” دوکھوسہ تلواروں کا، ٹکراﺅ!“

04 فروری 2013

 وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے سینئر مُشیر، سینیٹر سردار ذُوالفقار علی کھوسہ نے ،مسلم لیگ ن چھوڑ کر، پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے، اپنے منجھلے بیٹے سَیف اُلدّین کھوسہ، کو اپنی دُعاﺅں سے محروم کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ۔ ”عام انتخابات میں مَیں خُود، مسلم لیگ ن کے ٹِکٹ پر، این اے، 173 سے سَیف اُلدّین کھوسہ کے مقابلے میں انتخاب لڑوں گا“۔ ایک نیوز چینل نے، باپ بیٹے کے درمیان ہونے والے متوقع انتخابی معرکے کو۔ ”رُستم و سُہراب“۔ کی لڑائی قرار دِیا ہے، لیکن یہ مِثال دُرست نہیں ہے۔ خلیفہ دوم، حضرت عُمرؓ بن خطاب کے دور میں، جنگِ قادسیہ میں مارا جانے والا، ساسانی سردار رُستم، جب اپنے بیٹے سُہراب کے ساتھ دُو بدُو لڑائی لڑ رہا تھا تو، اُسے عِلم نہیں تھا کہ سُہراب اُس کا بیٹا ہے۔ رُستم کے ہاتھوں جاں لیوا زخموں سے چُور، سُہراب نے مرتے وقت رُستم کو بتایا تھا کہ وہ اُس کا بیٹا ہے۔ رُستم اپنے ہاتھوںبیٹے کی ہلاکت پر ،غم سے نڈھال ہو گیا اور کئی دِن تک بیٹے کی لاش اُٹھا کر اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا۔قدیم روم میں بھی تیغ زنی کا مظاہرہ اور مقابلہ کرنے کے لئے دو تلوار باز، مرتے دم تک ایک دوسرے سے لڑتے تھے، جنہیں Gladiators کہا جاتا تھا۔ جمہوری نظام میں، ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑنے والے امیدوار Gladiators نہیں ہوتے۔ دراصل یہ مقابلہ ووٹروں کے درمیان ہوتا ہے کہ وہ کس امیدوار کو اپنی نمائندگی کے قابل سمجھتے ہیں۔ رُستم نے بے خبری یا لا عِلمی میں اپنے بیٹے سُہراب کو قتل کر دیا تھا۔ سردار ذُوالفقار علی کھوسہ، اپنے بیٹے سیف اُلدّین کھوسہ کو (خدانخواستہ) قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ اُسے شکست دینے کے لئے، اُس کے مقابل میدان میں اُترنا چاہتے ہیں۔ جِس طرح مُغل بادشاہ اکبر نے (ایک کنیز۔”انار کلی“۔ کے عِشق میں مُبتلا) اپنے باغی بیٹے شہزادہ سلیم کو ( جوبعد میں بادشاہ نورالدین جہانگیرکہلایا) شکست دے دی تھی۔ذُوالفقار علی کھوسہ ، اپنے والد سردار دوست محمد خان کھوسہ کی وفات کے بعد، 1935ءمیں تمن دار اور بلوچ کے کھوسہ قبیلے کے سردار بنے۔ جمہوری دور سے پہلے سردار قبیلہ کو لا محدود اختیار حاصل ہوتے تھے، بعض علاقوں میں اب بھی ہیں، لیکن ذُوالفقار علی کھوسہ، روشن خیال اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے، سردار ہیں۔ اِس لئے انہوں نے سَیف اُلدّین کھوسہ کی سردار قبیلے کے خلاف بغاوت کا مسئلہ، کھوسہ قبیلے کے سامنے نہیںرکھا بلکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرکے جمہور کے سامنے رکھ دیا ہے۔اُسی پریس کانفرنس میں، سردار ذُوالفقار علی کھوسہ کے سب سے چھوٹے بیٹے (12دسمبر 2007ءسے 8جون 2008ءتک رہنے والے وزیرِ اعلیٰ پنجاب) دوست محمد کھوسہ نے کہا۔ ”ہم پاکستان کے معاشرے میں،رسم و رواج کے وارث ہیں، جہاں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ باپ ا ور بیٹے کا راستہ الگ ہو سکتا ہے۔ سَیف الدّین کھوسہ نے پیپلز پارٹی میں شامل ہو کر بلوچوں کی روایات کو ٹھیس پہنچائی ہے“۔ سردارذُوالفقار علی کھوسہ کی پریس کانفرنس میں، اُن کے سب سے بڑے بیٹے حسّام اُلدّین کھوسہ بھی موجود تھے، جِس سے ثابت ہُوا کہ وہ بھی اپنے والد اور بھائی دوست محمد کھوسہ کے ساتھ ہیں۔سردار ذُوالفقار علی کھوسہ کہتے ہیں کہ۔ سَیف الدّین کھوسہ نے اُس پارٹی(پیپلز پارٹی) میں شمولیت اختیار کی جِس نے پاکستان کو ڈبو دِیا اور جِس نے پاکستان کو لُوٹ کر صفایا کر دیا۔ اب سَیف الدّین کھوسہ اُس پارٹی(مسلم لیگ ن) کی قیادت کے بارے میں لغو باتیں کرنا بند کردے۔ جِس کے ساتھ ہم 20سال تک رہے۔ بلوچ تو جِس کے گھر سے پانی کا ایک گلاس بھی پی لیں، اُس کا احسان نہیں بھولتے۔ رشتہ سَیف الدّین کھوسہ نے توڑا ہے اور سب کے سامنے توڑا ہے۔ مَیں اُسے عاق نہیں کروں گا، کیونکہ عاق کرنا شرعاً جائز نہیں ہے“۔ نافرمان ،سرکش اور ماں باپ کا حُکم نہ ماننے والے کو۔ ”عاق“۔ کہتے ہیں اور فرزندی سے الگ یا محروم کرنے کے عمل کو ۔ ”عاق کرنا“۔ اِس عمل کے لئے۔ ”عاق نامہ“۔ لِکھا جاتا ہے۔ سردار ذُوالفقار علی کھوسہ نے سَیف الدّین کھوسہ کے لئے۔ ”عاق نامہ“۔ تو نہیں لِکھا لیکن پریس کانفرنس میں اُسے سیاسی طور پر عاق کرنے کا اعلان ضرور کر دیا ہے۔ باپ بیٹے کا رِشتہ بہت ہی مضبوط ہوتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں ہر شخص، اپنے باپ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ سیّد علی ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش لِکھتے ہیں کہ۔ ”اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مُبتلا ہو تو وہ اپنے والد سے دُعا کے لئے درخواست کرے اور اگر والد حیات نہ ہوں تو اُن کی قبر پر جا کر دُعا کرے کہ۔” اے میرے ربّ! میرے والد کے طفیل میری مشکلات دُور کر دے!“۔ اب اگر سَیف الدّین کھوسہ، کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لئے دُعا کے لئے کِس کے دروازے پر دستک دیں گے؟ کہ اُن کے والد نے تو اُن کو، علی الاعلان اپنی دُعاﺅں سے محروم کر دیا ہے۔ سردار ذُوالفقار علی کھوسہ اور اُن کے دونوں بیٹے حسّام الدّین کھوسہ اور دوست محمد کھوسہ، صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کو اپنا لیڈر(سردار) مانتے ہیں۔اِس لحاظ سے سَیف الدین کھوسہ، نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کرکے اور مسلم لیگی قیادت پر تنقید کرکے، تین بار سرکشی کی۔ باپ اور بھائیوں سے۔ کھوسہ قبیلے کے سردار سے۔اور سردار قبیلہ کے سردار۔ میاں نواز شریف سے۔یہ تو پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذُوالفقار علی کی روِش ہے کہ جنہوں نے صدر ایوب خان کو ۔”ڈیڈی“۔ بنایا اور پھر اُن کے خلاف بغاوت کر دی۔ مرزا داغ دہلوی نے کہا تھا۔”ہر اِک سے ٹیڑھ کی چلتے ہیں، بگڑی ہے روِش اپنی تمہاری چال سے، مِلتا جلتا ہے، کچھ چلن اپنا“۔جنوری 2009ءمیں ذُوالفقار علی کھوسہ نے سینٹ کا رکن ہونے کے بعد، اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 243ءچھوڑی تو ،سَیف الدّین کھوسہ، اس نشست پر اپنی اہلیہ کو منتخب کروانا چاہتے تھے، لیکن پارٹی ٹکٹ حسّام اُلدین کھوسہ کو مِل گیا۔ اگر سردار ذُوالفقار علی کھوسہ، حسّام اُلدین کھوسہ کی اہلیہ کے لئے پارٹی ٹکٹ کی سفارش کرتے تو ،مسلم لیگ ن کی قیادت اُن کی خواہش کا احترام ضرورکرتی، لیکن سَیف الدّین کھوسہ نہ صرف اپنے والد بلکہ پارٹی کی قیادت سے بھی ناراض ہو گئے اور قومی اسمبلی کی (جو چند دنوں کی مہمان ہے) نشست چھوڑ دی اور پارٹی کی قیادت کے بارے میں بھی (بقول سردار ذوالفقار علی کھوسہ) لغو باتیں کیں، یعنی واہیات باتیں۔ 20سال کی رفاقت اور پارٹی قیادت سے اپنے والد اور دو بھائیوں کی محبت کا بھی خیال نہیں کیا۔ سردار ذُوالفقار علی کھوسہ کے نام کا حِصّہ۔ ”ذُوالفقار“۔ اُس تلوار کی یاد دلاتا ہے، جو غزوہ ءاُحد میں حضورِ اکرم کو مالِ غنیمت میں مِلی تھی اور آنحضرت نے وہ تلوار حضرت علی مرتضی ؓ کو مرحمت فرمائی تھی۔”ذُوالفقار“۔ اب جمہوریہ تُرکیہ کے۔” توپ کاپی میوزیم “۔ میںمحفوظ ہے۔ حسّام اُلدّین کھوسہ میں لفظ ۔ ”حسّام“ اور سَیف اُلدّین کھوسہ میں لفظ ۔”سَیف“۔ کے معنی بھی تلوار ہی ہیں۔ اِس لحاظ سے دو تلواریں (ذُوالفقار اور حسّام) تو مسلم لیگ ن کے نیام میں ہیں لیکن تیسری (سَیف) پیپلز پارٹی کے نیام میں چلی گئی ہے۔ سردار ذُوالفقار علی کھوسہ کے اعلان کے بعد امید تو نہیں کہ سَیف الدّین کھوسہ اپنے والد کے مقابل آئیں گے۔ لیکن جب دونوں طرف سے تلواریں انتخاب جیتنے کے لئے بے نیام ہوں گی تو، یہ دو کھوسہ تلواروں کا ٹکراﺅ ہوگا۔