عزت بچاﺅ!!!

04 فروری 2013


چھیاسٹھ سالوں سے پاکستان کی سیاست پر ایک عنصر نمایاں طور پر نظر آتا ہے اور وہ غریب عوام کا نعروں اور کھوکھلے دعوﺅں اور وعدوں سے استحصال، کبھی ہی نعرہ ”اسلامی نظام“ اور ”اسلامی بلاک“ کے نام سے لگایا گیا اور کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے دلفریب نعروں نے عوام میں امید کی کرن پیدا کر دی۔ سادہ لوح عوام کبھی حقوق کے تحفظ کےلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کبھی ”ریاست بچاﺅ “ کے نعرے پر میدان عمل میں آ گئے۔ ”لیکن وہی ڈھاک کے تین پات“ عوام ہر بار مایوسی اور محرومی کی زد میں آ گئے۔ اپنے ذاتی مفادات، انا اور تکبر کے آگے کسی حکمران نے یا رہنما نے یہ نہ سوچا کہ لوگوں پر کیا ظلم ڈھا رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کےلئے کس پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں؟ عوام کو کس جرم کی پاداش میں محرومیوں اور مایوسیوں کی طرف دھکیلا جا رہاہے اور سب سے زیادہ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کہیں ہم اقوام عالم میں تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن رہے۔ ان سوالوں کا جواب تو کچھ یوں دیا جا سکتا ہے کہ اگر قائد کے رفقاءکار اس نہج پر سوچتے کہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے کیا تقاضے ہیں تو پاکستان کی تاریخ یقیناً مختلف ہوتی لیکن پاکستان کی تاریخ پر آمریت، مارشل لاءشخصی حکومت اور ایک پارٹی کی اجارہ داری کے سائے منڈلاتے رہے جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاست کی کھیتی میں جو بیج بوئے گئے وہ تھوہر کا جنگل بن گئے۔ جو کچھ مختلف مناظر کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ نہ تو اسے جمہوریت کے لئے خوشگوار کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی قابل برداشت ڈیل اور مک مکا کا سیاست نے قوم کی عزت اور وقار کو مجروع کیا ہے جب قوم عزت مندانہ طریقے سے جینا سیکھ جاتی ہے تو سیاست اور ریاست دونوں کو تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ وگرنہ اگر صورتحال مختلف ہو جائے تو کسی معاشرے کو غلطیوں کا ازالہ سود سمیت ادا کرنا پڑتا ہے۔ تب معاشرہ معاشی اور سیاسی زوال کی طرف جا نکلتا ہے۔ نظریں بیرونی امداد کی متلاشی رہتی ہیں۔ وہ امداد زہر بن کر معاشرے کے رگ و پے میں اترنے لگتا ہے۔ بیرونی امداد دینے والی ریاستیں ہمیشہ غیر جمہوری حکومتوں کی پشت پناہی کرتی ہیں تاکہ فرد واحد کی حکومتیں ان کے خطرناک عزائم کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ یہیں سے قوموں کی تہذیب، روایات اور اقدار کی تضحیک کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ قوم کا عزت و وقار خاک میں مل جاتا ہے اور معاشرتی سطح پر اس بدحالی کا آغاز ہوتا ہے جس میں بے کسی اور بے حسی کے جراثیم پلتے رہتے ہیں....
زمیں جذبوں سے خالی ہو رہی ہے
ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں
یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ ہم سب کھلی آنکھوں سے اپنی تباہی کے منظر دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کی نظروں میں اپنی عزت اور وقار کو مجروح ہوتا دیکھ رہے ہیں لیکن پھر بھی آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔
سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ غریب عوام کے احساسات کے ساتھ کھلواڑ کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ وہ کون سے اقدامات کئے جائیں کہ غربت کا حل ڈھونڈا جا سکے زنجیر عدل ہلانے سے انصاف مل سکے؟ غریب اور امیر کے درمیان تفاوت ختم ہو جائے۔ تب اسکا جواب یوں ملتا ہے کہ یہ سب کچھ عمدہ حکمرانی سے ممکن ہے لیکن عمدہ حکمرانی کے لئے وہ اوصاف کہاں سے لائیں جو ملک کو باعزت مقام دلا سکیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ صدیوں سے جاری فرسودہ نظام کو توڑنا مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ درمیان میں ذاتی مفادات کی وہ خلیج حائل ہے جس کو پاٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
بے عزتی اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ ہم اپنی ہی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ ایک حکایت ہے کہ ایک شخص درخت پر چڑھا اسی شاخ کو کاٹ رہا تھا۔ جس پر وہ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک دانا کا وہاں سے گزر ہوا تو اس نے کہا ”اے بیوقوف تو نیچے گرپڑے گا“ اس شخص نے دانا کی بات کو اہمیت نہ دی او رشاخ کاٹ ڈالی چند ہی لمحوں میں وہ دھڑام سے نیچے آ گرا۔
وہ شخص بھاگا بھاگا دانا آدمی کے تعاقب میں ہو لیا اور اسے جا پکڑا اس نے دانا سے سوال کیا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں بیوقوف ہوں اور نیچے گر جاﺅں گا“۔ دانا تھوڑا سا ہنسا اور بولا۔
”تمہاری پیشانی پر لکھا ہوا ہے کہ تم بیوقوف ہو“۔
ہماری پیشانیوں پر بھی شاید ہماری تقدیر لکھی ہوئی ہے لیکن پشیمانی کی بات یہ ہے کہ ہمیں اسکا شعور اور ادارک نہیں یا خود غرضی کے دبیز پردوں میں ہم حقیقت کو دیکھنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔