حکومت نے وعدے پورے نہیں کئے‘ طالبان سے مذاکرات میں ضامن نہیں بن سکتا : نوازشریف

04 فروری 2013
حکومت نے وعدے پورے نہیں کئے‘ طالبان سے مذاکرات میں ضامن نہیں بن سکتا : نوازشریف

جدہ (امیر محمد خان+وقت نیوز) مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف نے طالبان سے مذاکرات کیلئے حکومت کی ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے وعدے پورے نہ کرنے والوں کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جدہ میں اپنی رہائش گاہ پر پاکستان جرنلسٹس فورم کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے انہیں پورا نہیں کیا اس لئے وہ طالبان سے مذاکرات میں ضامن نہیں بن سکتے۔ کرگل ایشو پر انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف جھوٹ بول رہے ہیں جنگ کے ذمہ دار وہ اور ان کے چار ساتھی جرنیل ہیں۔ مشرف الیکشن سے پہلے وطن واپس آئے تو تماشہ ہو گا۔ موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نہ صرف پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا بلکہ امریکہ کو ڈرون حملے کرنے کی اجازت بھی دی۔ مسلم لیگ ن نے پانچ سال تک جمہوریت کو بچائے رکھا ہے آئندہ انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں سے اتحاد کیا جا سکتا ہے۔ کراچی کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ شہر قائد میں امن و امان کی بحالی کے لئے تمام فریقوں سے رابطے کئے جائیں گے۔ طاہر القادری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ عوام کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ کراچی امن و امان کی بہتری کیلئے تمام فریقین سے رابطہ کرینگے۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ کرگل کے بارے مشرف دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔ میں اس مسئلہ سے قطعی طور پر لاعلم تھا۔ اس بات کا ثبوت جنرل زینی کی کتاب میں وہ تحریر ہے جس میں لکھا ہے کہ جنرل مشرف نے مجھ پر زور دیا تھا کہ صدر کلنٹن سے کرگل کے بارے میں بات کی جائے۔ چیئرمین نیب اور اس وقت کے ائیرمارشل نے کرگل کے اقدام پر جنرل مشرف سے کہا تھا کہ آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟ مسئلہ کرگل کے بارے میں صرف چار افراد جنرل مشرف، جنرل عبدالعزیز، کور کمانڈر جنرل محمد احمد اور جنرل جاوید حسن کو علم تھا ان لوگوں نے بغیر کسی تیاری اور یہاں تک کہ فضائی اور بحری کمانڈرز سے بھی کوئی مشورہ نہیںکیا۔ پاکستان پر مزید ڈرون حملوں کے بارے میں سوال پر نواز شریف نے کہا کہ اس بارے میں ہماری پالیسی واضح ہے ہم باعزت زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں اور اسی اصول پر عمل پیرا رہیں گے ۔ڈرون حملوں کی ہم ہر سطح اور ہر محاذ پر مخالفت کرتے ہیں یہ حملے ملکی سلامتی کے خلاف ہیں اور انکی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انتخابات کا التوا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہو گا جو قوتیں انتحابات کے التوا کی کوشش کر رہی ہیں ہم انکے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ صوبوں کی تقسیم کے ہم مخالف نہیں تاہم صوبے بنانے سے قبل اس بات کی یقین دہانی کرنی ضروری ہے کہ صوبوں کی تقسیم کے لئے تمام تر گراﺅنڈ ورک مکمل کر لیا جائے۔ تقسیم سے قبل یہ ضروری ہے کہ باقاعدہ کمشن بنایا جائے جو انتظامی اور دیگر معاملات کے بارے میں مکمل اور جامع رپورٹ پیش کرے جسے سامنے رکھتے ہوئے صوبے بنائیں جائیں۔ بغیر منصوبہ بندی کے صوبوں کا قیام دراصل انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے ۔ اور معصوم عوام کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ماضی سے سبق حاصل نہیں کیا جبکہ ہم ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے کام کررہے ہیں۔ گزشتہ تمام عرصے میں ہم نے انتہائی صبر وتحمل سے کام لیا تاکہ جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے۔ ہم پر فرینڈلی اپوزیشن کے الزامات لگائے گئے اسکے باوجود ہم نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ پنجاب میں ہماری حکومت کو ختم کرکے گورنر راج بھی نافذ کیا گیا مگر ہم نے آئینی راستہ اختیار کیا اگر ہم چاہتے تو ججوں کی بحالی کےلئے جو لانگ مارچ نکالا تھا اسے حکومت کی بحالی کےلئے بآسانی تبدیل کر سکتے تھے مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور اسلام آباد پہنچنے سے قبل ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ججوں کو بحال کر دیا گیا ہے تو ہم نے گوجرانوالہ پر ہی لانگ مارچ ختم کر دیا۔ ہماری جماعت ہمیشہ ہی عوامی ایشوز پر بات کرتی ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر اسے استعمال نہیں کیا جا رہا ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اگر ہماری حکومت آجائے تو ترجیحی بنیادوں پر توانائی کے بحران ، معاشی و تعلیمی مسائل کو حل کیا جائے گا ۔ کراچی سے پشاور تک بلٹ ٹرین اور کراچی میں انڈر گراﺅنڈ میٹرو سروس شروع کی جائے گی۔ نواز شریف نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ شفاف انتخابات ملکی استحکام اور سلامتی کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سندھ میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، سنی تحریک اور دیگر قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کرے گی۔ نواز شریف نے کہاکہ موجودہ حکومت نے تمام ادارے تباہ کردئےے ہیں یہ لوگ پانچ سال میں عوام کو بجلی دینے کے بجائے رینٹل پاور کے ذریعے حکومتی خزانے لوٹتے رہے ، ان لوگوں نے تمام ادارے تباہ کردئےے ہیں ، نواز شریف نے کہا ہم نے ماہرین کی مختلف کمیٹیاں قائم کی ہیں جو ہمارے اقتدار میں آتے ہی کام شروع کرےں گی اور پہلے دس دنوں میں عوام کے مسائل جو گزشتہ تیرہ سال سے کھٹائی میں پڑے ہں ان پر توجہ دینگے۔ طالبان کے اس بیان پر کہ حکومت سے مذاکرات کیلئے وہ میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اورجماعت اسلامی سے گارنٹی چاہتے ہیں، نواز شریف نے کہا کہ پہلے تو طالبان ہمیں بتائیں کہ مطالبات ہیں کیا ؟ نیز ہم اس حکومت کی کیا گارنٹی لے سکتے ہیں جو گزشتہ پانچ سال سے ہر شخص سے وعدہ خلافی کررہی ہے۔ طاہر القادری کے متتعلق ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق تھا تاکہ عوام کو مزید مایوس کیا جائے ، کیا بلند بانگ دعوے اورکیا اسکا انجام !!! انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ طاہر القادری ہماری ہی دریافت تھی ، مرحوم والد صاحب کو مسجد کیلئے ایک مقرر کی ضرورت تھی انہیں مسجد کیلئے رکھا گیا مگر سب سے پہلا داﺅ انہوں نے ہم پر ہی لگایا یہ ایک ایجنڈا پر کام کررہے ہیں ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نواز شریف نے کہا اقتدار میں آنے کے بعد ہم سب سے پہلے کراچی کی بدامنی کی فضا پر توجہ دیتے ہوئے کراچی کے عوام کو سکون کا سانس لینے کی عادت ڈالینگے ۔ رحمان ملک کے متعلق ایک سوال کے جواب میں میاں صاحب نے کہا سنجیدہ باتوں کے درمیان رحمان ملک کے بیانات پر کیا بات کی جاسکتی ہے ۔ دریں اثناء میاں نواز شریف نے جدہ میں مسلم لیگی تارکین وطن کو ظہرانہ دیا جو ان سے مرزا الطاف صدر مسلم لیگ اور نور آرائیں جنرل سیکرٹری کی سربراہی میں ان سے ملے جس میں مکہ المکرمہ، طائف اور جدہ کے ارکان شامل تھے۔ میاں محمد نواز شریف عمرہ کی ادائیگی کے بعد کل وطن واپس پہنچیں گے ‘وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے تھے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ میں عمرہ اداکیا اور خانہ کعبہ میں پاکستان کی سالمیت‘ استحکام و ترقی کیلئے خصوصی دعا کی۔ بعد ازاں وہ روضہ رسول پر حاضری دینے کیلئے مدینہ منورہ چلے گے۔ نوازشریف نے سعودی عرب میں اعلیٰ سعودی حکام کے علاوہ پاکستانیوں سے بھی ملاقاتیں کیں، دریں اثنا نواز شریف کی وطن واپسی پر اپوزیشن جماعتوں کا انتخابی اتحاد کیلئے اجلاس بلانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کی ہدایت پر پارٹی کے مختلف رہنما اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد اپوزیشن جماعتیں انتخابی اتحاد کیلئے متحد ہو جائیں۔ اس بات کا قومی امکان ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہو گا۔ نواز شریف کی وطن واپسی پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماﺅں کے درمیان ہونیوالی ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات اور نگران حکومت سمیت دیگر امور پر بات چیت ہو گی، جے یو آئی (ف) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کی خواہش پر ہو گی۔آن لائن کے مطابق نواز شرےف نے کہا کہ تارےخ مےں پہلی بار اسمبلےاں اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہےں عام انتخابات بروقت ہو نگے، پاکستان کی بقاءو سلامتی کی ےہی ضمانت ہے کہ اسمبلےاں ووٹ کے ذرےعے قائم ہوں اور ووٹ کے ذرےعے ہی عوام تبدےلی لائےں۔ پاکستان مےں اس وقت ماحول بن رہا ہے، چیف الےکشن کمشنر غےر متنازعہ شخصےت ہےں وہ ملک مےں شفاف الےکشن چاہتے بھی ہےں۔ صوبوں کی تقسےم کا شوشہ چھوڑ کے حکومت عوام کی الےکشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے ےہ دھوکہ دےنے کے مترادف ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دےنے کے لئے ےہ شوشہ چھوڑا ہے، اس وقت کے نےول چےف ائر مارشل نے کرگل کے اقدام پر جنرل مشرف سے کہا تھا کہ آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟ یہ کیسٹ اب بھی آن ریکارڈ ہے۔ آج کی دنےا مےں جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہےں، مذاکرا ت کے ذرےعے اسکا حل تلاش کےا جا سکتا ہے۔ خطہ کے امن کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان، بھارت تعلقات کو فروغ دےا جائے مسئلہ کشمےر کا پر امن حل تلاش کےا جائے۔ اس موقع پر انکے صاحبزادے حسےن نواز بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی حکومت کو ڈی رےل ہونے کی کوشش نہےں کی ہم نے ےہ فےصلہ عظےم تر قومی مفاد مےں کےا ےہی حب الوطنی کا تقاضا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری حکومت نے چارٹر آف ڈےموکرےسی کی ہمےشہ نفی کی ہے، اس حکومت نے نہ تو لوڈ شےڈنگ کا مسئلہ حل کےا نہ مہنگائی کا خاتمہ کر سکی، مےاں نواز شرےف نے بعد ازاں پاکستان مسلم لےگ ن کے کارکنوں سے کہا کہ انکی جماعت برسراقتدار آ کر ترجےحی بنےادوں پر لوڈ شےڈنگ ،پی آئی اے، بلٹ ٹرےن منصوبہ، کراچی مےں پائےدار امن و امان، قائم کرکے اسے اےک اہم شہر کا درجہ دےگی۔ مسلم لےگ ن برسر اقتدار آکر ڈرون حملوں کی صورت مےں آنکھ بند نہےں کرے گی عملی اقدامات کرے گی اور بڑی قوتوں سے مذاکرات کے ذرےعے مسئلے کو حل کرےگی۔ اسلام آباد + لاہور (سپیشل رپورٹ + خصوصی نامہ نگار) جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ترجمان نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں طالبان سے مذاکرات کے لئے ایک جرگہ بننا چاہئے جس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ قبائلی عمائدین کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے طالبان کی پیشکش کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم ایک عرصے سے کہہ رہے کہ فوجی طاقت مسائل کا حل نہیں حکومت کو مذاکرات کرنے چاہئیں مگر کیا صدر زرداری کا مضبوط ایمان ہے، کیا وہ فوج اور حساس اداروں کی گارنٹی دے سکتے ہیں، مذاکرات سے پہلے حکومت ، فوج اور اداروں کو اپنا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ مشرقی پاکستان میں جن قوتوں نے پاکستان کو ایک رکھنے کے لئے قربانیاں دیں آج انہیں مارا جارہا ہے پاکستان کی جانب سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ جب تک حکمران اعتماد بحال نہیں کرتے جماعت اسلامی کس طرح کوئی قدم اٹھا سکتی ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ طالبان کی جانب سے مفاہمت کی جانب قدم اٹھانے کی بات مثبت پیش رفت ہے لیکن ہم ابھی اس حوالے سے مزید تفصیلات کے منتظر ہیں، قوم ملک کو درپیش مسائل کا حل چاہتی ہے، اصل کردار تو حکومت کا ہے اسے سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہونگے۔