افغانستان سے فوجی انخلاء پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات

04 فروری 2013


اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) پاکستان کے راستے افغانستان سے امریکی اور دیگر اتحادی افواج کی واپسی اور ان کا سازوسامان نکالنے کیلئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان باضابطہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ امریکہ کے نائب وزیر دفاع پیٹر لیوائے نے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر اس بات کا آغاز کیا۔ اسلام آباد اور واشنگٹن میں دونوں ملکوں کے سفارتخانہ اس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں گے ضرورت پڑنے پر اعلیٰ سطح کے وفود کا بھی تبادلہ ہو گا۔پاکستان کی طرف سے بات چیت کے اس عمل میں وزارت دفاع،فوج،وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ و ایف بی آر کے حکام شامل ہیں۔ مستند ذریعے کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکی اور اتحادی افواج اور ان کے سازوسامان کی پاکستان کے زمینی راستے سے واپسی کے ایک سے زائد معاہدے کئے جائیں گے۔ نیٹو سپلائی کے معاملہ پر پاکستان کے ساتھ گزشتہ برس کے تنازعہ کے پیش نظر امریکہ ، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ بھی فوجوں کی واپسی کے موضوع پر بات چیت کا سلسلہ شروع کر چکا ہے تاکہ افواج کی واپسی کے نازک اور اہم مرحلہ پر کسی ایک ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ اس ذریعے کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے مذاکرات میں مجوزہ معاہدے کیلئے امریکی و باقی ماندہ اتحادی افواج کی واپسی کے روٹ، سیکورٹی، واپس جانے والی افواج کے سامان کی تفصیلات، باربرداری کے امور،ان کے نرخ و ٹیکس، فوج کی واپسی سے متعلق تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھنے جیسے اہم امور کا احاطہ کیا جائے گا۔ امریکہ کے فوجی سامان میں بھاری گاڑیاں،ٹینک،بکتر بند گاڑیاں وغیر شامل ہیں۔ اہم ہتھیار اور ان سے متعلق نظام تو فضائی راستے سے منتقل کئے جائیں گے لیکن اس کے باوجود ہتھیاروں کی رسد کے معاملے پر بھی بات ہو گی۔ اسی سلسلہ میں وہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پاکستان کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔ اس ذریعے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ وہ امریکہ فوج کا ایسا سازوسامان جو پاکستان کو درکار ہے، واپس لے جانے کے بجائے کم نرخوں پر یا راہداری فیس کے عوض پاکستان کے سپرد کر دے تاہم اس معاملے کی کامیابی کا انحصار بات چیت پر ہو گا۔