بھارت: ریپ آرڈیننس عوام کے ساتھ دھوکہ ہے، تمام خواتین تنظیموں کا مطالبہ

04 فروری 2013


نئی دہلی (این این آئی) بھارت کی تمام خواتین تنظیموں نے خواتین کے خلاف ہونے والے جنسی جرائم پر برسر اقتدار یو پی اے حکومت کی طرف سے لائے جانے والے آرڈیننس کو عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔خواتین تنظیموں نے صدر پرنب مکھرجی سے گزارش کی ہے کہ اس آرڈیننس پر دستخط نہ کریں کیونکہ ان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ورندا گروور نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ یہ آرڈیننس عوام کے اعتماد کے ساتھ دھوکہ ہے۔ جس طرح سے حکومت بدحواسی میں بغیر کسی شفافیت کے اس آرڈیننس کو لے کر آئی ہے اسے کے تئیں ہم فکر مند ہیں۔کئی تنظیموں سے منسلک خواتین کارکنوں نے کہا کہ جب چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ کا اجلاس ہونے والا ہے تو پھر اس سے قبل ہی حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔؟آل انڈیا پروگریسیو ایسوسی ایشن کی کویتا کرشنن نے کہاکہ اس فرمان میں جی ایس ورما کمیٹی کی کئی تجاویز کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس آرڈیننس میں عوام کو شریک نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان میں لائی گئی تبدیلیوں پر بات چیت یا بحث ہوئی ہے۔