ہمارے ٹبر پال سیاستدان

04 فروری 2013
ہمارے ٹبر پال سیاستدان


ہمارے ہاں کئی لوگ برادری پال ، علاقائی پال ، ہم وطنی پال اور ہم زبان پال ہوتے ہیں، لیکن بعض ٹبر پال (خاندان پال ) بھی تو سب سے زیادہ ہوس زر کا شکار ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ حکمران طبقہ اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ مرض سیاستدانوں میں بھی عام پایا جاتا ہے۔ آج کل صدر مملکت سے لے کر وزراءتک تو حد درجہ مریض ہیں۔ ہمارے نااہل وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو تو ٹبر پالنے میں طلائی تمغہ انعام دینا چاہئے تھا۔ جب وہ وزیراعظم تھے۔ ان کا واحد چھوٹا بھائی رکن صوبائی اسمبلی تھا جبکہ ایک بیٹے کو تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یار خان میں رہائشی اپنے ماموں زاد مخدوم سید احمد محمود کے علاقے سے منتخب کرایا۔ پھر اسی صاحبزادے کو خالی ہونے والی اپنی نشست پر قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں رکن منتخب کرا لیا تھا۔ جبکہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ مخدوم شاہ محمود پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو اس پارٹی میں شامل ہونے کی شرط پوری کرنے کے لئے قومی اسمبلی کی رکنیت سے وہ مستعفی ہو گئے تھے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے موقع غنیمت جانا، اس نشست سے اپنا دوسرا بیٹا رکن قومی اسمبلی منتخب کرا لیا تھا۔ ان کے تیسرے بیٹے کی ابھی باری نہیں آئی تھی کہ اگلے الیکشن کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ یاد رہے کہ ان کے یہ تینوں بیٹے (جڑواں بھائی) ہیں۔ جہاں تک سید یوسف رضا گیلانی کے ”نانکے“ خاندان کا تعلق ہے وہاں تو ٹبر پال سکیم کے ساتھ ٹبر مٹرھاﺅ منصوبے پر برسوں سے عمل ہو رہا ہے۔ کسی زمانہ میں سید یوسف رضا گیلانی کے نانا مخدوم الملک میراں کے ایک داماد مخدوم سید علمدار حسین گیلانی (سید یوسف رضا گیلانی کے والد محترم) اکیلے ہی سیاست میں ہوا کرتے تھے۔ مخدوم الملک مرحوم کے دوسرے داماد پیر پگاڑہ سید علی مردان مرحوم تھے جبکہ موجودہ پیر پگاڑہ مسلم لیگ (ف) کے مرکزی صدر ہیں۔ ان کا ایک بھائی سندھ کی صوبائی کابینہ میں وزیر بیان کئے جاتے ہیں۔ اس طرح موجودہ گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود کے والد گرامی مخدوم سید حسن محمود نے ساری عمر سیاست میں گزار دی وہ کئی بار مختلف درجوں کے وزیر اور بہاولپور صوبہ کے وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں۔ مخدوم سید احمد محمود بھی جب سے سیاست میں بالغ ہوئے ہیں کبھی قومی اور کبھی صوبائی اسمبلی کے رکن بننے کے علاوہ وزارت کے بھی مزے لوٹے، اب وہ رکن پنجاب اسمبلی تھے جبکہ وہ قومی اسمبلی کی نشست کے انتخاب میں صاحبزادہ حامد سعید کاظمی کے ہاتھوں ہار گئے تھے۔ سنا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم بننے میں ان کے ماموں زاد سید احمد محمود کا کردار شامل تھا۔ جبکہ ان کے گورنر بننے میں سید یوسف رضا گیلانی کا ہاتھ ہے۔ بہاولپور کے معروف گردیزی خاندان کے سید تسنیم گردیزی بھی سید احمد محمود کے قریبی رشتہ دار ہیں جبکہ جہانگیر ترین جو ملتان یا لودھراں اپنے آبائی علاقے کی بجائے مخدوم سید احمد محمود کے نزدیکی رشتہ دار ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سید احمد نے اپنی صاحبزادی کی نسبت مخدوم شاہ محمود قریشی کے بیٹے ترین قریشی سے طے کر دی ہے۔ یہاں کچھ صورت حال یوں بنی ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شاہ محمود قریبی کے بزرگوں میں کافی عرصہ تک سیاسی چپقلش ہو رہی تھی۔ پھر سید یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی یکے بعد دیگرے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان دونوں کو پیپلز پارٹی میں مرکزی عہدوں سے نوازا تھا۔ مگر وہ درون خانہ ایک دوسر کے خلاف ہی سنائی دیے گئے تھے۔ ایک ایسا موڑ آ گیا ہے کہ مخدوم سید احمد محمود نے مخدوم شاہ محمود قریشی کے گھر اپنی صاحبزادی کا رشتہ طے کر دیا ہے۔ یوں مخدوم شاہ محمود قریشی اور سید یوسف رضا گیلانی آپس میں رشتہ دار بن جانے کے باوجود سیاسی طور پر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہی رہیں گے۔ یہی حال مخدوم جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی کا ہے۔ وہ دونوں بطاہر تحریک انصاف میں ایک ساتھ ہیں لیکن ان کے دل شاید برسوں تک بہت دور ہی رہیں گے۔ بالفرض آئندہ حکومت مسلم لیگ ن کی آئے گی تب بھی چودھری برادران وہاں وزارت حاصل کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ بہرحال ان کی ٹبر پال سکیم سو فیصد کامیاب چلی آ رہی ہے۔ خدا انہیں ”نظربد“ سے محفوظ فرمائے۔