لیکن عوام کو صوبے نہیں، روٹی کپڑا اور مکان چاہئے

04 فروری 2013


ڈاکٹر محمد باقر نبیرہ آزاد نے کہیں لکھا تھاکہ کیا جدیدیت اور کیا قدامت پسندی، ہم سب ایک دائرے میں چکر لگا رہے ہیں۔ جب نوجوان تنگ موری کی پتلون پہنتے ہیں تو بوڑھے کھوسٹ اپنی پتلون کو کھلا ڈھلا کر لیتے ہیں۔ جب نوجوانوں کی پتلون پاجامے اور شلوار کی طرح ڈھیلی ڈھالی ہو جاتی ہے تو پھر یہ قدامت پسند تنگ موری کو عین تہذیب وضع داری اور شائستگی پر محمول کرتے ہیں۔ آج کا سوال ہے کہ کیا عریانی کے محاذ سے یورپ کی واپسی شروع ہو گئی ہے؟ برطانوی رکن پارلیمنٹ رچرڈ گراہم نے اونچی ایڑھی اور تنگ سکرٹ کو خواتین کی عزت کے لئے رسک قرار دیا ہے۔ انہوں نے اونچی ایڑھی اور تنگ لباس کو ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر خواتین ریپ کے واقعات سے بچنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنے لباس اور جوتوں پر توجہ دینا ہو گی۔ پھر یہ ہنسی کی نہیں سنجیدہ بات ہے کہ اونچی ایڑھی کے جوتے پہن کر خواتین بھاگ بھی نہیں سکتیں اور یوں بڑی آسانی سے ایک آسان شکار بن جاتی ہیں۔ اردو کے ایک شاعر نے لباس کی اس عریانی کی یوں منظر کشی کی ہے....
سانس ویسے بھی زمانے کی رکی جاتی تھی
وہ بدن اور بھی کچھ تنگ قبا مانگے ہے
یہ سب کچھ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں بات ترغیبات کی ہے۔ ترغیبات گناہ کے کئی پہلو ہیں۔ اب ہم پوشاک کی تنگی سے نفس مضمون کو بڑے محلات کی فراخی کی طرف لئے چلتے ہیں۔ کئی ایکڑ پر بنے ہوئے محلات کے سامنے سے گزرتے ہوئے اڑھائی مرحلہ کے مکان کے کرایہ دار پر جو کچھ بیتتی ہے اس کی منظر کشی کے لئے دانتے کا قلم چاہئے ۔ اس احساس محرومی کی شدت کے بطن سے تبدیلی نہیں خونی انقلاب جنم لیتے ہیں۔ 1947ءکے خون خرابہ پر پنجاب شاعرہ امرتا پریتم، وارث شاہ کو پکار رہی تھی کہ ’کدھرے قبراں وجوں بول، اور اک اکیلی ہیر کا دکھ درد لکھنے والے ہنرمند شاعر! تجھ کو کچھ خبر ہے کہ لاکھوں ہیریں ماتم کناں ہیں۔ ’یاخدا!‘ قدرت اللہ شہاب کا لکھا ہوا ایک شاہکار افسانہ ہے۔ یہ بھی 1947ءکے واقعات کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ آپ اسے اردو زبان میں لکھی گئی چند دردناک ترین تحریروں میں سے ایک تحریر قرار دے سکتے ہیں۔ اس کی سطر سطر سے قدرت اللہ شہاب کے قلم کی معجز بیانی آشکار ہے۔ شہاب زندہ ہوتا تو عرض کرتا کہ اسے حرفوں میں تصویر کھینچنے والے مصور! اپنے قلم سے اک کرایہ دار نامہ‘ بھی لکھ ڈالو۔ ایک کمرہ میں رہنے والے کسی خاندان کی داستان غم جہاں میاں بیوی کو بھی تخلیہ نصیب نہیں۔ جہلم سے ترک وطن کر کے ہندوستان جا بسنے والے پنجابی شاعر موھن سنگھ دیوانہ نے اپنے نوجوان بیٹے بھوپندر کی جواں مرگی پر اک نوحہ لکھا تھا۔ ’نقل کفر نباشد‘ ’اے میرے رب تو بیٹے کی موت کا درد کیا جانے، یہ درد کوئی صاحب اولاد ہی جان سکے ہے۔‘ میں اس کی شوخی جانتا ہوں وہ کسی بے مکان کا قصہ لکھتا تو یہ ضرور لکھتا ’اے لامکان کی صفت رکھنے والے دونوں جہاں کے مالک تو مکان کی قدر و قیمت کی جانے۔‘ اگرچہ علامہ اقبال بھی اللہ تعالیٰ سے ایک بے تکلفی کے ماحول میں ہم کلام رہے ہیں اور گستاخی و بے باکی کو محبت کی رمزیں قرار دینے کے دعویدار ہیں۔ پھر بھی ’صاحب لامکان‘ سے ایسی باتیں اک سکھ شاعر موہن سنگھ دیوانہ ہی کر سکتا ہے۔ ایک دانشور کا خیال ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں میں طبقاتی غیرت کی کمی کے باعث بھٹو کو پھانسی پر چڑھانا ممکن ہوا۔ بھٹو کی پھانسی صرف بھٹو اور بھٹو فیملی کا مسئلہ تھی۔ طبقاتی غیرت کسی طبقہ کے مجموعی مفاد کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ان دنوں الیکشن کی آمد آمد ہے۔ منشور جھاڑ پھونک کر کونوں کھدروں سے نکالے جا رہے ہیں۔ لاہور میں بلاول ہاﺅس مکمل ہو گیا ہے۔ کہاں واقع ہے؟ میں نہیں جانتا۔ بہت بڑا ہو گا۔ بڑا عالیشان ہو گا۔ یہ ایرانی صدر احمدی نژاد کے لئے تعمیر نہیں کیا گیا جو دورے پر گئے ہوئے نیو یارک میں ایک رات اپنے سفارت خانہ میں کاٹ لیتے ہیں۔ یہ پاکستانی صدر کے لئے ہیں جس کی بھوک بس مٹ ہی نہیں رہی۔ ایک میزبان نے مہمانوں کی تعداد کچھ زیادہ دیکھتے ہوئے اپنے مہمانوں سے درخواست کی ’حضرات آپ آج جانوروں کی طرح کھانا کھائیں۔ انسانوں کی طرح نہیں۔ پھر اس نے وضاحت سے اپنی غیر شائستہ بات کو شائستہ بنایا، کیونکہ جانور بے چارہ اپنی بھوک کے مطابق کھاتا ہے اور انسانوں کی بھوک کھانے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔‘ میں نے لاہور میں پہلا بلاول ہاﺅس دیکھا ہوا ہے۔ یہ پرانے ائر پورٹ کے قریب کرایہ پر لیاگیا تھا۔ یہاں میری آصف زرداری سے ایک گھنٹہ کی طویل ملاقات ہوئی۔ چھوٹے سے سادہ کمرے میں آرائش کی چیز صرف سروس انڈسٹری والے احمد مختار کی مودب موجودگی تھی۔ وہ میری ساری ملاقات میں ہاتھ باندھے آصف زرداری کے پیچھے کھڑے رہے۔ رائے ونڈ کے محلات کو برادرم عطاالحق قاسمی محلات ماننے سے یکسر انکاری ہیں۔ محل کتنے کنال سے شروع ہوتا ہے؟ میں کیا بتاﺅں۔ یہ پیمائش کسی لغت میں بھی درج نہیں۔ عمران خان کے لاہور زمان پارک والے گھر میں بڑے محلات کا ذکر چھیڑا ہوا تھا۔ برادرم حفیظ اللہ خان نیازی بڑے گھروں کے دفاع میں رزق حلال والی دلیل پیش کر رہے ہیں وہ دوسروں کی کم ہی سنتے ہیں میں انہیں حضور کا یہ فرمان نہ سنا سکا کہ ’دریا کنارے وضو کرتے ہوئے بھی پانی کے استعمال میں احتیاط برتو۔‘ اسلام عدل، سلامتی اور میانہ روی کا نام ہے۔ بات سیاستدانوں کی طبقاتی غیرت کی چھڑی تھی۔ آج تمام سیاستدان اک دوسرے کے محلات کا ذکر نہیں چھیڑ رہے۔ یہ ہمارے سیاستدانوں کا طبقاتی مسئلہ ہے جس ملک کے کھیت عوام کی بھوک کا مداوا نہ کر سکیں۔ گندم باہر کے ملکوں سے منگوانی پڑے۔ خوردنی تیل باہر سے منگوانا پڑے وہاں کے علمائے دین نے ابھی اس مسئلے پر سوچنا بھی نہیں شروع کیا کہ بڑے بڑے محلات میں بڑے بڑے گھاس کے لانوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ریاست ملکیت زمین کے بارے میں اپنے تمام حقوق سے دستبردار ہو گئی ہے؟ کوئی شخص اپنے ملکیتی زرعی رقبے کو جیسے چاہے استعمال میں لائے۔ کیا ریاست مداخلت کا کوئی حق نہیں رکھتی؟ پھر ریاست کسی شخص کو کتنی زمین الاٹ کر سکتی ہے؟ ایک خبر ہے کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان رئیسانی نے اپنے دور حکومت میں اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے نام 21ہزار ایکڑ سرکاری زمین الاٹ کی ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے بیچ اس مسئلے کے؟ میاں شہباز شریف نے الیکشن کے نزدیک آشیانہ سکیم شروع کی ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ الیکشن سٹنٹ ہے۔ میں کہتا ہوں بھوکے کو جب بھی روٹی مل جائے اچھی بات ہے۔ اس بے چارے کو ہمیشہ بھوک لگی رہتی ہے۔ اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں امیر کبیر آصف زرداری بھی داد و دہش پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ بھوکے ننگے بے گھر عوام کو صوبوں کی بخشیش کر رہے ہیں لیکن عوام کو صوبے نہیں روٹی کپڑا اور مکان چاہئے ۔