O .... بزنس ٹرین نے ایک سال مکمل کرلیا

04 فروری 2013

 پاکستان کی سیاست اور زراعت کے شعبے میں سابق وفاقی وزیر چودھری عبدالغفور کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، ان کے صاحبزادے ظفر اقبال چودھری سینیٹر بننے کے ساتھ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بنے اور بزنس کمیونٹی کے بہت سے ایسے مسائل حل کرانے میں کامیابی حاصل کی جو بیوروکریسی حل نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن ایک سینیٹر کی سیاسی طاقت بہت زبردست ہوتی ہے۔ امریکہ میں تو سینیٹرز کو ملکی فیصلوں اور سیاست میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔
سینیٹر ظفر اقبال چودھری جب لاہور چیمبر کے صدر تھے تو بزنس مینوں کو کراچی کے سفر میں مشکلات پیش آنی شروع ہوگئی تھیں کیونکہ پی آئی اے کا ایک تو کرایہ زیادہ تھا، دوسرا عین وقت پر روانگی ملتوی کر دی جاتی تھی پھر نائٹ کوچ استعمال کرنے والوں کو ہوٹل کا خرچہ بھی برداشت کرنا پڑتا تھا۔ جب ریلوے کے اعلیٰ حکام نے لاہور چیمبر کا دورہ کیا تو مطالبہ کیا گیا کہ ایک ایسی ٹرین چلائی جائے جو شام کو روانہ ہو کر صبح کراچی پہنچے اور بزنس مین اپنا کام مکمل کرکے اسی شام ٹرین سے واپس لاہور آجائیں۔ آئیڈیا کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بلاوجہ ہوٹلوں کے بھاری اخراجات سے نجات مل جائے۔ جب ریلوے نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ دکھائی تو سینیٹر ظفر اقبال چودھری نے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ریلوے حکام کا چیلنج قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ریلوے حکام نے کہا تھا کہ ”ہم تو ایسی بزنس ٹرین نہیں چلا سکتے، آپ لوگ معاوضہ دے کر ہم سے ٹرین لیں اور کامیابی سے چلا کر دکھا دیں۔“
آج بزنس ٹرین کو پورا ایک سال مکمل ہوا ہے۔ اس موقع پر ظفر اقبال چودھری نے ”نوائے وقت“ کو بتایا کہ بزنس ٹرین نے ریلوے میں آرام، سہولت اور سکیورٹی کے ساتھ سفر کرنے کے کلچر کو جنم دیا۔ ریلوے پلیٹ فارم اور ریٹائرنگ روم سب نے دیکھے ہیں، جب ہم نے ریلوے سے معاہدہ کیا تو مسافروں کو بہترین سہولتیں دینے کیلئے سول ایوی ایشن کے معیار سے بڑھ کر ایئرکنڈیشنڈ انتظارگاہ تعمیر کی، جس کی اس زمانے میں اتنی شہرت ہوئی تھی کہ انڈیا سے ایک ٹیم خاص طور پر اسے دیکھنے کیلئے لاہور آئی اور واپسی پر انہوں نے دہلی میں اسی معیار کی انتظارگاہ بنائی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری سہولت مفت ہے جبکہ وہاں 300 روپے فی مسافر وصول کئے جاتے ہیں۔
پاکستان ریلوے کو اس وقت تک ہم بزنس ٹرین کی طرف سے 86 کروڑ روپے ادا کرچکے ہیں جبکہ پاکستان ریلوے کی تاریخ میں آج تک کوئی ایسی ٹرین وجود میں نہیں آئی، جس نے ایک سال میں ریلوے کو 86 کروڑ روپے کما کر دیئے ہوں۔ ہمیں مشکلات صرف اس وجہ سے پیش آئیں کہ ریلوے نے صرف 9 کوچز والی چھوٹی ٹرین ہمارے حوالے کرتے ہوئے غلط اعدادوشمار پیش کئے اور کہا کہ اس روٹ پر مسافروں کی فی ٹرین اوسط 80 سے 85 فیصد ہے، چنانچہ ہم سے جو معاہدہ کیا گیا، اس کی بنیاد 88 فیصد پر رکھی گئی۔ جب یہ مسئلہ کابینہ میں پیش ہوا تو باقاعدہ آڈٹ ٹیم بیٹھی، جس نے ثابت کر دیا کہ ریلوے نے غلط اعدادوشمار دیئے تھے، جس کی وجہ سے ہمارا بنیادی 22 کروڑ روپے کا سرمایہ بھی خسارے میں چلا گیا۔ اس کے بعد ریلوے نے 2 مزید ٹرینیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیں لیکن ان سے جو معاہدہ کیا گیا، وہ اوسطاً 70 فیصد کا کیا گیا۔ نئی کمپنی نے پہلے سے ہی چلنے والی ٹرینوں کو چلایا جبکہ ہم نے ایک بالکل نئی ٹرین پٹڑی پر دوڑائی۔
اب حکومت کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں۔ چیئرمین ریلوے کی واپسی پر نئے معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے اور بزنس ٹرین اپنی آرام دہ اور محفوظ سروس دوبارہ شروع کر دے گی۔ ویسے ریلوے حکام کو سوچنا چاہئے کہ جو لوگ ان کیلئے منافع کما کر دیتے ہیں، انہیں صحیح اعدادوشمار تو فراہم کریں اور اگر کوئی جائز شکایت ہے تو اس کا ازالہ بھی وقت پر کر دینا چاہئے۔ پاکستان کی ترقی ایسے ہی ممکن ہے۔