پیراٹڈگلینڈ کی رسولی۔تشخیص اور علاج

04 فروری 2013

ڈاکٹر محمد ذاکر سیال
انسا نی جسم میں چہرے کے دونوں اطراف کان کے آگے اورپیچھے مخروطی شکل کے دو غدود ہوتے ہیں جنھیںطب کی زبان میں©©" پیراٹڈگلینڈ "کہتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں لعاب دہن پیداکرنے کے لیے جتنے غدودبنائے ہیں ان میں یہ سب سے بڑا اور اہم ہے ۔عام حالات میں یہ غدود چہرے کی بیرونی سطح پر نظرنہیں آتے اور جب ہم کوئی بھی غذا کھاتے ہیں تو اس کی رطوبتیں ایک خاص نالی کے ذریعے منہ کے اندر خارج ہوتی ہیں جو غذا کو چبانے ، نگلنے اور بالخصوص نشاشتتہ دار غذاﺅںکے ہضم کرنے میں مدددیتی ہیں۔
ساخت:
یہ غدود مخروطی شکل کا ہوتا ہے اور کان کے آگے جبڑے کے اوپر واقع ہوتا ہے ۔اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔جن کے درمیان خون کی نالیاں اور باریک اعصاب(Nerves)ہوتے ہیں۔جن میں ایک اہم (Fascial Nerve)ہے جس کی سوزش سے عموما لقوے کی بیماری ہوجاتی ہے ۔اور اس غدود کے اپریشن میں اسی (Nerve)کی تمام شاخوںکو بچاناضروری ہوتاہے ،




پیراٹڈگلینڈکی بیماریاں
اس غدود کی گلٹی یا رسولی کا تفصیلان ذکر کر نے سے پہلے اس کی عام بیماریوں کے بارے میں قارین کرام کو مختصرا آگاہی دینا ضروری سمجھتاہوں
.1کن پیڑے (Mumps)
  یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جس میں دونوں اطراف کے غدود میں یکے بعد دیگرے ورم اور شدیدسوزش ہوتی ہے ۔اس میں مریض کو تیز بخار ، درداور کھانے پینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔یہ بیماری بچوں میں اکثرہوتی ہے لیکن بڑوںمیںبھی ہو سکتی ہے ۔اس کا علاج دواﺅں سے ممکن ہوتا ہے ۔اور مریض دو تین ہفتے میں عموما ٹھیک ہو جاتا ہے ۔اس کے تدارک کے لیے حفاظتی ٹیکے یا ویکسین (MMR)بھی دستیاب ہیں جو بچوں کو9ماہ کی عمر میں لگوائے جاسکتے ہیں۔
.2پتھری سے رکاوٹ
       
 بعض اوقات اس غدود کی رطوبت لے جانے والی نالی میں پتھری بننے سے رکاوٹ ہو جاتی ہے جس سے اس میں شدید سوزش اور ورم ہوتی ہے اور مریض کو کھانا کھاتے وقت شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔مریض کے منہ کے اندر سے معائنہ کرنے سے اور ایک ایکسرے کرواکرتشخیص کی جاتی ہے ۔اس کاعلاج آسان ہے ایک چھوٹے سے اپریشن سے نالی سے پتھری نکا ل دی جاتی ہے اور چند دواﺅ ں کے ساتھ مریض اسی دن ہسپتال سے فارغ ہو جاتا ہے ۔
.3غدود کی گلٹی
 مندرجہ بالابیماریوں کے علاوہ جس اہم بیماری کے بارے میں قارین کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتاہوں وہ اس گلینڈکی رسولی ہے ۔ویسے تو یہ گلٹی کسی عمر میں بھی ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر جوانوں اور درمیانی عمر کے لوگوں میں دیکھی گی ہے ۔اس گلٹی کی خاص با ت یہ ہے کہ شروع میں یہ چھوٹی ہوتی ہے اور آہستہ بڑھتی ہے لیکن اس میں درد اور سوزش نہیں ہوتی ہے ۔اس لیے مریض اس کو کن پیڑے سمجھ کر اسکا علاج نہیں کرواتے بلکہ کافی عرصے تک دم کرواتے رہتے ہیں اور عام ڈاکٹروں سے علاج کرواتے رہتے ہیں ۔جس سے یہ گلٹی کم تو نہیں ہوتی بلکہ اس کی ساخت میں تبدیلیوں کی وجہ سے یہ خطرناک جڑوں والی رسولی یا کینسر کی شکل اختیارکر لیتی ہے جس کا علاج لمبا ،مشکل اور پیچیدہ ہوتا ہے ۔بین الاقوامی طبی تحقیق کے مطابق 85-80فیصد مریضوں میںیہی گلٹی ہوتی ہے۔
±جڑوں والی یا کینسر کی رسولی
15سے 20فیصد مریضوں میں کینسر کی رسولی دیکھی گئی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اگر عام گلٹی یا رسولی بروقت اور معیار ی علاج نہ کرایا جائے تو اس کی ساخت میں ایسی تبدیلیا ں شروع ہو جاتی ہیں جو کینسر کی رسولی کا باعث بنتی ہیں۔ دوسری صورت میں کینسر کی رسولی ابتدائی طور پر ہی اس غدود میں پیدا ہو جاتی ہے جس سے مریض کو شروع ہی میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس کے چہرے کے اعصاب جلدی پکڑے جاتے ہیںجس سے مریض کا منہ ٹیڑھا یا لقوہ ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کے جلدی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے یہ کینسر گردن کی گلٹیوں کے علاوہ اس غدود کے ملحقہ اعضا ، جبڑے کی ہڈی اور دماغ تک پھیل سکتا ہے۔ اسلیے بروقت تشخیص اور معیاری علاج ضروری ہے۔
رسولی کی تشخیص اور علاج
اس رسولی کی تشخیص اور علاج کا ایک بین الاقوامی معیاری طریقی ہمارے ہاں بھی مروج ہے۔ہمارے پاس جب مریض علاج کے لئے شعبہ بیرونی مریضاںمیں آتے ہیں تو مریض کی گلٹی کا طبی معائنہ کرنے کے بعد چند ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جن میں ایک اہم ٹیسٹ باریک سوئی (FNAC)سے گلٹی میں موجود خلیوںکی نوعیت معلوم کرتے ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ عام گلٹی ہے یا کینسر والی رسولی۔ یہ ٹیسٹ ہماری پیتھالوجی لیبارٹری میں موجود ہے اور جلدی ہو جاتا ہے۔ اگر یہ عام گلٹی یا سادہ رسولی ہے تو مریض کو بیماری اور علاج کے بارے میں مکمل آگاہی دی جاتی ہے اور اس کی تحریری اجازت لینے کے بعد آپریشن کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک اہم اور ٹیکنیکل آپریشن ہے اور صرف ماہر اور تجربہ کا ر سرجن سے کروانا چاہیے ۔ اس آپریشن سے غدود کا متاثر حصہ بمہ گلٹی کے نکال دیا جاتا ہے اور 24گھنٹے بعد مریض ہسپتال سے فارغ ہو جاتا ہے۔ اگر مریض کی گلٹی کینسر والی ہو تو اوپر ذکر کیے گئے ٹیسٹوں کے علاوہ شعبہ ریڈیولوجی سے مریض کے سر اور گردن کا سی ٹی سکین تجویز کیا جاتا ہے تا کہ رسولی کے پھیلاﺅاور کینسر سے دیگر اعضا کے متاثر ہونے کے بارے میں بھی پتہ چلایا جا سکے۔ اگر مریض کے چہرے کے اعصاب ابھی تک ٹھیک ہیں اور کینسر زیادہ پھیلا نہیں تواس کا علا ج بھی آپریشن سے کیا جاتا ہے لیکن اس میں پوری غدود نکالی جاتی ہے اور گردن کے اس طرف کے حصے سے گلٹیاں بھی نکالی جاتی ہیں ۔ اس آپریشن میں ایک خاص طریقے سے اعصاب کو بچایا جاتا ہے بعد میں ان پریضوں کا علا ج بذریعہ شعاعیں شعبہ ریڈیوتھراپی سے کرایا جاتا ہے اور ان کا ایک خاص وقت تک وقفے وقفے سے معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ بیماری کے ٹھیک ہونے کا پتہ چل سکے ۔ ایسے مریض جن کی رسولی زیادہ پھیل چکی ہو تو اس کا علاج آپریشن سے ممکن نہیں ہوتا ہے بلکہ صرف عارضی اور علامتی علاج شعاﺅں سے ہی ہو سکتا ہے اور مکمل صحتیابی ناممکن ہے۔ 
ہمارے ہا ں شعبہ سرجری جناح ہسپتال میں ان مریضوں کی تشخیص اور فری علاج کی مکمل سہولیات دستیاب ہیں۔ ہمارے ایک وارڈ میں اس غدود کی گلٹی اور رسولی کے پچاس مریضوں کاعلاج بین الاقوامی معیار کے تحت کیا گیا ہے اور الحمداللہ اکثریت کو مکمل صحتیابی ہوئی ہے۔
آخر میں قارین کرام سے گزارش ہے کہ اگر کسی کو یہ بیماری حق ہے تو اس کا جلد ازجلد علاج مستند اور تجربہ کار ڈاکٹر سے کروائیں بلکہ دوسرے لوگوں کوبھی اس کے بارے میں مکمل آگاہی دیں تاکہ گلٹی میں کینسر بننے سے پہلے ہی اس کا مناسب آپریشن ہو جائے اور یہ جو لوگوں کے ذہن میں عام تاثر ہے کہ جراحی سے کینسر پھیلتا ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ ایک موئثرطریقہ علاج ہے اور مزید پیچیدگیوں سے بچاتا ہے

                                 ، کنسلٹنٹ اینڈ جنرل و لیپروسکوپک
                                 سر جن جنرل ہسپتال لاہور۔