ڈی اے پی کے بعد پوٹاش کھاد کی بھی قلت

04 فروری 2013

لاہور (نیوز رپورٹر) کھاد بنانے والی کثیر ملکی کمپنیوں اور محکمہ زراعت کی باہمی ملی بھگت سے ڈی اے پی کے بعد اب سلفیٹ آف پوٹاش کھاد کی مارکیٹ میں قلت پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے، جس سے پوٹاش کھاد کی بوری کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کھاد کا استعمال گنا اور دانے دار فصلوں کی بجھائی کے وقت استعمال ہوتی ہے، اس کے استعما ل سے فصلوں کو اوسط پیداوار میں 20 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے، فصلوں کے لئے تقریباً 2 لاکھ ٹن کھاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ پوٹاش کھاد کی قلت کی وجہ سے ہر برس گنا، سورج مکھی اور مکئی کی بجھائی شدید متاثر ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت سمیت پنجاب کا محکمہ زراعت اس صورتحال پر قابو نہیں پا رہا اگر حالات یہی رہے تو آنے والے دنوں میں اجناس کی شدید قلت ہوگی، کھاد نہ ملنے کی صورت میں فصلیں شدید متاثر ہوں گی، ہمیں بیرونی ممالک کی اجناس پر انحصار کرنا ہوگا۔