جامع القرآن

Sep 04, 2018

حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا، انتہائی گہرے زخموں کے باعث انکی زندگی کی امےدباقی نہ رہی۔ انھوں نے اپنی نےابت کا فےصلہ اےک کونسل پر چھوڑ دےا۔ ےہ وہ چھ افراد تھے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم اپنی حےاتِ مبارکہ مےں راضی رہے، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد ابن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبےداللہ اور حضرت زبےر بن عوام رضی اللہ عنہم آپ نے حکم فرماےا کہ مےرے بعد خلافت ان چھ افراد سے کسی اےک کے پاس ہوگی اور اس کا فےصلہ بھی ےہی افراد باہمی صلاح و مشورہ سے کرےنگے۔ تےن دن طوےل مشاورت ہوئی، احتےاطاً لوگوں سے بھی رائے لی گئی اور اتفاق رائے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو امےرالمومنےن منتخب کےا گےا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم نے آپ کو اس منصب کی بشارت بھی عطاءفرمائی تھی، حضرت عثمان غنی رعاےا کے حق مےں اےک نہاےت مہربان اور شفےق حکمران ثابت ہوئے۔ آپ نے اپنے عہدِ خلافت مےں بےت المال سے تنخواہ ےا کوئی اور اضافی مراعات حاصل نہےں کی، بلکہ اپنے ذاتی وسائل بھی امت کی فلاح وبہبود کیلئے وقف کردےئے۔ آپ نے نظم مملکت کو بڑی دانائی اور حکمت سے استوار کےا۔ عدل فاروقی کی رواےت کو قائم ودائم رکھا۔ علم کی تروےج اشاعت کا سلسلہ جاری رہا، آپ خود بھی مجتہدانہ بصےرت کے حامل تھے خاص طور پر وراثت اورحج کے مسائل مےں، آپکی رائے کو درجہ استناد حاصل تھا۔ خود بھی حدےث نبوی کی رواےت فرماتے لےکن اس معاملے مےں بڑی حزم واحتےاط سے کام لےتے۔ آپ نے لوگوں کیلئے جاگےرےں مقرر فرمائےں اور جانوروں کیلئے چراگائےں قائم کےں۔ نظم ونسق کیلئے محکمہ پولےس قائم کےا اور اسکے عہدے دار مقرر کےے۔ مسجد نبوی شرےف مےں توسےع ہوئی اور اسکی تزئےن وآرائش کی گئی۔ مو¿ذنوں کی تنخواہےں مقر ر کی گئیں۔ وسائل کی اےسی فراوانی ہوئی کہ لوگ فکرِ معاش سے آزاد ہوگئے۔ مملکت اسلامےہ کی سرحدی حدود مےں توسےع کا سلسلہ جاری رہا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے مےں مسلم مملکت کا رقبہ کم وبےش 24 لاکھ مربع مےل تھا، حضرت عثمان کے زمانے مےں ےہ رقبہ کم و بےش 48 لاکھ مربع مےل تک وسعت اختےار کر گےا اور سندھ سے کابل، لبےا سے لےکر ےورپ تک کا علاقہ اس مےں شامل تھا۔ آپ نے مفتوحہ علاقوں مےں چھاونےاں قائم کےں اور پوری مملکت مےں سڑکےں، پل اور مسافر خانے بنوائے۔ پہلی بار بحری بےڑہ قائم کےا۔ آپ کی حےات مبارکہ کا اہم ترےن کارنامہ خدمتِ قرآن کے حوالے سے ہے۔ عرب قرآن کو مختلف لہجوں اور قرا¿توں سے تلاوت کرتے تھے۔ فتوحات کی وسعت کی وجہ سے ےہ سہولت غلط فہمےوں کا باعث ہوسکتی تھی، آپ نے اپنی ”فراست باطنی“ سے پوری امت کو قرا¿تِ قرےش پر جمع کردےا اور ےوں آپ ”جامع القرآن“کہلائے۔

مزیدخبریں