”شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے“

04 فروری 2013

مجھے تو انکی کامیابی کے ساتھ گزار ی گئی عسکری زندگی پر حیرت ہورہی ہے، یہ جو تلوار کے دھنی ہیں نہ محاذِ جنگ پر دشمن کے گھائل ہونیوالے سپاہی کو بے بسی کی موت مرتے دیکھنا انہیں اچھا لگتا ہے اور اسکی آنکھوں میں نشانہ باندھ کر گولیاں مارنے کا عمل انہیں نفرت انگیز نظر آتا ہے، وہ محاذِ جنگ سے زندہ لوٹنے کے بعد لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ جنرل کے بلند تر منصب تک پہنچے، چیف آف جنرل سٹاف ہوئے، کورکمانڈر رہے، چیئرمین نیب کے منصب پر بھی سرفراز ہوئے اور آئی ایس آئی کے کسی اہم ونگ کی قیادت بھی کرتے رہے۔ قوموں کی زندگی میں معجزات ایسے ہی رونما ہوتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کی یادداشتوں پر مبنی ضخیم کتاب ”یہ خاموشی کہاں تک؟“ ایک مستعد فوجی کے بجائے اکبر بادشاہ کے ”شیخو“ جیسے انارکلی کے دیوانے کی ”داستانِ پروانگی“ نظر آتی ہے۔ گزشتہ ماہ اکادمی ادبیات کی عالمی ادبی کانفرنس میں شرکت کیلئے اسلام آباد گیا تو برادرم پروفیسر نعیم قاسم نے ایک کتاب کا مسودہ میرے آگے دھر دیا۔ میں اس وقت تک جنرل (ر) شاہد عزیز صاحب سے کچھ زیادہ واقف نہیں تھا، نعیم قاسم نے پہلے مجھے انکا اچھا خاصا تعارف کرایا، پھر ٹیلیفون پر ان سے بات بھی کرا دی اور پھر مجھے کتاب کے مسودے کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ اسکی چیدہ چیدہ ورق گردانی کرنے سے ہی مجھے اسکے ورق ورق بم شیل ہونے کا احساس ہوگیا تھا۔ آج میرا یہ گمان درست ثابت ہوگیا ہے کہ یہ کتاب نہیں، ایک ایسا دھماکہ ہے جو ہمارے دفاع سے متعلق ملکی اور قومی مفادات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے قبل ہی کنٹرول لائن پر پاکستان بھارت کشیدگی انتہا کو جاپہنچی اور بھارتی میڈیا پر جنرل (ر) شاہد عزیز کا ایک پرانا ٹی وی انٹرویو ہاٹ کیک کی طرح چلنے لگا۔ یہ انٹرویو کارگل کے محاذ پر ایک سرونگ جرنیل کی جانب سے افواج پاکستان کے ناکام ہونے کی گواہی تھی چنانچہ یہی ترپ کا پتہ ہمارے دشمن ملک کے ”زی نیوز“ جیسے متعصب میڈیا کے ہتھے چڑھ گیا اور اس نے سیاق و سباق سے نکال کر اس گواہی کو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادتوں کیخلاف ہی نہیں، افواج پاکستان کے پورے ادارے کیخلاف استعمال کرنا شروع کردیا۔ میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں اسی پس منظر میں جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب کا بھی تذکرہ کیا جو اس وقت تک مارکیٹ میں نہیں آئی تھی تاہم میں نے اسکے مسودے کی ورق گردانی کررکھی تھی۔ آج یہی کتاب ”ٹاک آف دی ٹاﺅن“ بن چکی ہے اور آج اسکا مطالعہ کرتے ہوئے میں مزید حیران ہورہا ہوں کہ اپنی فوج کی سروس کے آغاز ہی میں 71ءکی جنگ میں کشمیر کے محاذ پر دشمن کے آگے چٹان بن کر کھڑے ہونے کی تربیت لینے والے اس جوان کو اپنی ریٹائرمنٹ تک سرحدوں کی حفاظت کی ضامن افواج پاکستان میں خامیاں ہی خامیاں کیوں نظر آتی رہی ہیں جبکہ وہ بچپنے سے فوجی سروس کے آغاز و انتہا تک ”انجم شناسی“ میں مگن نظر آئے ہیں۔ وہ محاذ جنگ پر بھی اپنی خالہ کی پیاری بیٹی اور موجودہ شریک حیات انجم کی تصویر اپنے بٹوے کے ایک حصے میں سجائے اسکی یادوں میں مگن رہے ہیں تو وہ دفاع وطن کے تقاضے نبھاتے فوجی ہیرو کے بجائے دیوداس کی پارو، مغلِ اعظم کی انارکلی اور تاج محل کی نورجہاں کے ہیرو بن کر غالب کی زبان میں یہی اظہارِ تشکر کرتے نظر آتے ہیں کہ
منزل ملی، مراد ملی، مدعا ملا
سب کچھ مجھے ملا جو تیرا نقشِ پا ملا
”مغلِ اعظم“ میں دکھائی گئی شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی ”شیخو“ والی زندگی کا جنرل (ر) شاہد عزیز کی ”انجم“ کیلئے سب کچھ تج دینے اور اسی کو مقصدِ حیات سمجھنے والی تڑپ کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہوبہو مشابہت نظر آتی ہے جیسے شیخو اپنی انارکلی کو پانے کی خاطر محاذِ جنگ پر جانے پر آمادہ ہوئے بعینیہ جنرل (ر) شاہد عزیز کو ”انجم“ کو مقصدِ حیات سمجھنے کی لگن میں فوج کی سروس بھا گئی مگر ”دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے“ کے مصداق جنرل صاحب سپہ سالاری میں بھی ذات کے عاشق ہی نکلے۔ ”حضرت“ پی ایم اے لانگ کورس کے جاں گسل مراحل سے گزر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں ”انجم اس وقت ہنس رہی ہوگی، شائد مجھ پر، مگر میں نے تو اس سے کبھی ایسی باتیں نہیں کی تھیں۔ مجھے وہ باتیں ہی نہیں آتیں جو سب کرتے ہیں، بھیڑ میں بیٹھ کر، پھر قہقہے لگاتے ہیں، میں اٹھ گیا، اندھیرے میں راہ تلاش کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے آملا، سلیپنگ بیگ نکال کر پتھروں میں ریت کا خالی ٹکڑا ڈھونڈتا رہا“۔ اس سے پہلے طالب علمی کے زمانہ بھی جنرل صاحب نے انجم کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتے ہوئے گزار دیا۔ ”پھر آہستہ آہتہ وہ مجھے اچھی لگنے لگی، اسکی آنکھیں چمکتی تھیں، ہنستی کھلکھلاتی تھی، سب سے منفرد لگتی تھی، انجم تھی ہی ایسی، میری آنکھوں میں ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی، کچھ میرے بس میں نہ تھا، یہ احساس مجھے پہلی بار ہوا جب میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا مگر میں نے شرم کے مارے کبھی اسکو کچھ نہ کہا۔ سالوں اسی طرح بِتا دئیے، بس خواب دیکھتا رہا“۔ ایسے عشق و مستی والے خوابوں میں گم کسی شخص سے عملیت پسند فوجی کا کردار نبھانے کی بھلا کیسے توقع کی جاسکتی ہے؟ جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب کا ورق ورق اور لفظ لفظ گواہی دے رہا ہے کہ وہ فوج میں قطعی ”مِس فٹ“ تھے۔ اس لئے ہی تو انہیں ایک انتہائی حساس ادارے کے درون پردہ رازوں کو افشاءکرتے ہوئے بھی ملک کی سالمیت کے حوالے سے انکے ممکنہ مضر اثرات کا احساس تک نہیں ہوا۔
وہ سقوط ڈھاکہ کی تلخیاں بھی یقیناً اسی پس منظر میں آج تک نہیں بھلا پائے ورنہ وہ عملیت پسند فوجی ہوتے تو فوجی قیادتوں سے منسوب ان تلخیوں کا کبھی تذکرہ نہ کرتے۔ وہ ان تلخیوں کا آج کے حالات سے موازنہ کرتے ہیں تو ملک کے مستقبل کا سوچ کر ایک بچے کی طرح روتے نظر آتے ہیں کیونکہ آج کا فوجی آپریشن انہیں سقوطِ ڈھاکہ کا منظر بناتا ہی نظر آتا ہے۔ ”جب حاکم سیاسی مفاد میں اپنے ہی بچوں کا خون بہانا شروع کردیں تو عوام کس کا ساتھ دیں، آج پھر یہی ہورہا ہے۔ حکومت کا چیخ چیخ کر گلا سوکھ گیا کہ یہ ہماری جنگ ہے، تمام ٹی وی چینلز بھی اسی ترانے میں شامل ہیں۔ بہت سے کرائے کے عالمِ دین بھی، فوج بھی امریکہ کے نام پر جان دینے والوں کے سینوں پر تمغے سجاتی رہی، خون بہاتی رہی مگر قوم میں کوئی اس بات کو ماننے پر آمادہ نہیں کہ یہ جنگ ہماری جنگ ہے، سچ پر کتنا ہی جھوٹ کا لبادہ اوڑھاﺅ، سچ سچ ہے، آخر کھل ہی جاتا ہے“۔
جنرل یحییٰ سے مشرف تک فوجی آمروں کی بدکرداریوں، رعونتوں اور ہزیمتوں کا اندازہ جنرل (ر) شاہد عزیز کے صرف اس ایک فقرے سے لگایا جاسکتا ہے کہ ”جب دباﺅ کے نیچے آتے ہیں تو ڈکٹیروں کے دماغ کسی اور ہی دنیا میں ہجرت کرجاتے ہیں“۔ میں ”یہ خاموشی کہاں تک“ کا مطالعہ کررہا تھا تو مجھ پر جنرل (ر) شاہد عزیز کی اصل صلاحیتوں کے گن بھی اپنے آپ کُھلتے جارہے تھے۔ دلکش پیرائے اور غالب، فیض، شکیب جلالی اور دوسرے شعراءکے دل میں اترنے والے اشعار کو کتاب کے ہر باب کا موضوع سخن بنا کر جنرل صاحب نے خود کو تلوار کے بجائے قلم کا دھنی ثابت کیا ہے
کُھلتا، کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے