پاکستان، برطانیہ، افغانستان 2 روزہ سہ فریقی سربراہی کانفرنس شروع ہو گئی

04 فروری 2013

لندن (این این آئی) پاکستان، افغانستان اور برطانیہ کے سربراہان مملکت کی دو روزہ سربراہی کانفرنس شروع ہو گئی کانفرنس میں افغانستان کی موجودہ اور اتحادی فوجوں کے انخلاءکے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائےگا صدر پاکستان آصف علی زرداری، افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی، وزیرمملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اس موقع پر مختلف اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔سہ فریقی سربراہ اجلاس میں تینوں ملکوں کے مابین خطے میں امن اورسلامتی اور افغانستان کی صورتحال سے متعلق امورزیر بحث آئیںگے۔برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون افغانستان اورعلاقائی امن کے حوالے سے اس سہ فریقی اجلاس کے میزبان ہوں گے۔اجلاس میں افغانستان سے 2014ءمیں غیرملکی افواج کے انخلاءکے بعد کی صورتحال بھی زیر بحث لائی جائے گی۔ برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاننگ سٹریٹ سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ سہ فریقی مذاکرات طالبان کو ایک واضح پیغام بھجواتے ہیں کہ اب ہر ایک لیے افغانستان میں پر امن سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شرکت کا مناسب موقع ہے۔اس کے ساتھ تینوں سربراہانِ مملکت افغانستان میں امن و استحکام کےلئے جاری کوششوں اور طریق کار کا جائزہ بھی لیں گے۔برطانوی وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ توقع ہے کہ افغانستان میں افغانیوں کی جانب سے شروع کی گئی قیامِ امن کی کوششوں اور پاکستان اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس کی حمایت پر بات چیت ہو گی۔ ہمیں پاکستان اور افغانستان سے امید ہے کہ دونوں ممالک گذ شتہ نومبر میں کیے گئے سٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدے میں بھی پیش رفت کریں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے غیر ملکی میڈیا کوبتایا کہ افغان عوام کو امن کے عمل کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے۔