خودکشی سرکاری ہوتی ہے اور سیاسی ۔؟

04 فروری 2013
خودکشی سرکاری ہوتی ہے اور سیاسی ۔؟


ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
کبھی خط نہ لکھنے پر توہین عدالت ہوتی ہے اور کبھی خط لکھنے پر توہین عدالت ہوتی ہے۔ کرپٹ اور نااہل وزیراعظم گیلانی تو گئے اب فصیح بخاری کب جائیں گے اور راجہ رینٹل کی گرفتاری عمل میں آئی تو وہ بھی نااہل ہیں۔ یہ دونوں قربانیاں بھی صدر زرداری دیں گے۔ ”جمہوریت“ کے لئے قربانیاں؟ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قربانی بھی متنازعہ بن گئی ہے ۔ اگر مرتضی بھٹو کا قتل بھی قربانی ہے تو یہ قربانی بھی اسی فہرست میں شامل ہو گی۔ اک زرداری سب پر بھاری ۔ اگلی باری بھی ہماری،کہتے ہیں کہ بی بی زندہ ہوتی تو زرداری صدر زرداری نہ ہوتے۔ اگر مرتضیٰ بھٹو زندہ ہوتا تو بھی یہ واقعہ نہ ہوتا؟ بلاول بھی کہنے لگا ہے جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔ جب سے اس کا نام بلاول بھٹو ہوا ہے مجھے فکر لگ گئی ہے ، البتہ ساتھ میں زرداری لگنے پر کچھ حوصلہ ہوا ہے ۔ بے نظیر ، بے نظیر بھٹو تھیں۔ انہیں اپنے نام کا حصہ زرداری کو بھی بنانا چاہئے تھا۔
چیئرمین نیب فصیح بخاری بڑی ڈھٹائی سے کامران فیصل کی موت کو خودکشی بنانے اور بتانے پر مصر ہیں اور قائم ہیں جیسے اس نے یہ خودکشی فصیح بخاری کے سامنے ان کے کہنے پر کی ہو۔ اس نے خودکشی بھی کی ہے تو یہ بھی قتل ہے اور اس کے ذمہ دار بخاری صاحب ہیں۔ اتنا تو وہ بھی مانتے ہیں کہ وہ بڑے دباﺅ کا شکار تھا، تو یہ شکار کس نے کیا تھا۔ شکاری کون ہے ؟ شکاری اور بخاری ہم قافیہ ہیں۔ بخاری صاحب نے خط لکھ کے اس ظلم اور جرم میں صدر زرداری کو بھی فریق بنا لیا ہے ۔ فریق کی بجائے شریک ٹھیک ہے ۔ وہ شریک چیئرمین پیپلز پارٹی بھی ہیں۔
راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کے حکم پر پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی پھر اس خوشی کی ٹانگ اپنوں نے ہی توڑ دی، اب خوشی لنگڑا رہی ہے ۔ جو حال کامران فیصل کا ہوا شکر ہے طارق کھوسہ کا نہیں ہوا۔ ان پر بھی تو بڑے بڑے دبا¶ تھے پھر معاملے کو ہی دبا دیا گیا۔ شاید حکومتی حلقوں کی نجات کامران فیصل کے لئے فیصلے میں اس سے کم پر ممکن نہ تھی۔ بے نظیر بھٹو کے قتل میں بی بی کی تقریر کے دوران معنی خیز اشارے کرنے والے اور ان کے قتل کے چشم دید گواہ اپنے وفادار ساتھی اور رازدار خالد شہنشاہ کو قتل کروا دیا گیا۔ اس قتل کی بھی تفتیش نہیں ہونے دی گئی۔ کامران فیصل کی موت کی طرح رولا رپّہ بھی نہیں پڑا تھا۔ بار بار اندھے قتل مشکوک ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اپنے لئے خطرناک بندوں کی موت مختلف طریقے سے کرانا موزوں ہوتا ہے ۔ امریکہ کا بھی یہی طریقہ ہے ۔ امریکہ ہمارے حاکموں یعنی ظالموں کا صلاح کار ہے ”اصلاح کار“ بھی ہو گیا ہے ۔
کبھی کبھی یہ معاملہ گلے پڑ جاتا ہے مگر کب تک؟ شاہ زیب کے قتل میں کیا کیا نہیں کِیا گیا۔ میں اس بات کو نہیں مانتا کہ خودکشی کرنے والا بزدل ہوتا ہے ۔ خود مقتول خود ہی اپنا قاتل؟ جتنا بھی دباﺅ ہو فصیح بخاری سے کہیں کہ اپنی انگلی پر چوٹ لگا کے دکھائیں۔ میرا ایک پرانا شعر ہے تب میرے اندر خودکشی کے رجحانات پروان چڑھتے چڑھتے اتر گئے تھے :
تو جو قاتل ہے تو مقتول کہوں میں کس کو
تو جو گلچیں ہے تو پھر پھول کہوں میں کس کو
سُنا ہے اپنے کمرے میں کامران فیصل کو پھانسی دی گئی یا اس نے پھانسی لے لی۔ جیسے سزائے موت کے قیدی کو پھانسی دی جاتی ہے تو پھر یہ بھی خودکشی ہوتی ہے ؟ کئی بے گناہ لوگ پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔ کوئی گناہ قتل کے علاوہ بھی ہوتا ہے ۔ شاید کامران فیصل ایسے ہی ”قتل“ میں ملوث تھا۔ ریٹائرڈ سیاستدان ائر مارشل اصغر خان جبکہ سیاستدان صرف مرحوم ہوتے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں کو محروم کرنے کے بعد ہی مرحوم ہوتے ہیں۔ اصغر خان کے وزیر بیٹے عمر اصغر کی موت کو بھی خودکشی بنا دیا گیا تھا۔ اس میں اپنے وقت کے صدر مشرف کی طرف دھیان جاتا ہے ۔ ایسی موتیں زیادہ دلخراش ہوتی ہیں۔ اصغر خان مشکوک طریقے سے خاموش ہو گئے مگر کامران فیصل کے والد حکومت اور نیب کے مقابلے میں ڈٹ گئے ہیں۔ ایک باوقار بوڑھا --- نماز فجر کے اُجالوں میں دعا کی کیفیتوں کو جانتا ہے ۔ صبر اور اجر میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہاں کسی قربانی اور محنت کا اجر صرف صبر ہے ۔ سوچتا ہوں کہ جوان بیٹے کی قبر کشائی کے وقت اس کی حالتِ زار کیا ہو گی۔ نیب اور حکومت ہر زمانے میں ایک ہی چیز رہی ہے ۔ نواز شریف کے سیف الرحمن نے زرداری صاحب کو خوار کیا تھا اس کے بدلے میں صدر زرداری نے فصیح بخاری کو نیب کا چیئرمین بنایا ہے مگر اصغر خان کیس کے فیصلے کے باوجود مفاہمت کی سیاست کے تحت نواز شریف وغیرہ کو کچھ نہیں کہا جا رہا۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ کا وجود غنیمت ہے ۔ حکومت کے لوگوں کو کچھ تو خوف ہے ۔ خوف کی اداکاری اور سیاست زیادہ ہے ۔ جو کرپشن اس دورِ حکومت ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی بلکہ پاکستان میں بھی پہلے نہ ہوئی ہو گی۔ یہ سب کچھ سپریم کورٹ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے ۔ اتنا تو ہے کہ لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے ۔ پہلے حکومت کے بعد اور سابق حکمرانوں کے جیل جانے پر پتہ چلتا تھا۔ اس میں میڈیا کی کارکردگی نمایاں ہے ۔ سپریم کورٹ صرف فیصلے کرتی ہے اور میڈیا صرف خبر دیتا ہے اس کے بعد صرف مایوسی؟
اب بہت مشکل وقت آ گیا ہے ۔ پہلے لوگ نوکری بچانے کے لئے گڑبڑ کرتے تھے اب جان بچانے کے لئے کمپرومائز کرتے ہیں، کرتے ہی رہتے ہیں۔ ملازمت کرنے سے مُراد حکمران اور افسران کی خوشنودی اور خوشامد کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ فصیح بخاری سے کوئی پوچھے کہ تم نے نااہل اور کرپٹ وزیراعظم گیلانی کا حشر نہیں دیکھا؟ وہ قربان ہو گئے۔ اسے پتہ چل گیا تھا کہ ان کے ساتھ ایوان صدر نے ہاتھ کر دیا ہے مگر اب پھر انہیں پھنسا لیا گیا ہے ۔ حکومت سپریم کورٹ کے ناپسندیدہ یعنی کرپٹ آدمیوں کی سپورٹر ہے مگر گیلانی تو کرپٹ اور سپریم کورٹ کے ناپسندیدہ بھی تھے؟ پھر ان کے ساتھ کیا ہوا۔ صدر زرداری واقعی بھاری بلکہ بھاری بھرکم ہیں۔ حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا۔ اب بھی وہ سفیر سے زیادہ سفیر ہے ۔ سنا ہے فصیح بخاری کو بھارت میں سفیر بنایا جا رہا ہے ۔!!!