منگل ‘ 23 ذی الحج 1439 ھ ‘ 4 ستمبر 2018ء

Sep 04, 2018

چیف جسٹس نے جو کیا وہ ایس ایچ او اور مجسٹریٹ بھی کرسکتا تھا، خورشید شاہ

ہمارے شاہ جی بھی بہت بھولے بادشاہ ہیں، نجانے کس ترنگ میں آ کرایسی بات کہہ دیتے ہیں جسے سن کر خود بخود ”ہاسا“ نکل جاتا ہے۔ اب بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ شاہ جی یہ کام کرنے کی کوئی ایس ایچ او یا مجسٹریٹ ہمت کر سکتا تھا۔ پورے ملک کی یہی حالت ہے پولیس جس کسی کو رنگے ہاتھوں بوتلوں کے ساتھ پکڑتی ہے وہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے بڑے اطمینان سے یہ کہتے ہوئے بھاگتا ہے کہ یہ شہد کی بوتلیں ہیں۔ بھلا پولیس سے زیادہ کون ہے جو شراب اور شہد میں فرق جان سکتا ہو۔ بااثر افراد پر تو عام ایس ایچ او یا مجسٹریٹ صاحب ہاتھ ڈالنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتے۔ کیا کسی میں اتنی ہمت ہے کہ وہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کو روک سکے‘ اس کی تلاشی لے سکے۔ جو سیاستدان یا بیورو کریٹ یا سابق جرنیلی آمر پکڑا جاتا ہے وہ بیماری کا ایسا ڈرامہ رچاتا ہے کہ عدالت کو بھی یقین کرنا پڑتا ہے۔ اب چیف جسٹس صاحب نے درست کہا کہ یہ جیلوں اور ہسپتالوں کے ڈاکٹر جھوٹی بیماری کی رپورٹ بنا کردیتے ہیں۔ اب ایک معمہ تو یہ بھی حل طلب ہے کہ یہ بوتلیں ازخود سب جیل قرار پائے ہسپتال کے کمرہ خاص تک آئیں کس طرح یہ تو ہو نہیں سکتا میمن صاحب نے دوا دارو کی بوتلیں منگوائی ہوں اور انکے ملازمین یا مزاج شناس یہ بوتلیں اٹھا لائے ہوں۔ پہلے پارلیمنٹ لاجز کے باہر یہ بوتلیں پڑی ملتی رہیں۔ اب ہسپتالوں کے کمروں سے بھی برآمد ہونے لگیں تو ان کے خلاف سخت ایکشن لینا ضروری ہو گیا ہے کیونکہ یہ بوتلیں تو بہت زیادہ آوارہ ہوتی جا رہی ہیں۔

٭....٭....٭

بھارتی گجرات میں گائے نے ٹکرمارکر بی جے پی کے رکن اسمبلی کی پسلیاں توڑ دیں

اب لاکھ کوئی اسے افتادکہے ہم تو اسے اعزاز ہی کہیں گے۔ یہ تو بی جے پی کے رہنما لیلادھر کی خوش قسمتی ہے کہ گاﺅ ماتا نے اسے لاکھوں لوگوں میں سے اپنی ٹکر کیلئے چن لیا۔ ویسے یہ اب انکی قسمت ہے کہ ماتا کی ٹکر ذرا زوردار تھی جس کی وجہ سے انکی پسلیاںٹوٹ گئیں اور جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے فوراً لاتوں اور گھونسوں کے ساتھ ڈنڈے مار مار کرماتا جی کو پرے ہٹایا ورنہ وہ تو اپنے پتر کی ہڈی پسلی ایک کرنے پر تیار تھی۔ بھارتی وزیراعظم مودی کی مذہب پرستی اور گاﺅ ماتا سے عقیدت کا یہ عالم ہے کہ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے ایک گجراتی رکن اسمبلی کو گاﺅ ماتا نے اپنی ٹکرکے آشیرواد سے نوازا ہے جس کی بدولت وہ ہسپتال پہنچ گئے تو فوراً دوڑے دوڑے اپنے خوش قسمت ممبر اسمبلی کی عیادت کرنے ہسپتال آئے اور انہیں گا¶ ماتا کی ٹکرکھانے پر مبارکباد بھی دی ہو گی کہ یہ تو بڑے نصیب کی بات ہے۔ اب معلوم نہیں لیلادھر ہائے وائے کرتے ہوئے گاﺅ ماتا کی شان میں کون کون سی واہی تباہی بک رہے ہوں گے کیونکہ پسلیاں ٹوٹنے کی تکلیف وہی جانتے ہوں گے۔ باقی کسی کو کیا سب مزہ لینے کیلئے عیادت کے بہانے ان پر جو گزری ہے۔ اس کی کہانی سننے آتے ہیں۔ یہ تو گائے کی خوش قسمتی تھی کہ لیلا دھر خالی ہاتھ تھے اگر ان کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تو وہ اسی سے گاﺅ ماتا کی وہ ٹھکائی کرتے کہ ماتا دوبارہ کسی کو ٹکر مارنے کی جسارت نہ کرتی۔

٭....٭....٭

45 ارب پتی پولیس افسروں کی انکوائری کا فیصلہ

یاالہی یہ ماجرا کیا ہے۔ جہاں نظر ڈالو ارب پتی سے کم کوئی راشی نظر نہیں آتا۔ لگتا ہے انڈین ڈرامہ چل رہا ہے جس میں معمولی سے معمولی بزنس مین بھی اربوں سے کم کی ڈیل کرتا نظر نہیں آیا۔ 100 یا 200 ارب روپے ان کے ڈراموں میں یوں نظر آتے ہیں گویا انڈیا میں سب کھرب پتی پائے جاتے ہیں حالانکہ وہاں کی آدھی سے زیادہ آبادی بھوک وننگ کا شکار ہے۔

یہ ارب پتی پولیس اہلکاروں کے کلب کی انکوائری کے اعلان کے بعد گمان تھا کہ محکمہ پولیس میں تھرتھلی مچ گئی ہو گی مگر دور دور تک کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے لاہور تک ہر طرف معاملات ویسے ہی رواں دواں ہیں۔ یہ وہ محکمہ ہے جہاں نیچے سے اوپر تک ایک رنگ چڑھا نظر آتا ہے اور وہ ہے رشوت رنگ، یوں ہی تو تھانے نہیں بکتے، مالدار پولیس والے ایسے سونے کے انڈے دینے والے تھانوں میں تعیناتی کیلئے لاکھوں نہیں کروڑوں روپے بطور رشوت ادا کرتے ہیں۔ اب محاورے کے مطابق جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں ان کے ہی پیٹ میں درد ہو گا۔ بہت سے پولیس والے حفاظتی کارروائیاں مکمل کرنے لگ جائینگے۔ پرانے گھاگ اہلکار تو پہلے ہی یہ کام کر چکے ہوتے ہیں۔ کئی ایسے بھی ہیں جو مطمئن ہیں کہ ایسی کئی انکوائریاں پہلے بھی ہوئی ہیں مگر گنگا وہیں بہتی رہی ہے۔ سو اب بھی کچھ نہیں ہونا۔ صرف کاغذی کارروائی دفتری فائلوں کا پیٹ بھر کر خاموش ہو جائے گی۔ اب ان موجودہ و سابق افسروں کے ملک میں نہیں بیرون ملک بھی مال و دولت کے ذخائرکا پتہ چلا ہے جو لینڈ مافیا، پٹرول مافیا، منشیات مافیا اور سمگلنگ مافیا کی مدد سے کمایا گیا ہے۔ چاروں صوبوں کی پولیس اس گنگا میں اشنان کرتی آ رہی ہے تو کیوں نہ اب ان کا حساب کتاب بے باک کر ہی لیا جائے اور یہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں۔

٭....٭....٭

روس ہماری کامیابیوں کو سبوتاژ کر رہا ہے، امریکی جنرل

مکافات عمل شاید اسی کا نام ہے۔ جبھی تو جو کچھ کل امریکہ نے روس کے ساتھ کیا آج روس امریکہ کے ساتھ کر رہا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ یہ سارا کھیل ہمارے پڑوس میں کھیلا جا رہا ہے اور ہم دو سانڈوں کی لڑائی میں گھاس کی طرح کچلے جا رہے ہیں۔ ویسے کوئی امریکی جرنیل سے تو پوچھے کہ جناب آپ کے کھاتے میں کامیابیاں ہیں کہاں۔ برس ہا برس سے آپ نے افغانستان کو عراق و شام کوکھنڈرات میں تبدیل کردیا۔کیا یہ کامیابیاں ہیں۔ہاتھ پھر بھی آپ کے کچھ نہ آیا۔ جب افغانستان پر روس چڑھ دوڑا تھا تو امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہمارے سروں اور کاندھوں کو سیڑھی کے طور پر استعمال کیا جس کا صلہ بھی ہمیں بہت تھوڑا ملا۔ الٹا یلغار میں ہم بلاوجہ دوسروں کی آگ اپنے گھر تک لے آئے۔ پھر روس جب افغانستان سے نکلا تو انسانوں کو کھانے والی یہ جنگی بلا امریکہ کے گلے پڑ گئی۔ جسے وہ اب تک بھگت رہا ہے۔ اپنے ساتھ اس نے ہمارا بھی کباڑہ کروا دیا۔ خود تو امریکی معیشت اور حکومت یہ بوجھ برداشت کرنے کی طاقت رکھتی ہے مگر ہماری معیشت کی کمر توڑ دی گئی اور دہشت گردی کو ہمارے پیچھے لگا دیا گیا۔ اب روس گن گن کر بدلے لے رہا ہے۔ امریکہ اسی روسی روئیے سے نالاں ہے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ روس پر ڈال رہا ہے جبکہ حقیقت میں اسے روس، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوف آ رہا ہے۔ کہیں یہ دونوں ملک مل کر امریکہ کا رام نام ستے ہی نہ کر دیں جو افغان مجاہد پہلے ہی اپنے ملک میں کر رہے ہیں۔

مزیدخبریں