حکومتی نااہلی: 5 برسوں میں پانی و بجلی کے 9 فیصد منصوبوں پر ہی پیشرفت

04 فروری 2013


لاہور(جائزہ رپورٹ : ندیم بسرا )وفاقی حکومت کی عدم توجہ سے گزشتہ 5برسوں میں پانی وبجلی کے مجموعی منصوبوں میں صرف9 فیصد پر ہی پیشرفت ہوسکی ۔وزارت پانی وبجلی کے تمام تر اعلانات اور دعووں کے برعکس 5 برسوں میں نئے منصوبوں سے صرف800میگاواٹ ہی بجلی حاصل ہوسکی۔ 3220میگاواٹ کے 19 نئے پراجیکٹ پیدا وارشروع نہیں کر سکے ۔ بڑے ڈیمز خصوصاکالا باغ ڈیم کو سیاست کی نذر کیا ۔ملک کے اندر بجلی کے منصوبوں پر کام نہیں ہو رہا متعدد منصوبوں کو سیاست کی نذر کردیا گیا۔ اعلیٰ عدالتوں کے سوموٹو ایکشن لینے سے بیرونی سرمایہ کار ملک سے اپنا سرمایہ واپس لے گئے۔ انرجی بحران پر گہری نظر رکھنے والوں کی نظر میں کئی اہم نکات ہیں جس میں پہلا قابل عمل پانی کے سستے ترین منصوبوں پرکام نہیں ہو رہا ۔ پانی کے دو منصوبوں دیامیر بھاشا ڈیم ،کالاباغ ڈیم کو 6 سے 7 برسوں میں مکمل کرکے اور اس سے 60 سے 90 پیسے تک فی یونٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور اسکی تعمیر سے تقریباً 1 کروڑ 65لاکھ ایکڑ فٹ پانی فصلوں کومل سکتاہے ۔مجموعی طور پر ایک لاکھ15 ہزار ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بناکر اربوں روپے سرمایہ کمایا جا سکتا ہے اور 45 ہزار افراد کو روزگار بھی حاصل ہوگا۔ ورلڈ بنک کا بھی یہ کہنا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے بننے سے 560ارب روپے تک سالانہ کمایا جا سکتا ہے۔ بجلی بحران پر قابو پانے کےلئے وفاقی وزارت پانی و بجلی اور تقسیم کا ر کمپنیاں ناکام نظر آتی ہیں۔ 3220میگاواٹ کے 19 نئے پراجیکٹ جو بجلی کی پیدا وارشروع نہیں کر سکے ان میں 213 میگاوٹ اٹلس پاور ، 213 میگاواٹ اورینٹ پاور،242 میگاواٹ کارکے رینٹل،150 میگاواٹ رینٹل پلانٹ فیصل آباد،110 میگاواٹ رینٹل پلانٹ گدو،225میگاواٹ ساہیوال( سیف) پاور ،205 میگاواٹ والٹرز رینٹل ،150 میگاواٹ رینٹل پلانٹ ساہووالا سیالکوٹ،192 میگاواٹ رینٹل پلانٹ ملتان، 150 میگاواٹ رینٹل پلانٹ ستیانہ روڈ)سمندری)، 72 میگاواٹ خان خواڑ ہائیڈرو پاور ، 200 میگاواٹ نشاط پاور،225 میگاواٹ مریدکے( سفائر) پاور ،62میگاواٹ گلف پاور رینٹل، 203 میگاواٹ اینگرو پاورڈھرکی،154میگاواٹ روبا انرجی ،54میگاواٹ نوڈیرو، 175 میگاواٹ فاﺅنڈیشن ڈھرکی اور225 میگاواٹ حب پاورنارووال شامل ہیں ۔ان میں سے متعدد منصوبوں کا افتتاح کردیا گیا ہے مگر ابھی تک انہوں نے بجلی پیدا کرنا شروع نہیں کی کیونکہ زیادہ تر رینٹل پاور پراجیکٹ اپنی مدت پوری کر چکے ہیں جبکہ واپڈا کے بڑے پن بجلی کے پراجیکٹس پر سالانہ 200 ملین ایکڑ فٹ مٹی آنے کے عمل نے بجلی بنانے کی صلاحیت میں کئی گنا کمی کر دی ہے ۔ اگر منگلا، تربیلا اور چشمہ ہائیڈرو پراجیکٹس پر10 برس صورتحال یہی برقرار رہی تو انکی پن بجلی بنانے کی صلاحیت آدھی رہ جائےگی۔ اعدادو شمار کے مطابق پانی کے بڑے ذخائر میں مٹی جمع ہونے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ تربیلاڈیم میں پانی جمع کرنے کی صلاحیت 30 فیصد کم ہو گئی ہے۔ پانی جمع کرنے کی گنجائش 9 .68 ملین ایکڑفٹ سے کم ہوکر 6.77 ملین ایکڑفٹ رہ گئی ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 15 فیصد کمی ہوئی ہے جو5.34 ملین ایکڑ فٹ سے کم ہوکر 4.54ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے ۔ چشمہ جھیل میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 63فیصد کمی ہوئی ہے جو0.72 ملین ایکڑ فٹ سے کم ہوکر 0.62 ملین ایکڑفٹ ہو گئی ہے ۔ واپڈا حکام کی مٹی نکالنے کی کوششیں بھی دم توڑتی نظر آتیں ہیں۔ہمیں تمام تر وسائل بروئے کار لاکر بڑے آبی ذخائر کو تعمیر کرنا ہوگا ۔ایک بہتر واٹر مینجمنٹ کر کے پاکستان میں بڑے آبی ذخائر جلد شروع کرنا ہونگے۔