طالبان نے اب اپنا رخ امریکہ اور افغانستان کی طرف کر دیا ہے: حمید گل

04 فروری 2013


لاہور (خبرنگار) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ کا نیا وزیر دفاع اپنی پالیسی تبدیل کرے گا مگر سی آئی اے کے نئے چیف برینن کی سربراہی میں سی آئی اے پاکستان میں ”خفیہ جنگ“ جاری رکھے گی۔ جان برینن خفیہ جنگ پر یقین رکھتا ہے ۔ امریکی ایوان نمائندگان میں تنقید کے بعد دنیا میں کہیں اور ڈرون حملے نہیں ہوں گے۔ مگر پاکستان کے لئے یہ پابندی نہیں ہو گی اور پاکستان کو سی آئی اے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو یہاں ڈرون حملے جاری رکھے گی۔ نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امریکہ کے گماشتے موجود ہیں۔ لکی مروت میں فوجی یونٹ پر ہونے والے حملے میں دو حملہ آوروںکے جسمانی معائنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور غیرملکی ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں سینکڑوں گھر کرائے پر لئے گئے۔ یہ ”امریکی عناصر“ آج بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ سی آئی اے کی پیش کردہ ”پلے بک‘ پالیسی پر ابھی اوباما نے ستخط نہیں کئے ہیں۔ یہ پالیسی ہمارے خلاف ہی استعمال ہو گی۔ لڑ کر ہار جانا جنگ نہ کر کے ہارنے سے بہتر ہے ۔ اس وقت پاکستان کے خلاف امریکی گھناﺅنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان نے اب اپنا رخ امریکہ اور افغانستان کی طرف کر لیا ہے ۔ وہ بات چیت کے لئے تیار ہیں مگر وہ نواز شریف، منور حسن، فضل الرحمن کی گارنٹی چاہتے ہیں۔ انہیں حکمرانوں اور فوج پر اعتماد نہیں ہے ۔ اگر آج اوباما کہہ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی دہائی ختم ہو گئی ہے تو ہم کیوں نہیں کہتے کہ ہم بھی یہ جنگ بند کر رہے ہیں اس سے بہتر پیغام جائے گا۔ بدقسمتی سے ہم نے امریکہ کی رخصتی کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی ۔

اپنا اپنا سچ

بے حد جھوٹے شخص سے خلق خدا تنگ آگئی، تو گائوں بدر کر دیا ۔ دوچار مہینے اِدھر ...