”پہلی خبر کے ساتھ دوسری خبر“

04 فروری 2013


کراچی میں فائرنگ، باپ بیٹے سمیت مزید 7 افراد قتل۔ بدامنی کے جاری تسلسل مےں ایک اور ہلاکت خیز واقعہ ”بھتہ“ نہ دینے پر صنعتکار پر بم حملہ ”لڑکےوں“ کو چھیڑنے سے منع کرنے پر 2 بھائی چچا سمیت قتل۔ لاہور میں کروڑوں کے ڈاکے مزاحمت پر اہل خانہ کو گولیاں مار کر ڈھیر کر دیا۔ پولیس کے مظالم کے خلاف احتجاجی جلوس کے مشتعل مظاہرین نے ”فرنیچر دوکان“ کو آگ لگا دی۔ پولیس مقابلے مےں 2 بھائیوں کی ہلاکت پر ورثاءکا شدید احتجاج ۔ لاہور میں قتل۔ ڈکیتی سمیت سنگین جرائم مےں خوفناک اضافہ۔ عوام عدم تحفظ کا شکار۔ موجودہ حکومت کے 5 سال پورے ہونے کی خوشی مےں پاکستان مےں اب ہر پیدا ہونے والا بچہ ”85 ہزار“ روپے کا مقروض پیدا ہوگا۔ یہ سماجی ناانصافی، عدم تحفظ، عدم برداشت کے شکار شہری طبقات کی اپنی تصویریں ہیں تو دوسری طرف سرکاری طبقات کی حالت ملاحظہ فرمائیں۔ ”پنجاب میٹرو بس اتھارٹی“ کے ”ایم ڈی“ کی آسامی 5 لاکھ ماہانہ تنخواہ کے ساتھ منظور۔ اس خبر کو ”مقروض بچہ“ والی خبر کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو یہ کیفیت محسوس ہوتی ہے وہ لکھنے کا یارا نہیں۔ ریسیکو اہلکارجان بچانے کی بجائے نیشن اٹھانے والے کارکن بن گئے۔ ”داتا گنج بخش ٹاﺅن“ ٹی او آر نے 2 ٹرکوں کی مرمت پر ”18 لاکھ“ خرچ کر ڈالے، ٹرک سرکاری ورکشاپ کی بجائے نجی ورکشاپ بجھواتے تھے۔ اب پہلی خبر دوسری خبر کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے تو زیادہ معنی خےز ہو گی۔ بجلی گیس بحران طویل۔ اٹھارہ، اٹھارہ گھنٹے بجلی غائب چُھٹی کے روز بھی طویل لوڈشیڈنگ۔ کئی علاقوں مےں پانی بھی غائب اب اس خبر کا پارٹ ٹو ”اوور بلنگ“ کا ٹیکہ۔ فیلڈ افسران نے ”ہائی کمانڈ“ کو خوش کرنے کیلئے بجلی صارفےن کو روزانہ اےک کروڑ غرےب متوسط طبقے کی رہی سہی سانسےں بھی بند کرنے کا پکا بندوبست کر لیا۔ ”80 روپے فی کلو“ مےں درآمدی ایل پی جی کی بلیک مارکیٹ مےں 225 روپے فی کلو فروخت، کوٹہ ہولڈر کے حصہ مےں 145 روپے فی کلو خالص، حلال منافع۔ غربت کے باعث آئے روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر شوہر نے بیوی اور 5 بچوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔ اسکے ساتھ دوسری خبر بھی پڑھ لیں۔ ”85 ارب“ کی کرپشن مےں ملوث ”توقیر صادق“ کو ”نیب“ نے پہلے فرار پھر گرفتار کرا دیا۔ اےک طرف اتنی غربت دوسری طرف اتنی کرپشن ۔ اےک اکیلا شخص اتنے پیسے کھا سکتا ہے تو پھر سوچئے کہ کتنا پوٹشنیل ہے اس ملک مےں حرام کھانے والوں کا اور کتنے وافر ہےں اس ملک کے وسائل مگر کس کیلئے؟ صرف طاقتور کیلئے باقی کمزوروں کیلئے پھانسی کے پھندے ۔۔۔ ےہ تو تھا سماجی جائزہ اب ”اتحادی ٹائیگر“ کی طرف چلتے ہےں۔ ”صدر اوباما“ نے اپنی تقرےب حلف برادری مےں فرمایا کہ ”جنگوں کا عشرہ“ ختم ہو رہا ہے۔ بدترین دشمنوں کو بہترین دوست بنانے کا ختم آ گےا ۔۔۔ اب اس خبر کا پارٹ ٹو ملاحظہ فرمائیے۔ سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی چُھٹی۔ اب حملوں کیلئے ”صدر امریکہ“ سے پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ پالیسی صرف پاکستان کیلئے نافذ کی گئی ہے باقی ہٹ لسٹ مےں موجود ممالک مےں ” ڈورن حملوں“ کیلئے ”صدر امرےکہ“ سے باضابطہ اجازت لےنا ہوگی۔ اس خبر کا سادہ سا ترجمہ یہ ہے کہ ڈرون اٹیک کی چُھٹی کے ذریعہ نئی ڈرون پالےسی جاری رکھنے کا فیصلہ ”جنگوں کے عشرہ“ کے ختم ہونے کا تسلسل ہے۔ ”شاباش انکل سام“ ۔ بیرونی قوتوں کے نزدیک پاکستان ”غیر ملکی جہادی گروپوں کا گڑھ“ ہے اس کے باوجود کہ ہم اس جنگ کا خود سب سے زیادہ متاثرہ فریق ہےں۔ بے پناہ جانی و مالی اطراف کے باوجود بھی وہ ہم سے راضی ہونے مےں نہیں آ رہے۔ آخر ”جرائم“ دہشت گردی سے بھرپور خبریں ہمارے ماتھے کا جھومر کیوں بنتی جا رہی ہےں؟ بدامنی اور دہشت گردی کبھی کسی نے سنجیدگی سے سوچا کہ بدامنی اور دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ اس خطہ مےں کس کی موجودگی پاکستانی قوم کو اس وقت دو بڑے چےلنجز کا سامنا ہے ”ریاستی و غیر ریاستی“ ہر دو اطراف سے قوم بے حد خوفزدہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔ چوروں، ڈاکوﺅں کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رویہ بھی کانی متنازعہ اور بحث طلب ہے۔ موجودہ دور ”چمک کا دور“ ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے وہ کہیں بھی۔ کچھ بھی خرید سکتا ہے۔ مگر یہ امر ملحوظ رہے کہ بے پناہ دولت کی خواہش غربت کے خاتمے مےں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
چند فیصد خاندانوں، افراد کے ہاتھوں مےں دولت کا ارتکاز جہاں دستیاب و سائل کی منصفانہ فراہمی مےں رکاوٹ ڈالتا ہے وہاں معاشی سرگرمیوں کی نمود میں بھی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ مقامی و عالمی سطح پر دولت کی مساوی بنیادوں پر تقسیم کا کوئی میکنزم نہیں۔ ہمارا معاشی ڈھانچہ ایک ہمہ گیر لیکن نتیجہ خیز اصلاح کا متقاضی ہے۔ لےکن سوال ےہ کہ ےہ ”اصلاح “ کا فریضہ کون نبھائے گا؟ ایسے حالات مےں کہ ہم ”جمہوریت بہترین انتقام“ کے بے پناہ ثمرات جھولیوں مےں سمیٹ چکے ہےں اگر ماضی مےں ”جمہوریت “ پر شب خون مارے گئے تو اب ”جمہوریت“ کے نام پر عوام پر شب خون مارے گئے۔ اگر الیکشن مروجہ انتخابی نظام کے تحت ہوتے ہیں تو پھر کسی بڑی یا خاص تبدیلی کی توقع رکھنا خود فریبی ہے۔ انتخابی نتائج کی پٹاری سے حسب روایت ”آلودہ مرکب“ ہی برآمد ہوگا۔ بہتر ہے کہ آئین کی شرائط کے مطابق الیکشن ہوں۔ آئینی الیکشن کمشن و قانونی ضوابط کی کڑی پابندی کا اہتمام یقینی بنائے۔ از بس ضروری ہو گےا ہے کہ نئے صوبوں کے پنڈورا بکس اور اختیارات کی جنگ کو اب ترک کر کے فوری طور پر الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر کے عبوری سیٹ اپ بھی قائم کر دیا جائے کیونکہ ”لاہور ہائیکورٹ“ نے ”مجوزہ نئے صوبہ“ کے خلاف دائر درخواستوں پر ریمارکس دئیے ہےں کہ موجودہ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے پاس نئے صوبے بنانے کا مینڈیٹ نہیں ہے اس ایشو پر اب سڑکوں کے علاوہ ”قومی اسمبلی“ میں بھی ہنگامہ ہو چکا ہے اس لئے طے شدہ آئینی حدود مےں دخل اندازی نہ کرنا ہی دور اندےشی ہے۔ ”ہنگو“ مےں بم دھماکہ مےں مرنے والوں کیلئے دعائے مغفرت۔