کوئی معجزہ ہی ٹیسٹ میچ میں شکست سے بچا سکتا ہے

04 فروری 2013

جوہانسبرگ ٹیسٹ کے تیسرے روز ساﺅتھ افریقہ نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 275 رنز بنا کر اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کو ٹیسٹ جیتنے کے لئے 480 رنز اڑھائی دن میں کرنے کا ہدف دے دیا جو ایک مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ پہلی اننگز میں 49 رنز پر پوری آﺅٹ ہونے والی ٹیم اس ہدف کے تعاقب میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ ڈویلیئر نے سنچری بنائی اور دونوں کھلاڑی ہاشم آملہ اور ڈی ویلیئرز عمدہ کھیلے بلکہ لگ رہا تھا کہ جوہانسبرگ کی وکٹ دو طرح سے کھیل رہی ہے جب جنوبی افریقہ بیٹنگ کرتا ہے تو سیدھی ہو جاتی ہے اور بیٹسمینوں کا ساتھ دیتی ہے اور جب پاکستان بیٹنگ کرتا ہے تو مخالف بالروں کا ساتھ دیتی ہے ۔ پاکستان نے پہلی اننگز کے برعکس دوسری اننگز میں اچھی بیٹنگ کی ہے ۔ اسد شفیق اور کپتان مصباح الحق نے مل کر سنچری پارٹنرشپ بنائی ہے اور دونوں کریز پر ہیں۔ اگر ایسی پرفارمنس پاکستان پہلی اننگز میں دیتا تو اس ٹیسٹ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ کل بھی لکھا تھا کہ پاکستان یہ ٹیسٹ ہار چکا ہے صرف پاکستان کے نقطہ نگاہ سے پاکستان صرف بارش سے ہی یہ ٹیسٹ ڈرا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی اچھی بیٹنگ سے یہ ٹیسٹ چوتھے دن میں چلا گیا ہے اور جوہانسبرگ کی چوتھے دن کی موسم رپورٹ حوصلہ افزا ہے ۔ چوتھے دن جوہانسبرگ میں بارش ہونے کے 40 فیصد امکانات ہیں جبکہ پانچوں دن بارش ہونے کے 70 فیصد امکانات ہیں جس کا مطلب ہوا کہ قدرت نے پاکستان کے لئے یہ ٹیسٹ ڈرا کرنے کی امید بندھا دی ہے ۔ دراصل میں آج بھی وقت نیوز کے پروگرام ”گیم بیٹ“ میں سابق ٹیسٹ کرکٹر مدثر نذر سے اس ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی کمزور پرفارمنس کی وجوہات پوچھ رہا تھا تو مدثر نذر کا تبصرہ میرے والا ہی تھا کہ اتنے بڑے دورہ کے لئے پاکستانی ٹیم کو صرف ایک 4 روزہ میچ کھلا کر دنیا کی ایک نمبر جنوبی افریقہ کی سپورٹنگ اور بالروں کے لئے سازگار وکٹ پر پھینک دیا گیا۔ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کو چاہئے تھا کہ کم از کم پہلے ٹیسٹ سے پہلے 3 یا 4 سائیڈ میچ دئیے جاتے اور کم از کم 3 ہفتے وکٹوں پر مانوس ہونے کے لئے دئیے جاتے تو پاکستان کی پرفارمنس کبھی ایسی نہ ہوتی۔ خیر جو ہونا تھا ہو گیا آئندہ ایسے دوروں کے لئے میری تجویز پر غور کرنا چاہئے۔ پاکستان کی دوسری اننگز میں ناصر جمشید عمدہ کھیلے۔ مصباح الحق اور اسد شفیق عمدہ بیٹنگ سے پاکستان کو ٹیسٹ کے چوتھے دن میں لے آئے یہ پاکستان کے آخری بیٹسمینوں کی جوڑی کریز پر ہے ان کے آﺅٹ ہوتے ہی پاکستان یہ ٹیسٹ ہار جائے گا۔ البتہ جوہانسبرگ کی موسمی پیشن گوئی نے اس ٹیسٹ کے ڈرا کی ہلکی سی امید پیدا کر دی ہے اور مصباح الحق کا آسان کیچ چھوٹنا اور اسد شفیق کے کیچ آﺅٹ پر امپائر کا نو بال دینا قدرت کی مدد ہی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستانی بالروں کی سمجھ نہیں آ سکی کہ وہ کس پلاننگ سے باﺅلنگ کرتے رہے میرے نزدیک ساﺅتھ افریقن تھنک ٹینک نے پاکستان کے بلے بازوں اور بالروں کو بہت اچھی طرح ریڈ کیا ہوا تھا اور وہ اسی پلاننگ سے یہ ٹیسٹ کھیلتے رہے انہوں نے سب سے زیادہ سعید اجمل کو ریڈ کیا اسی لئے وہ دو اننگز میں صرف ایک وکٹ حاصل کر سکا۔ پاکستانی بیٹسمین کی کمزوریوں کو سامنے رکھتے باﺅلنگ کی اور پوری ٹیم ان کے جال میں ہی آﺅٹ ہو گئی۔

پاکستان ایک معجزہ

اہل مغرب ہم سے اصرار کرتے ہیں کہ یہاں جمہوری نظام میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں ...