پنجاب کی تقسیم۔۔۔ پس پردہ عزائم کیا ہیں؟

04 فروری 2013
پنجاب کی تقسیم۔۔۔ پس پردہ عزائم کیا ہیں؟


بہاولپور جنوبی پنجاب کے نام سے صوبہ پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن کی سفارشات نے قومی سیاست میں ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے صوبہ بہاولپور اور صوبہ جنوبی پنجاب قائم کرنے کے حوالے سے قراردادیں منظور کر رکھی ہیں لیکن ان قراردادوں میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ پنجاب میں نیا صوبہ بی جے پی کے نام سے بنایا جائے گا۔ صوبائی حیثیت کے مطالبے کے لئے پنجاب کا کیس مجوزہ صوبہ جنوبی پنجاب سے بالکل مختلف ہے۔ بہاولپور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں پارلیمانی کمیشن کی طرف سے بہاولپور ڈویژن کے تینوں اضلاع کو جنوبی پنجاب کے دوسرے اضلاع کے ساتھ نئے صوبے میں شامل کرنے کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بہاولپور صوبہ کی بحالی کی تحریک 1970ءسے مسلسل چل رہی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے ریاست بہاولپور صوبہ پنجاب کا حصہ نہیں تھی۔ 1956ءکے آئین میں ون یونٹ کا قیام عمل میں آیا تو مغربی پاکستان کے دوسرے صوبوں سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب کے ساتھ ریاست بہاولپور بھی صوبہ مغربی پاکستان کا حصہ بن گئی۔ 1962ءکے آئین میں بھی ون یونٹ قائم رہا۔ پاکستان کی نئی نسل شاید ”ون یونٹ“ اور ”پیریٹی“ کی اصطلاحات سے ناآشنا ہے۔ 1956ءاور 1962ءکے دساتیر میں ملک کو پارلیمانی لحاظ سے برابر حیثیت دینے کے لئے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے نام سے دو صوبوں کی شکل دی گئی تھی۔ مغربی پاکستان کے قیام پاکستان کے وقت کے چاروں صوبوں اور ریاست بہاولپور کو ملا کر مغربی پاکستان کے نام سے ”ون یونٹ“ قائم کیا گیا تھا اور چونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تھی لہٰذا پارلیمنٹ میں یکساں نمائندگی کے لئے یہ طے کیا گیا تھا کہ اقتدار کے ایوانوں میں دونوں صوبوں کی نشستیں برابر ہوں گی۔ اس برابری کو ”پیریٹی“ کا نام دیا گیا تھا۔ جنرل یحییٰ خان نے جب 1962ءکا آئین توڑ کر ون یونٹ اور پیریٹی ختم کی تو چاروں صوبوں کو تو بحال کر دیا گیا لیکن بہاولپور کو الگ صوبے کے طور پر بحال کرنے کی بجائے اسے صوبہ پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ ان حالات میں بہاولپور کو پنجاب سے الگ کر کے پانچویں صوبے کا مقام دینے کا ایک تاریخی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔ ملک کے موجودہ معاشی حالات میں پنجاب کو تین یا چار صوبوں میں تقسیم کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ قومی خزانے کا ایک بڑا حصہ نئے صوبوں میں گورنر ہا¶س، وزیراعلیٰ ہا¶س، صوبائی اسمبلیوں کی عمارتیں، ارکان اسمبلی کے لئے رہائشی لاجز، وزراءکے لئے رہائش گاہیں اور دفاتر تعمیر کرنے کے مراحل سے بھی نبردآزما ہونا ہو گا لہٰذا ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی باتیں ایسے ملک میں بالکل بھی قابل عمل نہیں ہو سکتیں جس ملک کو اس کے حکمرانوں نے پانچ سالوں تک نہایت بے دردی کے ساتھ لوٹا ہو۔ جو کرپشن پیپلزپارٹی کے اس دور میں ہو چکی ہے اور ملک کو جس بری طرح بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا مقروض بنا دیا گیا ہے اور جس طرح ڈالر اور دیگر یورپی ممالک کی کرنسی کے مقابلے میں پاکستان کی کرنسی کی قدر میں گذشتہ پانچ برسوں میں کمی آئی ہے۔ ان حالات میں نئی آنے والی حکومت کے لئے موجودہ حکمرانوں کے لئے ہوئے قرضوں کا سود ادا کرنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ نئے صوبوں کے دارالحکومتوں میں اتنی زیادہ عمارتوں کی تعمیر کس طرح ممکن ہو گی۔ پارلیمانی کمیشن نے سابقہ ریاست بہاولپور کو ملک کے پانچویں صوبے کے طور پر بحال کرنے کی پنجاب اسمبلی کی قرارداد سے تجاوز کرتے ہوئے بہاولپور کے ساتھ جنوبی پنجاب کا لاحقہ بھی لگا دیا ہے اور بہاولپور ڈویژن کے تین اضلاع کے ساتھ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنوں کے تین تین اضلاع سمیت سرگودھا ڈویژن کے اضلاع میانوالی اور بھکر کو بھی مجوزہ صوبے میں شامل کرنے کی سفارش کر کے ملک کو نئے انتخابات سے چند ماہ پہلے ایک نئے سیاسی بحران سے دوچار کر دیا ہے اور لگتا ہے کہ حکمران اتحاد میں ایسے عناصر موجود ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ 2013ءکے عام انتخابات وقت پر ہو سکیں لہٰذا اس مرحلے پر نئے صوبوں کے قیام کا شوشہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ہنگامے برپا کر کے اسٹیبلشمنٹ کو یہ جواز فراہم کرنے کیش عوری کوشش ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے دو اڑھائی سال تک ملک میں کوئی ایسا نگران سیٹ اپ قائم کر دے جو ملک کو ان مسائل سے نکالنے کی کوشش میں عوام کی نظروں میں غیرجمہوری ہونے کی بناءپر موضوع بحث اور ہدف تنقید بنا رہے اور اس طرح پیپلزپارٹی کو ایک مرتبہ پھر جمہوریت کی بحالی کے نام پر اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کرنے کا موقع مل جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہبازشریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں ایک نہیں دو صوبے بننے چاہیں۔ پنجاب اسمبلی نے جنوبی پنجاب کے نام سے ملتان ڈویژن اور ڈی جی خان کے چھ اضلاع ملتان، خانیوال، وہاڑی، ڈی جی خان، راجن پور اور مظفرگڑھ پر مشتمل ایک نیا صوبہ بنانے کی قرارداد بھی منظور کر رکھی ہے۔ یہ قرارداد، ق لیگ اور ایم کیو ایم کے دبا¶ پر ان اضلاع میں مسلم لیگ(ن) کے خلاف سرائیکی صوبہ کی مخالفت کا تاثر زائل کرنے کےلئے منظور کی گئی تھی۔ پارلیمانی کمیشن نے مجوزہ صوبہ ”بہاولپور جنوبی پنجاب “ میں پنجاب اسمبلی کی کسی قرارداد کے بغیر ضلع میانوالی اور ضلع بھکر کے علاقے بھی شامل کر دیئے ہیں اور بہاولپور میں گورنرہا¶س اور ملتان میں صوبائی اسمبلی وزیراعلیٰ ہا¶س اور صوبائی سیکرٹریٹ قائم کرنے کی تجویز دی ہے گویا مجوزہ صوبہ پنجاب اسمبلی کی کسی بھی قرارداد کا آئینہ دار نہیں ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کا مقصد بالعموم یہ ہوتا ہے کہ صوبے کے تمام علاقوں کے لئے صوبائی دارالحکومت بہت زیادہ دور نہ ہو۔ میانوالی اور بھکر کو نئے صوبے میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ انہیں لاہور کی بجائے صوبائی دارالحکومت بہاولپور اور ملتان میں اپنے مسائل کے لئے آنا جانا پڑے گا۔ پارلیمانی کمیشن کے چیئرمین فرحت اللہ بابر جو صدر زرداری کے پرنسپل آفیسر ہیں اگر انہیں میانوالی کا محل وقوع معلوم نہیں ہے تو وہ نئے صوبے میں میانوالی کو شامل کرنے کے خلاف میانوالی میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کو دیکھنے میانوالی چلے جائیں۔ میانوالی کو صوبہ جنوبی پنجاب میں شامل کرنے پر پارلیمانی کمیشن کا اصرار کیوں سامنے آیا۔ دراصل موجودہ حکمران یہ نہیں چاہتے کہ دریائے سندھ کا کوئی حصہ سنٹرل پنجاب میں شامل رہے۔ زرداری پارٹی نے اقتدار میں آتے ہیں موجودہ وزیراعظم راجہ پرویزاشرف (جو اس وقت وفاقی وزیر بجلی و پانی تھے) کے ذریعہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا اعلان کرایا تھا۔ نئے صوبوں کے قیام کے ذریعے میانوالی کو بہاولپور جنوبی پنجاب میں شامل کرنے کی تجویز دے کر ”کالاباغ ڈیم“ کے مستقبل کو پنجاب کے ہاتھوں سے چھیننے کی مساعی کی گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ خود ملتان میں ہنگامے ہو رہے ہیں کہ وہاں کے لوگ خود کو لاہور سے الگ نہیں کرنا چاہیے۔ فی زمانہ جبکہ ملک میں موٹروے کا جال پھیلایا جا رہا ہے۔ ملتان اور لاہور کا فیصلہ بہت حد تک سمٹ چکا ہے اور مزید سمٹ جانے کا امکان ہے۔ سرائیکی صوبے کے قیام کا نعرہ سب سے پہلے تاج محمدلنگاہ نے لگایا تھا۔ وہ 1970ءمیں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کی وفاقی کابینہ میں شامل تھے تو پھر کیوں بھٹو نے 1973ءکے آئین میں سرائیکستان صوبہ کے قیام کو کیوں شامل نہیں کرایا گیا۔ اس وقت وسطی پنجاب کے سینکڑوں ہزاروں خاندان بھکر، راجن پور، مظفرگڑھ، رحیم یار خاں، بہاولپور، بہاولنگر وغیرہ اضلاع میں نقل مکانی کر چکے ہیں اور وسطی پنجاب میں اپنی رشتے داریوں کی وجہ سے وہ پنجاب کی تقسیم کے بالکل بھی حق میں نہیں ہیں۔ ق لیگ کی قیادت نے میانوالی اور بھکر کو نئے صوبہ میں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ چوہدری برادران اندرون خانہ پنجاب کی تقسیم نہیں چاہتے۔ انہوں نے سرائیکی صوبہ کے قیام کی حمایت محض تخت لاہور کے موجودہ حکمرانوں کی سیاسی مخالفت میں اور انہیں پنجاب کی تقسیم میں حائل ہونے پر سرائیکی علاقوں میں ان کی مخالفت کا رجحان بیدار کرنے کے لئے کی تھی۔ وہ نئے صوبہ کے قیام کے لئے بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی میں بعض گیلانی اور مخدوم البتہ اس کوشش میں ہیں کہ اگر وہ بہاولپور اور ملتان وغیرہ کو پنجاب سے الگ کر لیں تو ان کی نسلوں کو ان نئے صوبوں میں بار بار اقتدار کا کھیل کھیلنے اور سرائیکستان میں لوٹ مار کرنے کے مواقع میسر آتے رہیں گے جبکہ ایم کیو ایم کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی طرح ملک کے کسی صوبے کو دو یا زیادہ صوبوں میں تقسیم کرایا جائے تاکہ اس کو جواز بنا کر بعد میں وہ سندھ سے کراچی کو کاٹنے اور کراچی یا جناح پور کے نام سے الگ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔ الطاف حسین نے اپنی جس تقریر میں قائداعظم کو پاکستانی نہ ہونے کی بات کی تھی اس میں انہوں نے ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کی بات کر کے اس کے ردعمل میں کراچی کو صوبہ بنانے کی بات اٹھانے کا مطالبہ بھی کر دیا تھا۔ زرداری ٹولہ پنجاب کی تقسیم کراتے ہوئے سوچ لئے۔ آج پنجاب تقسیم ہوا تو کل کو سندھ بھی تقسیم ہو گا۔ کراچی بھی صوبہ بنے گا۔ ہزارہ بھی صوبہ بنے گا اور فاٹا بھی صوبائی تشخص حاصل کرنے کے لئے صوبہ خیبر کے نام سے موجودہ صوبہ پی کے سے الگ ہو جائے گا اور پی کے محض ”پختونخواہ“ بن کر رہ جائے گا۔