بجلی، گیس کی طویل لوڈشیڈنگ، عوام ذہنی مریض بننے لگے، احتجاجی مظاہرے

04 فروری 2013


لاہور ( نیوز رپورٹر+ نامہ نگاران) پنجاب کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی جانب سے صوبے بھر میں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ شارٹ فال 4860 میگاواٹ ہے۔ چھوٹے قصبوں میں مسلسل 8 گھنٹے جبکہ دیہات میں10 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں معمول کی لوڈ شیڈنگ کے علاوہ سرحدی علاقوں میں داروغہ والہ ،چوہنگ، ٹھوکر نیاز بیگ، بیدیاں روڈ سمیت دیگر میں 33 فیڈرز بھی بند رہے جس کی وجہ سے ان متاثرہ علاقوں میں بجلی 10 گھنٹے تک بند رہی۔ صارفین نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کیا اور لیسکو کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی ۔ پنجاب حکومت کی طرف سے لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کےلئے کروڑوں روپے مالیت سے ٹیوب ویلوں پر لگائے گئے جنریٹرز بھی بند رہنے لگے جس سے پانی بھی نایاب ہو گیا۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق شہر میں بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ خواتین نے مجبورا لکڑی اور مٹی کے تیل کے چولہوں کا استعمال شروع کردیا ہے۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے باعث کاروباز زندگی بری طرح مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، بجلی کی بار بار بندش کے باعث گھروں میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو مشکلات کے علاوہ طلباءو طالبات کی پڑھائی کا بھی شدید حرج ہورہا ہے۔ بجلی کی بار بار بندش کے باعث لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ملکوال سے نامہ نگار کے مطابق گھریلو صنعتیں بند ہونے سے سینکڑوں مزدور بیروزگار ہو گئے۔ سوہدرہ سے نامہ نگار کے مطابق سے نامہ نگار کے مطابق مسلسل پانچ پانچ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے زندگی مفلوج بنا دی۔ کاروبار ٹھپ ہو گئے۔ ڈونگہ بونگہ سے نامہ نگار کے مطابق سے نامہ نگار کے مطابق لوڈشیڈنگ نے شہریوں، مزدوروں، محنت کشوں اور دیگر کاروباری لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی۔ گجرات سے نامہ نگار کے مطابق ڈنگہ کے نواحی گاو¿ں جوڑا اور میانہ چک کے رہائشیوں نے ایک پر امن احتجاجی جلوس نکالا۔ انہوں نے بے تحاشہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر لوڈ شیڈنگ کم نہ ہوئی تو ہم آئندہ چند دنوں میں درجنوں دیہاتوں کے افراد کو اکٹھا کرکے واپڈا آفس ڈنگہ کے سامنے دھرنا دیں گے۔