ٹی وی ٹاک شوز میں لیڈروں کی بد حواسیاں

04 فروری 2013
 ٹی وی ٹاک شوز میں لیڈروں کی بد حواسیاں


تحریک انصاف پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی تاریخ میں ایک عجیب و غریب اضافہ ہے۔ اس میں بھانت بھانت کے لوگ شامل ہیں اور آہستہ آہستہ یہ پارٹی تحریک کی بجائے ایک کھچڑی بنتی جا رہی ہے۔ اس کھچڑی کے اجزاءسے اس کے اپنے بھی واقف نہیں۔ قول و فعل میں تضاد تو ایک طرف مسئلے کی نوعیت سے ہی آگاہ نہیں۔ زیادہ تر گزارہ ہوائی فائرنگ پر ہے۔ مینارِ پاکستان پر کامیاب جلسے کے بعد یہ جماعت مسلسل پستی اور ناکامی کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور یہ پستی ہر سطح پر موجود ہے۔ اس جماعت کو سب سے زیادہ نقصان اس کے ان رہنماﺅں نے پہنچایا ہے جو قائد ِ جماعت کے رشتہ دار ہیں یعنی امان اللہ خان نیازی اور حفیظ اللہ خان نیازی۔ عمر کا بڑا حصہ مسلم لیگ (ن) کا حصہ رہنے کے بعد اب اس میں کیڑے نکالنا ان کا فعل رہ گیا ہے۔ ٹی وی پر ان کی گالی گلوچ اور غیر منطقی گفتگو سن کر صاحب ِ علم لوگ عمران کی قسمت پر افسوس کرنے لگتے ہیں۔ عمران خان جو ایک غیر متنازعہ شخصیت تھی سیاست اور ان دو بھائیوں کے ساتھ نے اسے ہر خاص و عام کےلئے متنازعہ کر دیا ہے۔ کیوں کہ تحریک انصاف میں مشاورت اور معاملہ فہمی کا رواج نہیں۔ خان صاحب صبح کوئی بیان دیتے ہیں اور شام کو کوئی اور۔ صبح ایک پریس کانفرنس میں کسی ایشو پر اتفاق رائے کا اعلان کیا جاتا ہے اور شام کو اس سے انحراف کرنے کا بیان سامنے آ جاتا ہے۔ ان ساری باتوں نے خان صاحب کی ساکھ کو خاصا متاثر کیا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ حفیظ اللہ نیازی اور امان اللہ نیازی کا ہے جو گھر کی پارٹی اور گھر کے سربراہ کو کسی خاطر نہ لاتے ہوئے من مانی کرتے پھر رہے ہیں۔ ٹی وی مذاکروں میں ، اخبارات میں اور محافل میں وہ اپنے مخالفوں پر نہ صرف کیچڑ اچھالتے ہیں بلکہ ان کی منطقی باتوں کا جواب نہ دینے پر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں جس سے سیاست میں ایک عجیب منفی روایت جنم لینے لگی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی خوش فہمیاں بہت بڑی ہیں اور اپنی خوش فہمیوں پر ان کا یقین اس حد تک واثق ہے کہ وہ حقیقی اعداد و شمار کو جھٹلا کر خود کو ثابت کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خواہش بلکہ ڈیمانڈ یہ ہے کہ جس طرح لوگ کرکٹر عمران خان کا کھیل ذوق و شوق سے دیکھتے تھے اسی طرح وہ صرف اسے ہی ووٹ دیں۔ اپنی توقعات کو سچ ثابت کرنے کے لئے وہ بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ کھیل اور سیاست دو مختلف شعبے ہیں اور دونوں کی پسندیدگی میں بھی خاصا فرق ہے لیکن ان دونوں بھائیوں کو یہ زعم ہے کہ تمام نوجوان اندھے، بہرے اور گونگے ہیں اور وہ صرف ایک کرکٹر کو ہی منتخب کریں گے۔ حالانکہ جس قائد کےلئے وہ ووٹ مانگ رہے ہیں وہ بھی اب خاصے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں۔
سب سے بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے گھریلو رہنماﺅں کا تضحیک آمیز لہجہ اب بلیک میلنگ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اگر کسی پارٹی کا کارکن یا کوئی اور فرد ان کے کسی فراڈ، بددیانتی یا لاقانونیت کے بارے میں بات کرے تو وہ اپنی صفائی پیش کرنے اور حقائق سامنے لانے کی بجائے اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اس ملک کے سب لوگ بشمول سرکاری ملازمین اپنے فرائض چھوڑ کر ان کے گن گاتے نظر آئیں اور جو لوگ ایسا نہ کریں انہیں جھوٹی دھمکیاں دے کر بلیک میل کیا جائے لیکن بھلا ہو میاں شہباز شریف کا جنہوں نے پنجاب میں ایک ایسی نیک نام بیوروکریسی کا انتخاب کیا ہے جن پر دوست کیا دشمن بھی انگلی نہیں اٹھا سکتے لیکن ان بھائیوں کو یہ بیوروکریسی اچھی نہیں لگتی کیوں کہ یہ قانون اور ضابطے کے مطابق دیانت داری سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کو دیانت داری اور انصاف سے غرض نہیں بلکہ اس بات سے مطلب ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور وہ تبدیلی جو اب انہیں بھی نظر نہیں آتی اس کا واویلا کیا جائے۔ موروثی سیاست کو طعنہ بنانے والے تحریک انصاف کے گھریلو رہنماﺅں سے گزارش ہے کہ وہ کبھی اپنے گریباں میں ضرور جھانک لیا کریں کیوں کہ ان کے بیانات ان لوگوں کی نیک نامی پر اثر انداز نہیں ہو سکتے ہیں جن کا ہر فعل آئینے کی طرح صاف ہے۔ مثل مشہور ہے ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔