نوازشریف‘ منور حسن‘ فضل الرحمن ضمانت دیں تو حکومت سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں : تحریک طالبان پاکستان

04 فروری 2013

پشاور (نیٹ نیوز / بی بی سی + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک بار پھر حکومت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف، جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ تینوں فوج کے لئے ضمانت دیں تو یہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ بی بی سی کے مطابق اپنے ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے ان کے پانچ ساتھیوں کو مذاکرات شروع ہونے سے پہلے رہا کرنا ہو گا کیونکہ وہ ان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے جن میں ملاکنڈ ڈویژن کے طالبان ترجمان مسلم خان، مولانا محمود خان اور سابق ترجمان مولوی عمر شامل ہیں ۔ ویڈیو میں شلوار قمیض میں ملبوس احسان اللہ احسان کے ساتھ بنوں جیل سے فرار ہونے والے عدنان بھی موجود تھے جبکہ ان کے پیچے کھڑے دو نقاب پوشوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔ احسان اللہ احسان نے کہا کہ حکومت کے رویہ سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لئے سنجیدہ نہیں لیکن وہ پھر بھی ان کے غیر سنجیدگی کے باوجود بھی پاکستان اور اسلام کی خاطر مثبت مذاکرات کے انتظار میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ان کے دو مرتبہ معاہدے ہوئے تھے لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں ان کا فوج پر اعتماد نہیں ہے۔ احسان اللہ احسان نے مغوی پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کے بارے میں کہا کہ وہ ان کی تحویل میں ہیں اور وہ بہت خوش ہیں ان کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں، ان کی رہائی کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں لیکن حکومت نے ان کی رہائی میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا یہ ویڈیو ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں عبوری حکومت بنانے اور نئے الیکشن کی تیاریاں ہو رہی ہے۔ احسان اللہ احسان کے مطابق پاکستان کے ہر شہر میں ان کے نمائندے یا امیر موجود ہیں جن کے وہ نام نہیں لے سکتے تاہم قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ولی الرحمن ، مالاکنڈ ڈویژن میں فضل اللہ، مہمند ایجنسی میں عمر خالد جبکہ باجوڑ میں ابوبکر ان کے امیر ہیں ۔ آئی این پی کے مطابق 25 منٹ کے ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کیلئے غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کیا، ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان کا سرمایہ ہیں انکی مذاکرات میں ثالثی کیلئے پیش کش زیر غور ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی جائیں گی، ویڈیو پیغام میں کہا گیا کہ طالبان نے مذاکرات پر حکومت کو مثبت جواب دیا تھا فوج پر اعتماد نہیں اس نے ماضی میں کیے گئے معاہدوں کی بھی پاسداری نہیں کی۔ اگر جمعیت علماءاسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف ضمانت دیں تو ہی حکومت سے مذاکرات کیے جائیں گے ۔ طالبان نے دوسری شرط میں کہا ہے کہ طالبان نے حکومت سے مذاکرات کے لئے جو پانچ رکنی سیاسی کمیٹی تشکیل دی ہے اس کے تین رہنما حکومت کی تحویل میں ہیں جن کو رہا کیا جائے۔ واضح رہے ایک ٹی وی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ثالث بننے کی پیش کش کی تھی جس کا مثبت جواب دیتے ہوئے احسان اللہ احسان نے کہا ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان کا سرمایہ ہیں انکی پیش کش زیر غور ہے۔ ترجمان تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ویڈیو پیغام میں متحدہ قومی موومنٹ کو دھمکی دی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی جائیں گی ۔ ایم کیوایم کے جلسے پر حملہ طالبان کی پہلی کارروائی جبکہ ایم پی اے منظر امام کا قتل دوسری کارروائی تھی ۔ اپنے ویڈیو پیغام میں طالبان نے میڈیا کو بھی خبر دار کیا ہے کہ وہ فریق بننے کی بجائے مثبت صحافت کو فروغ دیں اگر کوئی صحافی یا لکھاری اس سے تجاوز کرے تو طالبان اس کے خلاف کارروائی کریں گے ۔ 25منٹ دورانیے پر مشتمل ویڈیو پیغام میں ترجمان طالبان احسان اللہ احسان کے ساتھ عدنان رشید بھی موجود تھے ۔ واضح رہے کہ عدنان رشید صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے ، تاہم بنوں جیل توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ثناءنیوز کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواز شریف، سید منور حسن اور فضل الرحمن معاہدہ پر عملدرآمد کی ضمانت دیں۔آن لائن کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان سے مذاکرات کےلئے شرائط پیش کیں۔ نامعلوم مقام سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسان اللہ احسان نے کہا ڈاکٹر عبدالقدیر ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں ، انہوں نے جو کام ملک و قوم کیلئے کیا وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ مذاکرات کی جو دعوت دی گئی اسے بہتر بنانے کیلئے ہم نے تین نام حکومت کو پیش کئے ہیں اور مذاکرات میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا نام بھی زیر غور ہے اور اس پر بھی ہم غور کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان میں کسی قسم کی تھوڑ موجود نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے درمیان اختلافات ہیں ۔ ہم نے پہلے بھی یہ ثابت کیا ہے اور آئندہ بھی عملاً ثابت کریں گے کہ ہمارے درمیان کوئی کے اختلافات نہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کے بھائیوں کی طرح ہیں ۔ باجوڑ ایجنسی کے بارے میں اکثر یہ باتیں ہو رہی تھی کہ وہاں طالبان کے درمیان اختلافات ہیں ، وہاں جو ہمارے مولوی فقیر تھے انہیں عہدے سے معزول کر دیا تھا، ہمارے ہاں عہدوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی کسی کی کارکردگی کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی میں کتنا تقویٰ ہے اسی کے مطابق اسے عہدہ دیا جاتا ہے۔ مولوی فقیر کچھ وقت کیلئے عہدے سے ہٹ کر آرام کرنا چاہتے تھے لیکن میڈیا نے اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ وہاں کے امیر مولوی ابوبکر کے ہاتھوں انہوں نے بیعت کی۔ ان کو وہاں اپنا امیر مانتے ہیں ، بہت جلد ان کی ویڈیو بھی جاری کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان کا پورے پاکستان میں سیٹ اپ موجود ہیں ۔ قبائلی پٹی میں ہمارے مرکزی امیر حکیم اللہ محسود جنوبی وزیرستان کیلئے مولانا ولی الرحمن ، مالاکنڈ مولانا فضل اللہ، مہمند ایجنسی عمر خالد خرا سانی اور باجوڑ ایجنسی کیلئے مولانا ابو بکر ہیں ۔ یہ سارے ہمارے سینئر ساتھی ہیں اور وقتاً فوقتاً میڈیا کے سامنے آتے ہیں اور ان پر ہمارا اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کو ایک گروہ کا نام نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک عالمی تنظیم ہے۔ تحریک کے جتنے بھی نظریاتی لوگ ہیں ان کو ہم اپنا بھائی سمجھتے ہیں ۔ مالی کے مجاہدین ہوں، الجزائر کے مجاہدین یا دیگر علاقوں کے مجاہدین وہ تمام ہمارے مسلمان بھائی ہیں ۔ ان کے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔ تحریک کسی ایک علاقے تک محدود نہیں، تحریک صرف قبائلی علاقوں میں نہیں بلکہ پوری پاکستان اور برصغیر میں ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں دیگر ممالک میں بھی ہمارے تحریک کے روابط ہیں ۔ ہم ڈاکٹر اجمل کی رہائی کیلئے سوچ رہے ہیں ۔ حکومت کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے اور انشاءاللہ بہت جلد ان کو رہا کیا جائیگا۔ تحریک طالبان پاکستان نے مذاکرات کیلئے جو پالیسی بنائی ہے، جب وقت کا تعین ہو گا تو ہم اپنی پالیسی کا اعلان کریں گے۔ ہماری تحریک کے تمام لوگ ہر قسم قربانی اور فدائی کیلئے تیار رہتے ہیں ، ہم جہاں اور جس قسم کا امر کرتے ہیں وہ کاروائی کیلئے تیار ہوتے ہیں ۔ کراچی میں بینک لوٹنے کا الزام کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ منظر عام پر لا ئے۔ ہم ان لوگوں سے پیسے ضرور لیتے ہیں جو شرعی مجرم ہوں ہمارے پاس قانون ہے۔