قیمتوں میں اضافے کے بعد 18 فیصد لوگوں نے سگریٹ نوشی ترک کردی‘ امجد قمر

  اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ )سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (CRD) کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ کی قیمتوں میں کیے گئے خاطرخواہ اضافے کے بعد 18 فیصد لوگوں نے سگریٹ نوشی ترک کردی ہے ۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے ڈائریکٹر امجد قمر کا کہنا تھاکہ حالیہ سروے کے نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ ٹیکس میں اضافہ صحت عامہ اور حکومتی محصول دونوں کے لیے کامیابی کا باعث بنتا ہے۔یہ نتائج تمباکو کے استعمال سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانے کی تاثیر کو اجاگر کرتے ہیں  ۔گزشتہ  سال فروری میں، 2023 کے فنانس (ضمنی) ایکٹ نے اکانومی برانڈز کے لیے FED کی شرح میں 146 فیصد اور پریمیم برانڈز کے لیے 154 فیصد اضافہ سامنے آیا جو پچھلی پالیسیوں سے علیحدگی کی علامت ہے۔اس اسٹریٹجک فیصلے نے پہلے ہی ٹھوس نتائج ظاہر کیے ہیں، سگریٹ کی کھپت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔عالمی مالیاتی اداہ (IMF) کی ایک رپورٹ نے اس مثبت رجحان کو تسلیم کیاہے کیونکہ ٹیکس میں اضافے کے بعد سگریٹ کی کھپت میں 20-25 فیصد کمی دیکھی گئی ہے   ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سگریٹ کی کل کھپت سالانہ 72 سے 80 بلین سٹکس کے درمیان ہے ۔امجد قمر کا اس حوالے سے مزید کہنا تھاکہ ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوائد کودیکھے اور سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی پالیسی کو جاری رکھے ۔  

ای پیپر دی نیشن