کرپشن الزامات پر ہسپانوی وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار‘ مظاہرے‘ اور جھڑپیں

04 فروری 2013


میڈرڈ(این این آئی) سپین کے وزیر ماریانو راخوائے نے بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت میڈرڈ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ میڈرڈ کے علاوہ بارسلونا، الیکانتے، والاڈولڈ، سیویا میں بھی مظاہرے ہوئے۔ میڈرڈ میں پولیس کی باری نفری تعینات تھی، جس نے مظاہرین کو پی پی کے صدر دفاتر تک پہنچنے سے روکے رکھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہروں کا اہتمام قانونی طور پر نہیں کیا گیا تھا۔ میڈرڈ کے مظاہرے میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ اقتصادی مسائل کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ ماریانو راخوئے نے ٹیلی وژن پر ایک بیان میں اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو کلی طور پر رد کیا۔ قدامت پسند وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے یا ان کی حکمران جماعت پاپولر پار ٹی (پی پی)کے کسی رہنما نے کبھی غیر قانونی رقوم وصول نہیں کیں۔ میڈرڈ میں اپنی جماعت کے ہیڈکوارٹرز میں خصوصی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک اجلاس کے دوران رقوم کی وصولی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ یہ جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تمام ذاتی بینک اکاﺅنٹس میں موجود رقوم کا ریکارڈ عام کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ انہوں نے انکم ٹیکس کے کاغذات پیش کرنے کا عندیہ بھی دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلومات آئندہ ہفتے وزیر اعظم کی ویب سائٹ کے ذریعے شہریوں کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔ راخوائے نے کہا کہ انہوں نے لینڈ رجسٹرار کے طور کام کرتے ہوئے زیادہ پیسہ بنایا تھا اور روپیہ پیسہ ان کی زندگی میں سب سے اہم چیز نہیں ہے۔