مارچ اور دھرنا

04 فروری 2013

نواز رضا
سپرےم کورٹ نے کراچی مےں گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدےق اور از سرنو حلقہ بندےاں کرنے کی زمہ داری الےکشن کمےشن آف پاکستان کو سونپی تواےم کےو اےم کے سوا کم وبےش تمام سےاسی جماعتوں نے اس فےصلہ کا خےر مقدم کےالےکن الےکشن کمےشن نے اس مرحلے پر جب کہ پوری قوم انتخابات کی تےارےوں مےںمصروف ہے نے از سرنو حلقہ بندےان کرنے سے معذوری کا ظہار کردےا تاہم الےکشن کمےشن کا عملی گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدےق کر رہا ہے لےکن اس عملے کو کماحقہ فوج کی سےکےورٹی فراہم نہ کرنے پر کراچی مےں سےاسی جماعتوں نے شدےد ردعمل کا اظہار کےا سےاسی جماعتوں جن مےں پاکستان مسلم لےگ(ن)،جماعت اسلامی ،تحرےک انصاف ، جمعےت علماءاسلام (ف)،فنکشنل مسلم لےگ ،سندھ ےونائےٹڈ پارٹی،جمعےت علماءپاکستان ،عوامی تحرےک کے نام قابل ذکر ہےں اپنے مطالبات منوانے کے لئے کراچی مےں دھرنا دے رہی تھےں پاکستان مسلم لےگ (ن) کے صدر محمد نواز شرےف کی صدارت مےں لاہور مےں منعقد ہونے والے سندھ مسلم لےگ (ن) کے رہنماﺅں کے اجلاس مےں کراچی مےں دھرنا دےنے والی سےاسی جماعتوں کو پارلےمنٹ ہاﺅس سے الےکشن کمےشن تک مارچ اور دھرنا دےنے تجوےز پےش کی جس کا کراچی مےں احتجاج کرنے والی تحرےک انصاف سمےت تمام جماعتوں نے خےر مقدم کےا جب تحرےک انصاف کی قےادت کو پاکستان مسلم لےگ (ن) کی مےزبانی کا علم ہوا تو اس نے اپنے پہلے اعلان کی سےاہی خشک ہونے سے پہلے ہی اسلام ااباد کے دھرنے مےں شرکت نہ کرنے کا دوسرا اعلان کر دےا جمعےت علماءاسلام (ف) جو پچھلے دو ہفتوں سے پارلےمنٹ کے دونوںاےوانوں کے اجلاسوں سے بلوچستان مےں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف تنہا واک آﺅٹ کر رہی ہے کے امےر مولانا فضل الرحمنٰ نے ” مارچ اور دھرنے“ کے مقاصد سے اتفاق کرنے کے باوجود اپوزےشن جماعتوں کی بلوچستان مےں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف جے ےو آئی کا ساتھ نہ دےنے پر مارچ اور دھرنے مےں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دےا لےکن مولانا فضل الرحمنٰ کی جدہ مےں مےاں نواز شرےف سے ٹےلی فون پرہونے والی بات چےت کے بعد الےکشن کمےشن کے سامنے دئےے جانے والے دھرنا مےں مشروط طور پر شرکت پر آمادگی کا اظہار کر دےا ہے مولانا فضل الرحمنٰ نے مےاں نواز شرےف سے اس بات کا شکوہ کےا ہے کہ ان کو دھرنے کی مےزبان پارٹی کی طرف سے باضابطہ طور پر دعوت دی گئی اور نہ ہی گورنر راج کے خلاف احتجاج مےں تعاون کےا جس پر مےاں نواز شرےف کی طرف سے 6 فروری 2013ءکو ہونے والے پارلےمنٹ کے مشترکہ اجلاس مےں گورنر راج کی توثےق نہ کرنے اور اس بارے مےں جے ےو آئی کے احتجاج مےں تعاون کرنے کی ےقےن دہانی کرائی پاکستان مسلم لےگ(ن)اور جمعےت علماءاسلام کے درمےان پارلےمنٹ مےں حکومت کے خلاف کے احتجاج کے وقت سے ہی ”سرد جنگ“ کی کےفےت پائی جاتی تھی لےکن رائے ونڈ مےں مےاں نواز شرےف کی زےر صدارت ہونے والے اپوزےشن جماعتوں کے اجلاس مےں مولانا فضل الرحمنٰ کی شرکت نے دونوں جماعتوں کے درمےان فاصلے کم کرنے مےں اہم کردار ادا کےا ہے اس اجلاس کے بعد جمعےت علماءاسلام (ف)کی قےادت کی طرف سے پاکستان مسلم لےگ(ن) کے ساتھ سےٹ اےڈجسٹمنٹ کے اشارے بھی دئےے گئے لےکن اےسا دکھائی دےتا دونوں جماعتوں کی قےادت کو اےک دوسرے کے قرےب آنے مےں ابھی مزےد کچھ وقت لگے گا پارلےمنٹ ہاﺅس سے الےکشن کمےشن تک مارچ اور دھرنے کا تمام انتظام و انصرام قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کر رہے ہےں انہوں نے مارچ اور دھرنے مےں شرکت کرنے والی جماعتوں سے رابطے کے لئے اسلام آبا سے پاکستان مسلم لےگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو فوکل پرسن مقرر کردےا ہے جنہوں نے بتاےا ہے سنی تحرےک کے شاہد غوری اور پنجاب سنی تحرےک کے صدر پر مشتمل دو رکنی اورجماعت اسلامی کراچی کے امےر مھمد حسےن نعمتی کی قےادت مےں تےن رکنی وفد دھرنے مےن شرکت کرے گا سندھ ےونائےٹڈ پارٹی کے سےنئےر نائب صدر شاہ محمد شاہ ،جمعےت علما ءپاکستان کے مرکزی نائب صدر شاہ اوےس نورانی بھی اسلام آباد آرہے ہےں ۔ دھرنے مےں اےاز پلےجو اورڈاکٹر قادر مگسی کی جماعتوں کی نمائندگی ہو گی جب کہ پارلےمنٹ ہاﺅس سے اپوزےشن جماعتوں کے ارکان پارلےمنٹ قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی قےادت مےں کراچی سے آنے والی جماعتوں کے رہنماﺅں سے دھرنے مےں شرکت کرےں گے اس موقع پر دھرنے مےں شرکت کرنے والی سےاسی جماعتوں کی طرف سے سےاسی قوت کابھی مظاہرہ ہوگا۔ چودھری نثار علی خان نے انجم عقےل خان‘ ملک شکےل اعوان اور ملک ابرار اور سردار نسےم خان کو پارٹی کارکنوں کو شاہراہ دستور پرلانے کی ہداےات جاری کر دی ہےں ےہ بات قابل ذکر ہے قومی اسمبلی اور سےنےٹ مےں پاکستان مسلم لےگ (ن) کی پارلےمانی پارٹی کا اجلاس 4 فروری 2013 ءکو 11بجے دن پنجاب ہاﺅس مےں طلب کر لےا گےا ہے اجلاس کے اختتام پر مسلم لےگ (ن) کی پوری پارلےمانی پارٹی مارچ اور دھرنے مےں شرکت کرے گی قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے احتجاج مےں شرےک ہونے والی تمام جماعتوں کی طرف سے اےک ےادداشت تےار کی گئی ہے جو چےف الےکشن کمشنر فخرالدےن جی ابراہےم کو پےش کی جائے گی جس مےں صاف شفاف کرانے کے عمل پر الےکشن کمےشن پر مکمل اعتماد کا اظہار کےا جائے گا اور اس بات پر زور دےا جائے گا کہ کراچی مےں از سرنو حلقہ بندےاں کی جائےں اور گھرگھر ووٹوں کی چےکنگ کرنے والے الےکشن کمےشن کے عملہ کو فوج کی جانب سے مناسب سےکےورٹی فراہم کی جائے اپوزےشن جماعتوں کا مارچ اور دھرنا تحرےک منہاج القران کے لانگ مارچ اور دھرنے سے مختلف ہے ےہ مارچ اور دھرنا کچھ دےر کے لئے ہو گا جس مےن الےکشن کمےشن سے مکمل اطہار ےک جہتی کےا جائے گااور الےکشن کمشن کو مزےد مضبوط اور باختےار بنانے کا مطالبہ کےا جائے گا قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے بار بار ےہ بات کہی ہے کہ اپوزےشن جماعتوں کے مارچ اور دھرنے کے ڈانڈے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے سے نہ ملائے جائےں ڈکٹر طاہر القادری کا دھرنا الےکشن کمےشن کی ازسرنو تشکےل کے لئے تھا جب کہ ان کا دھرنا موجودہ الےکشن کمےشن کو مزےد مضبوط اور خودمختار بنانے کے لئے ہے ےہ بات قابل ذکر ہے قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات کرنے کے لئے تےار نہےںقبل ازےں ان کی جانب سے آئےن مےں 20وےں ترمےم کی منظوری کے وقت ہارڈ لائن اختےار کرنے پر حکومت الےکشن کمےشن کے تمام ارکان کے آئےنی تحفظ دےنے پر تےار ہوئی ےہی وجہ ہے آج حکومتی عہدےدار ڈاکٹر طاہر القادری کے الےکشن کمےشن کو تحلےل کرنے کے مطالبہ کو غےر آئےنی قرار دے رہی ہے پاکستان کی سےاسی تارےخ مےں پہلی بار غےر متنازعہ الےکشن کمےشن قائم ہوا ہے جس پر پارلےمنٹ کے اندر اور باہر سےاسی جماعتوں کی بھاری اکثرےت کو مکمل اعتماد ہے اپوزےشن جماعتوں کا دھرنا بھی الےکشن کمےشن کی قوت نافذہ بڑہانے کے لئے ہے اپوزےشن جماعتوں کی طرف اس بات بھی مطالبہ کےا جا رہا ہے کہ پاکستان مےں صاف وشفاف الےکشن کے انعقاد کو ےقےنی بنانے کے لئے الےکشن کمےشن کو بھارت کی طرز پر اختےارات دئےے جائےں اگر پارلےمنٹ فوری طور پر قانون سازی کر کے اس مطالبہ کو اسی صورت پذےرائی کر سکتی ہے چےف الےکش کمشنر فخرالدےن جی ابراہےم بھی صاف وشفاف انتخابات کرانے میں پر عزم ہےں اور اس ذمہ داری کو احسن طرےقے سے ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہےں آئےن مےں دئےے گئے طرےقہ کار کے مطابق قومی اسمبلی تحلےل ہونے کے بعد وزےراعظم اور اپوزےشن لےڈر کی جانب سے 8 رکنی پارلےمانی کمےٹی کو دئےے گئے دودو ناموں پر تےن روز کے اندر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت مےں ےہ معاملہ 5رکنی الےکشن کمےشن کے پاس چلا جائے گا جہاں اتفاق رائے ےا اکثرےت سے ملک کے نگران وزےراعظم کا فےصلہ کےا جائے گا لہذا آئےن مےں حالےہ ترامےم نے الےکشن کمےشن کو اس حد تک بااختےار بنا دےا ہے وہ نگران سےٹ اپ کا فےصلہ کرے گا ےہ بات برملا کہی جا سکتی ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد مےں موجودہ حکومت کا کردار بڑی حد ختم ہو جائے گا جوں ہی طبل جنگ بجے گا اپوزےشن رہنما نگران سےٹ سے عام انتخابت کے نتائج پر اثرانداز ہونے والے کلےدی عہدوں پر فائز تمام افسران کو ہٹانے کا مطالبہ کر دےں گے جو بالآخر نگران وزےراعظم کو اپنی کرےڈبلٹی قائم رکھنے کے لئے منظور کرنا پڑے گا۔
....٭....٭....٭....