نئے امریکی وزیر دفاع ایٹمی پاکستان کو امریکہ کیلئے باعث تشویش سمجھتے ہیں، لاس اینجلس ٹائمز

04 فروری 2013


واشنگٹن(اے پی اے) امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق امریکی کابینہ اور دیگر سیاسی جماعتیں افغان جنگ سے متعلق بات چیت سے گریز کر رہی ہیں، چک ہیگل کی سماعت کے دوران کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ افغانستان میں امریکی فوج کا مستقبل کیا ہو گا،66ہزار فوجی جوانوں کی زندگیاں مزید کتنے عرصہ کے لیئے خطرے میں ڈالنا ہونگی ،8گھنٹہ طویل سماعت کے دوران افغانستان جیسے اہم ترین ایشو پر صرف 10منٹ بات کی گئی۔ نئے امریکی وزیر دفاع ایٹمی پاکستان کو امریکہ کے لیئے باعث تشویش سمجھتے ہیں۔ سماعت میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے قیام جیسا اہم سوال پوچھا ہی نہیں گیا۔اخبار کے مطابق مسلم دنیا سے تعلقات کی بحالی اور جنگوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ اور امریکی مستقبل کو محفوظ بنانے کی تمام تر اہم ذمہ داریاںاب نو منتخب وزیر دفاع پر عائد ہونگی۔ کسی بھی ریپبلکن رکن نے صدر اوباما کے انخلاءکے منصوبے کے حق یا مخالفت میں اپنے تاثرات پیش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ جہاں تک کانگرس کا تعلق ہے تو اس کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا جیسے افغان جنگ ختم ہو چکی ہو۔ چک ہیگل کا کہناتھا کہ 2014میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاءشروع کر دیا جائے گا جو سال کے آخر تک تقریبا مکمل کر لیا جائے گا، جب تک امریکی افواج افغانستان سے نہیں نکلیں گی افغان جنگ جاری رہے گی۔ امریکہ کے مکمل انخلاءکے بعد بھی افغان فورسزطالبان ،القاعدہ کی حمایتی جماعتوں اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف افغان حکومت کی طاقت بحال ہونے تک لڑتی رہیں گی۔ انخلاءسے قبل امریکی مفادات اور فوجیوں کی جانیں داو پر لگی ہیں انخلاءکےلئے بدعنوان اور کرپٹ کرزئی حکومت کومالی و جنگی طور پر ابھی اور سہارا دینا ہو گا۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ القاعدہ افغانستان میں دوبارہ جڑیں مضبوط نہ کر سکے۔امریکہ کوایٹمی پاکستان سے متعلق بھی فکر کرنا چاہیئے۔ سابق امریکی سفیر برائے افغانستان کا کہنا ہے کہ ہم جنگ سمیٹ نہیں رہے بلکہ اپنی شراکت میں کمی لا رہے ہیں، جو انتہائی مختلف چیز ہے۔اخبار کے مطابق 2014تک کے امریکہ کو افغانستان میں 3اہم منصوبوں کی تکمیل کرنا ہے، جن میں 3لاکھ 52ہزار افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت، شفاف صدارتی انتخابات اور انخلاءاور اس کے بعد قیام کے لیئے کام کرنا شامل ہیں۔ قبل ازیں جنرل ایلن بھی عوامی طور پر اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مطلوبہ اہداف کے حصول تک افغانستان میں 2014کے بعد بھی زیادہ سے زیادہ فوجی قیام کی ضرورت ہے ،جنرل ایلن کے علاوہ بھی کئی امریکی اعلی عہدیدار ،3ہزار 9ہزار اور 15ہزار فوجیوں کے مذید قیام کی حمایت کر چکے ہیں اس فیصلے کے اطلاق کے لیئے آئندہ چند ہفتے اہم ہیں۔