دھرنا ختم نہ کرتا تو مارشل لا لگ جاتا‘ الیکشن کمشن سے متعلق انکشافات کروں گا تو قوم کانوں کو ہاتھ لگائے گی : طاہرالقادری

04 فروری 2013

لاہور(خصوصی نامہ نگار+نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان عوامی تحریک کی سربراہی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے ناموںکا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق ڈاکٹر رحیق احمد عباسی مرکزی صدر اور خرم نواز گنڈا پور سیکرٹری جنرل ہونگے، عوامی تحریک کے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے حوالے سے ریفرنڈم کرائے گی اور ہر عہدیدار یونین کونسل کی سطح پر پانچ سو افراد سے رائے لے گا جس کی روشنی میں ڈاکٹر طاہر القادری انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا حتمی فیصلہ کریں گے، جبکہ ہر کارکن کو کم از کم 200افراد کی رکنیت سازی کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے، ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ کے بعد انقلاب رکا نہیں بلکہ یہ اسکا آغاز ہے اب لاہور سے نکلوں گا اور ایک ایک شہر جاﺅں گا اور لاکھوں لوگ میرے ساتھ ہونگے، عوام نا امید نہ ہوں آخری دم تک انکے حقوق کی جنگ لڑوں گا اور کرپشن کرنےوالوں اور لٹیروں کو بھگا کر یا جیل بھیجنے تک یہ جنگ ختم نہیں ہو گی ، جلد بتاﺅں گا کہ مرکزی اور صوبائی الیکشن کمشن کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ الیکشن کمشن سے متعلق ایسے انکشافات کرﺅنگا کہ قوم کانوں کو ہاتھ لگائے گی اس حوالے سے ٹھوس ثبوت سامنے لاﺅنگا۔ دھرنا ختم نہ کرتا تو اگلے 5منٹ میں مارشل لاءلگ جاتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب اور میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ طاہر القادری نے بتایا کہ جنرل کونسل کے اجلاس میںسنٹرل ایگزیکٹو کونسل اور فیڈرل کونسل کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے اور عوامی تحریک کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے فیصلوں کا اختیار مجھے سونپا گیا ہے، آئندہ انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے پر ریفرنڈم پیر سے بدھ 3 روز کیلئے ہوگا۔ آئی آر آئی کا سروے جھرلو سروے ہے، ریفرنڈم تین روز (پیر سے بدھ تک) جاری رہے گا جس میں پہلا سوال پاکستان عوامی تحریک کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے اور جبکہ دوسرا سوال آپ کسے ووٹ دیں گے؟ پوچھا جائے گا ، ریفرنڈم کے نتائج جمعرات تک تحریک کے سیکرٹریٹ جمع کرا دیئے جائینگے، جسکے بعد آئندہ انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے بارے فیصلہ کیا جائیگا۔ ا نہوں نے کہا کہ ہم ملک سے چالیس چوروں اور انکے علی باباﺅںکا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم ایسی جمہوریت کو نہیں مانتے جس میں خون بہایا جارہا ہو، یہ جمہوریت نہیں بلکہ بد ترین آمریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ انقلاب کی طرف پہلا قدم ہے، اسلام آباد میں تنہا کھڑا تھا اور چور، لٹیرے اپنی کرپشن بچانے کے لئے اکٹھے ہو رہے تھے اور میں تنہا عوام کے حقوق کو بچا رہا تھا۔ ہم نے اسلام آباد میں امن اور جمہوریت کو موقع دیا۔ کوئی اسکا مطلب یہ نہ لے کہ کرپشن اور عوام کے حقوق کی جنگ ختم ہو گئی ہے بلکہ آگے کئی مراحل ہیں اور میں نے سب کو آرام کا موقع دیا ہے، جلد دوبارہ اسکا آغاز ہونے والا ہے اور لاہور سے نکلوں گا تو ایک ایک شہر جاﺅں گا اور لاکھوں کا سمندر میرے ساتھ ہوگا، میرے پہنچنے سے قبل گندم کھانے والے چوہے بھاگ جائیں گے، پورا ملک اسلام آباد کا لانگ مارچ ہوگا۔ ہم ملک میں انتخابات کا التواءنہیں چاہتے لیکن ملک توڑنے کے انتخابات قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے حوالے سے کہا کہ موجودہ حکومت کو کسی نے نئے صوبوں کا مینڈیٹ نہیں دیا، پارلیمنٹ کے ختم ہونے میں ایک ماہ رہ گیا ہے کسی کو بی جے پی نہیں بنانے دیں گے، نئے صوبوں کے قیام کے لئے ریفرنڈم کرایا جائے اور انکی مرضی کے بغیر صوبے نہیں بننے چاہئیں۔ عوامی تحریک کی تنظیم نو ہو چکی ہے اب گراس روٹ لیول پر بڑھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی کو پاکستان عوامی تحریک کا مرکزی صدر بنا دیا گیا ہے جبکہ انکی جگہ شیخ زاہد فیاض ناظم اعلیٰ مہناج القرآن ہونگے جبکہ خرم نواز گنڈا پور مرکزی سیکرٹری جنرل ہوںگے۔ علاوہ ازیں طاہر القادری نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو فون کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے الطاف حسین کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ جنرل کونسل کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے اعلان کیا کہ سب سے زیادہ رکنیت سازی کرنے والے کارکنوں کو اپنے زیر استعمال اشیاءبطور انعام دوں گا ۔