداروں کی سٹریٹجک اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کی مثال لے لیںجس کا شمار ملک کے بہت اہم ترین اداروں میں ہوتا ہے اور ایٹمی پلانٹ و ملک کی اسلحہ سازی کی صنعت کو سپلائی دینے کی وجہ سے یہ براہِ راست دفاع سے وابستہ ہے ۔ اس قدر اہمیت کے باوجود اس ادارے کو جس طرح تباہ و برباد کیا گیا اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ اپنے قیام سے آج تک شاید ہی یہ اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق چلی ہو جبکہ حال ہی میں یہ انتہائی تشویشناک اطلاعات آئی ہیں کہ پاکستان سٹیل ملز اپنی کْل پیداواری صلاحیت کا صرف چھ فیصد چل رہی ہے ۔ پاکستان سٹیل ملز کے سربراہان کے چہرے تو بدلتے رہے لیکن اس اہم قومی ادارے کی حالت کبھی نہیں بدلی ۔
ان حالات میں جب دنیا ہاتھ دھوکر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے پڑی ہے اور بھارت جنگ کے میدان میں ہمیں نیچا دکھانے کی فکر میں ہے، پاکستان سٹیل ملز جیسے ادارے کی تباہی ایک سوچی سمجھی سازش لگتی ہے۔ اب ایک نئی تشویشناک اطلاع ملی ہے کہ پرائیویٹائزیشن کمیشن آف پاکستان نے ایک مشیر کی خدمات لیکر چین کی کمپنی کے اشتراک سے کنسورشیم بنادیا ہے تاکہ اسے منافع بخش بناکر فروخت کردیا جائے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم اپنی شہ رگ دوسروں کے ہاتھ دینے پر کیوں تلے ہوئے ہیں، حکومت خود اس اہم قومی ادارے کو کیوں نہیں چلاتی، کیا قومی ادارے اس لیے ہیں کہ اْن میں سیاسی بھرتیاں کرکے انہیں تباہ و برباد کیا جائے؟اگر پیداوار نہ بڑھے تو بھی پاکستان سٹیل ملز خود اپنے اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاکستان سٹیل ملز کے پاس تقریباً 19000ایکڑ رقبہ ہے جس میں سے صرف 4500ایکڑ رقبہ کورڈ ہے، اگر بقیہ رقبے پر انڈسٹریل زون قائم کردیا جائے تو وہاں سے حاصل ہونے والی آمدن سے پاکستان سٹیل ملز اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہے لیکن نجانے اس بارے میں کوئی کیوں نہیں سوچتا۔ پاکستان سٹیل ملز دفاعی حوالے سے بھی ایک اہم قومی ادارہ ہے لہذا اسے غیرملکی ہاتھوں میں دینے کا تو خواب بھی نہ دیکھا جائے ، یا تو اسے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے یا پھر فوجی فائونڈیشن کے حوالے کردیا جائے ۔ صرف پاکستان سٹیل ملز ہی نہیں بلکہ تمام قومی اداروں کی مینجمنٹ محب وطن ہونی چاہیے جو انہیں خسارے سے نکال کر منافع بخش بناسکے۔ اگر ملائشیاکے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد قلیل عرصے میں ملائشیا کو ترقی یافتہ ملک بناسکتے ہیں تو پھر ہمارے قومی ادارے منافع بخش کیوں نہیں بن سکتے۔ حکومت کو اس اہم مسئلے کی جانب فوری طور پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ پاکستان کی معاشی صحت کی ایسی حالت نہیں کہ ان نقصان دہ اداروں کو مزید امداد دے سکے۔ پاکستان کو اپنے عوام کے لئے تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، سڑکوں، شاہراہوں، بجلی اور سیکورٹی کی فراہمی کے لئے وسائل کی ضرورت ہے اور اس کے لیے وہ بھاری رقم کافی ہے جو ان اداروں پر بلاوجہ خرچ ہورہی ہے۔ اگر حکومت خلوص نیت سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتی ہے تو نقصان میں جانے والے تمام قومی اداروں میں انتظامیہ کے چہرے نہیں بلکہ ذہن بدلے۔ سیاسی بھرتیوں سے بالکل گریز کیا جائے کیونکہ اس طرح کسی ادارے کا سربراہ بننے والا شخص اس ادارے کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے جس طرح جی چاہے بیڑہ غرق کرتا ہے ۔ سب سے بہترین حل یہ ہے کہ حکومت ان اداروںکو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے وگرنہ پاکستان کے محب وطن تاجروں کو دے دے جس سے ایک طرف تو یہ ادارے بحالی کی راہ پر گامزن ہونگے اور دوسری طرف ملک کو سالانہ 600ارب روپے کا فائدہ ہوگا جو ان سفید ہاتھیوں کو پالنے پر خرچ ہورہے ہیں۔ (راجہ عدیل اشفاق لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں)۔