کچے کے ڈاکوﺅںکے پاس  امریکی اسلحہ کا انکشاف


 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق کا اجلاس قاسم نون کی زیر صدارت ہوا جس میں پنجاب کے کچے کے علاقے میں آپریشن سے متعلق پولیس حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈاکوﺅں کے قبضے سے 58 ہزار ایکڑ سے زائد زمین خالی کروا لی گئی ہے۔ ڈاکوﺅں کے پاس زیادہ اور جدید اسلحہ ہے۔ ڈاکو دو دو کلومیٹر کے فاصلے سے ہمارے جوانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ہمیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ ڈاکو کہاں بیٹھ کر ہمیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ پولیس حکام نے اعتراف کیا کہ یہ وہی اسلحہ ہے جو امریکی چھوڑ گئے تھے جو ان ڈاکوﺅں کے ہاتھ لگا ہے جبکہ بھارت نے اس اسلحے کے استعمال سے متعلق ڈاکوﺅں کو تربیت دی۔
رواں سال 9 اپریل میں شروع ہونیوالے کچے کے ڈاکوﺅں کیخلاف اپریشن کو تقریباً دو ماہ ہو چکے ہیں‘ ڈاکوﺅں کے قبضے سے اب تک 58 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ واگزار کرایا جا چکا ہے جبکہ ڈاکوﺅں کیخلاف اب بھی اپریشن جاری ہے۔ دو ماہ گزرنے کے باوجود سندھ اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری ان ڈاکوﺅں کا صفایا نہیں کرسکی جس کی بڑی وجہ بریفنگ میں یہی بتائی گئی ہے کہ ڈاکوﺅں کے پاس جدید امریکی اسلحہ ہے جسے چلانے کی تربیت انہوں نے بھارت سے حاصل کی۔ پولیس کے پاس جدید اسلحہ نہ ہونے کے باعث اب تک ڈاکوﺅں کا صفایا نہ کیا جا سکا۔ ڈاکوﺅں کے پاس جدید امریکی اسلحہ کی موجودگی اور ان کا بھارت سے تربیت حاصل کرنا ہماری ایجنسیوں اور سکیورٹی اداروں کیلئے انتہائی تشویشناک ہی نہیں‘ ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے ریجنل ہیڈ کوارٹرز سے بھی بھارتی اسلحہ برآمد ہوا تھا جو پاکستان کیخلاف ہی استعمال کیا جاتا رہا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سخت سکیورٹی کے دعوﺅں کے باوجود ملک دشمن عناصر کے پاس غیرملکی اسلحہ کیسے پہنچتا ہے اور بھارت جیسے ازلی دشمن کے اہلکار کس طرح آسانی سے ان دشمن عناصر کو تربیت دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس سے ہماری سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کا ہی عندیہ ملتا ہے۔ اس لئے اس امر کی جامع تحقیقات کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا محرکات ہیں کہ ہمارے لوگ آسانی سے بیرونی سازشوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور ریاست کے اندر ریاست بنا کر بیرونی عناصر کے آلہ¿ کار کی حیثیت انکے ایجنڈے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔دو ماہ بعد بھی اگر کچے کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری ڈاکوﺅں کا صفایا کرنے میں ناکام ہے تو اسکی بڑی وجہ پولیس کے پاس جدید اسلحہ کا نہ ہونا ہی نظر آتا ہے۔ اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس سمیت تمام سکیورٹی اداروں کو جدید اسلحہ سے لیس کرے اور تمام سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ملک میں پنپنے والی اندرونی و بیرونی سازشوں پر کڑی نظر رکھیں۔

ای پیپر دی نیشن