مقبول بٹ کی باقیات واپس کی جائیں‘ لبریشن فرنٹ کا سرینگر میں مشعل بردار جلوس اور دھرنا

04 فروری 2013


سرینگر (کے پی آئی) جموں و کشمےر لبریشن فرنٹ نے اسیران کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوے مرحوم محمد مقبول بٹ کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ کےا ہے۔ گزشتہ روز جموں و کشمےر لبریشن فرنٹ نے سری نگر مےں اپنے مطالبات کے حق مےں مشعل بردار جلوس نکالا اور دھرنا دےا۔ لبریشن فرنٹ کے قائم مقام چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے ذریعے کشمیریوں کو سزائے موت اور سزائے عمر قید سنانے اور جیلوں میں اسیر کشمیریوں پر مظالم کی انتہا ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ مشعل بردار دھرنے کے شرکا نے مرحوم محمدمقبول بٹ کی تصاویر اور اسیران کشمیر سے متعلق پلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے۔ احتجاجی مظاہرین آزادی، شہدائ، اسیران کشمیر اورمرحوم محمد مقبول بٹ کی جسدخ اکی اور باقیات کی وطن واپسی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔ مرحوم محمدمقبول بٹ کی شہادت 11 فروری سوموار کے روز مکمل احتجاجی ہڑتال کی اپیل دہراتے ہوئے بشیر احمد بٹ نے کہا کہ ہمارے محبوب قائد کو غیرقانونی طور پر تختہ دار پر شہید کر دینے اور پھر جیل کے اندر ہی انہیں دفن کرنے کی کارروائی ہر لحاظ سے ایک غیراخلاقی، غیرانسانی، غیرقانونی اور غیر جمہوری قدم تھا۔ حریت کانفرنس (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے کہا کہ مقبوضہ کشمےر مےں ہندوﺅں کی مرناتھ یاترا کو 58دن کی مدت تک بڑھانے کے فےصلے کا مقصد صرف کشمیریوں پر رعب جمانا ہے اور حقِ خودرادیت کو بھی دبانے اور کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔